leaders

پیمبرا نہ لب و لہجہ کا غیاب

راشد شاز

تاریخ کے آخری پیغمبر محمد رسول اللہ کی حیثیت کافۃ للناس بشیرا و نذیر ا کی ہے۔ انسانی تاریخ کا یہ آخری رسول جب تک اس سرزمین پر موجود رہا ،پوری نوع انسانی کو فلاح و کامرانی کی طرف بلاتا رہا۔ محمد رسول اللہ کی دعوت میں ایک بین الاقوامی اپیل تھی۔ تب اسلام کا مطلب ایک ایسی دعوت سمجھا جا تا تھا، جو انسانوں کو انسانوں کی غلامی سے آزاد کرتی ۔بجھے دل اور شکستہ قلوب اسلام کی پناہ گاہ میں سکون و عافیت کا سامان پاتے۔ یہ اسی مسیحانہ آواز کا اثر تھا کہ جزیرۃ العرب سے اٹھنے والی اس آواز نے غیر اقوام کی صالح روحوں کو بھی بہت جلد اپنی جانب متوجہ کر لیا۔ صہیب رومی ہوں یا بلال حبشی، سلمان فارسی ہوں یا دیگر غیر عرب افراد ،ان سبھوں کو اسلام کی دعوت میں نجات و رحمت کا اتناہی امکان دکھتا تھا جتناکہ عرب ثقافت کے مقامی رہنماؤں مثلا ابو بکر و عمر اپنے لئے اس نوید مسیحائی میں امکانات وا پا تے تھے ۔ یہ تھی وہ پیمبرانہ آواز جو رسول اللہ کی زبان مبارک سے بلند ہوئی اور جس نے دیکھتے دیکھتے تمام اقوام عالم کو اپنی جانب متوجہ کر لیا۔
آج گوکہ محمدؐ رسول اللہ کے متبعین کی تعداد ۶ء ۱ بلین سے تجاوزکر گئی ہے۔ اسلام ایک عالمی مذہب کے طور پر جانا جاتا ہے لیکن افسوس کہ کسی گوشے سے وہ پیمبرانہ آواز سنائی نہیں دیتی۔ دنیا اس نوید مسیحائی سے محروم ہے۔ مسلمانوں کے تمام ہی بین الاقوامی فورم خواہ وہ تنظیم اسلامی کانفرنس ہو یا رابطہ عالم اسلامی ، عرب لیگ ہو یا عالم اسلام کی دوسری معتبر تنظیمیں ہر جگہ اگر کوئی بحث جاری ہے تو وہ اس بات پر کہ مسلمانوں کو موجودہ معاشی ، سیاسی، اور تعلیمی پستی سے کیسے نجات دلائی جائے۔ اقوام عالم کے درمیان مسلم قوم کا وقار کس طرح بلند ہو۔ رہی یہ بات کہ عالم انسانیت کودر پیش بحران مثلاً ماحولیات کی تباہ کاری، اسلحوں کی دوڑ، ایٹمی جنگوں کے خطرات ، استحصالی سرمایہ دارانہ نظام کے کستے شکنجے ، دولت کا چند ہاتھوں میں ارتکاز ، بین الاقوامی کمپنیوں کی اجارہ داری ، آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کا نظام استحصال اور گلوبلائزیشن کے ذریعہ پوری دنیا پر کستے شکنجے ، جیسے خطرات کے سلسلے میں مسلم دنیا سے کوئی ایسی مؤثر آواز بلند نہیں ہو رہی ہے جس پر دنیا کے کان کھڑے ہوسکیں، یا جس کے سبب دیگر اقوام کے یہاں یہ تاثر پیدا ہوکہ ہم اپنی ناک سے آگے بھی دیکھتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ آج اسلام ایک ایسے نظریہ کے طور پر سامنے آیا ہے ، جوصرف مسلم فرقہ کے مفادات کا تحفظ کر سکتا ہے، بھلا کسی ایسے اسلام میں دیگر اقوام کے لئے کیا دلچسپی ہوسکتی ہے۔ اسلام کے اس فرقہ وارانہ ایڈیشن میں جسے قومی مسلمانوں نے گذشتہ چند صدیوں میں تشکیل دیا ہے ، دیگر اقوام کے لئے نہ صرف یہ کہ کوئی کشش نہیں رہ گئی ہے بلکہ سچ تو یہ ہے کہ وہ اسلام کو ایک ایسے نظریہ کے طور پر دیکھتی ہے جسے اگر کامیابی مل گئی تو ان کا مستقبل تار تار ہوجائے گا۔ اقوام عالم پر مغربی اقوام کی موجودہ سبقت یکسر ختم ہوجائے گی۔ حالیہ برسوں میں امریکہ کی قیادت میں دہشت گردی کے خلاف جو مہم جاری ہے اس کے پیچھے در اصل قومی اسلام سے متعلق یہی وہ اندیشے ہیں جس نے مغربی دانش وروں کو تہذیبوں کے مابین جنگ کا بگل بجانے پر آمادہ کیا ہے۔
لیکن حقیقت صرف اتنی نہیں ، اس مسئلہ پر ایک دوسرے نقطہ نظر سے بھی غور کر نے کی ضرورت ہے۔ حالیہ برسوں میں کمیونزم کے زوال اور سرمایہ دارانہ جمہوریت کی کامیابی نے مغرب میں مابعد تاریخ post-era sensibilities)) کے احساسات کو عام کیا ہے۔
مغربی دانشور یہ سمجھنے لگے ہیں کہ ایک طویل کشمکش کے بعدبالآخر جمہوریت کی فتح نے انسانی تاریخ کو اس کی منتہیٰ تک پہونچا دیا ہے ۔ آگے کی معنویت کے سلسلے میں ان کے ذہنوں میں ایک پر اسرار خلاپایاجاتا ہے۔ دوسری طرف اسلامی حلقوں کی جانب سے مزاحمت کا سلسلہ ابھی پوری طرح رکا نہیں ہے۔ اس صورت حال نے مغرب کو شاید یہ سمجھنے پر مجبور کیا ہے کہ مزاحمت کی اس آخری آواز کا قلع قمع کئے بغیرجمہوریت کو مکمل اور حتمی فتح نہیں دلا ئی جاسکتی۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم حلقوں سے اٹھنے والی نسبتاً کمزور اور نحیف آوازوں کو بھی مغرب ایک بڑے خطرے کے طور پر دیکھتا ہے اور بسا اوقات کمزور مزاحمت کو بھی ذرائع ابلاغ اس طرح دکھاتے ہیں گویا اگر اس سے فی الفور نہ نپٹا گیا تو تمام اقوام عالم کا سکون خطرے میں پڑ جائے گا۔ یہ سچ ہے کہ اسلام اور مغرب کی اس کشمکش میں ذرائع ابلاغ دانستہ طور پر اسلام کی شبیہ داغدار کرنے کی کوشش کر تے رہتے ہیں۔ البتہ اس پورے منظرنامہ میں جو چیز سب سے زیادہ تشویشناک ہے وہ یہ کہ مسلمانوں کی طرف سے اٹھنے والی ان آوازوں میں کہیں بھی وہ پیمبرانہ وسعت دکھائی نہیں دیتی جو ابتدائی عہد میں مسلمانوں کا خاصہ ہوا کر تی تھی۔ اگر مسلم اہل فکر اور علمائے اسلام اپنی تمام تر توجہ اس بات پر صرف کر تے رہے کہ مسلمانوں کاقومی دبدبہ کس طرح قائم ہو،فرق�ۂمسلم کو اقوام عالم میں کس طرح باوقار مقام عطا کیا جائے اور اگر آخری نبی کے متبعین کے حلقوں سے عام انسانیت کی فلاح و بہبود کے لئے ہانکے پکارے آواز لگانے والے معدو م ہوجائیں تو پھر دنیا کو پیمبرانہ آواز کہاں سے سنائی دے گی۔جب تک اسلام کی دعوت لوگوں کو ایک خدا کی طرف بلاتی رہی، اسی خدا کی طرف جو صرف مسلمانوں کا ہی نہیں بلکہ تمام اقوام عالم کا رب ہے ۔ اسلام کی دعوت ایک بین الاقوامی صداقت کا مظہرتھی لیکن جب سے اسلام کو مسلمانوں نے قومی افتخار کے پروجیکٹ میں تبدیل کر دیا اسلام عبودیت کے بجائے محض ایک قومی شناخت بن کر رہ گیا، ایک ایسی قومی شناخت جس میں دوسر وں کے لئے کوئی کشش باقی نہیں رہ گئی۔
اسلام کے نظر ی قالب میں تبدیلی یا انحراف کا یہ عمل عہد عباسی کے ابتدائی ایام میں راہ پانے لگا تھاجب بعض سیاسی عوامل کے زیر اثر ہمارے فقہاء اسلام کو ایک آفاقی پیمبرانہ دعوت کے بجائے مسلم سلطنت کی نظری بنیاد کے طورپر دیکھنے لگے تھے۔ اسی عہد میں دنیا کو دا رالاسلام اور دارالکفر کی اصطلاحوں میں دیکھنے کا رجحان تشکیل پایا اور یہ بحث بھی شدو مد کے ساتھ سر اٹھانے لگی کہ مسلمان ہونے کے لئے لازم عقائد کیا کیا ہونے چاہئے۔ خلافت منہاج النبوۃ سے منحرف ہوچکی تھی۔ اولوالأمر کے منصب پر ملوک و سلاطین کی حکمرانی نے اسلام کو ایک ایسی نظری قوت کے طور پر پیش کیاجو مسلم سلطنت کی توسیع کے لئے نظری بنیاد فراہم کر تا ہو۔ اس عہد میں نہ صرف یہ کہ یہ مسئلہ زیر بحث آیا کہ مسلمان کو ن ہے بلکہ فقہا ء نے جمہور مسلمانوں کے لئے اہل سنت و الجماعت کے نام سے عقائد کا ایک بنیادی محضر بھی تیار کر ڈالا ۔ خلق قرآن کی بحث صرف فقہی یا فنی موشگا فی نہیں تھی بلکہ اس کے ذریعہ سرکاری علماء کو اس بات کا موقع ملاکہ وہ اسلام کی تشریح و تعبیر پر اپنا کنڑول مستحکم کر لیں اور اس طرح اسلام کو سلطنت کی خدمت پرمامور کرنے کی راہ ہموار ہوجائے۔ گوکہ اس عہد میں ابن حنبل اور دیگر اہل حق اس مہم میں پوشیدہ خطروں کو بھانپ گئے اور اس کے خلاف حتی المقدور مزاحمت بھی کی لیکن ان تمام کوششوں کے باوجود آفاقی اسلام کو مسلمانوں کے ثقافتی ورثہ میں محدود کر نے سے نہ بچایا جاسکا ۔ اسلام ایک پیمبرانہ دعوت کے بجائے مسلم ریاست کے نظری حلیف کے طورپر سامنے آیا اور علماء انبیائی دعوت کے امین بننے کے بجائے اسی منحرف ریاست کے شیخ الاسلام بننے پر قانع ہوگئے۔ قرآن جو کبھی تمام عالم انسانیت کے لئے کتاب بشارت سمجھی جاتی تھی اب صرف مسلمانوں کی مذہبی کتاب بن کر رہ گئی حتی کہ وہ تمام قرآنی آیا ت جن میں اہل کتاب اور اہل ایمان کے دیگر طائفوں کے لئے (لاخوف علیہم ولا ہم یحزنون) کی بشارت دی گئی تھی ہمارے فقہا ء نے اپنی فقہی موشگافیوں کے زیر اثر انہیں منسوخ کر ڈالا اور نجات سے متعلق ان نازک اور حساس موضوع پر فیصلہ کر نے بیٹھ گئے جسے خدانے اپنے خصوصی دائرہ اختیار میں رکھا تھا اور جس کے بارے میں قرآن کا ارشاد تھا (ان اللہ یفصل بینہم یوم القیامۃ)۔
قرآن کلا م اللہ ہے تو کن معنوں میں ؟کیا اللہ نے محمدؐ سے بزبان عربی کلام کیا؟ یا اس نے اپنا پیغام محض اپنے رسول کے قلب پر نازل کیا ۔ خدا کا کلام جسے انسانی زبان بیان کر نے سے قاصر ہے ایک انسانی زبان میں کس طرح ظہور پذیر ہوا ؟ کیا قرآن کا کلام اللہ ہونااسی معنوں میں ہے جس طرح حضرت عیسیٰ کو کلمۃ اللہ کہا جاتا ہے یاجسے عیسائی لٹریچر میں Logosسے تعبیر کر تے ہیں ؟ یہ وہ سوالا ت ہیں جن کا براہ راست تعلق اسلام کے اس ایڈیشن سے ہے جو عہد عباسی میں تشکیل پایاتھا اور جوسلطنت کے سرکاری نظریہ کے طورپر معروف ہو ا۔ اس میں شبہ نہیں کہ محمد رسول اللہ پر جب خدا نے اپنی وحی نازل کی تووہ جزیرۃ العرب کا ایک تاریخی منظرنامہ تھالیکن یہ بھی ایک بدیہی حقیقت ہے کہ آپ کی حیثیت رسول عربی کے بجائے ایک عالمی پیغمبر (کافۃ للناس بشیرا و نذیرا) کی ہے اور اسی لئے قرآن متبعین محمدؐ کو اس بات کی تلقین کر تا ہے کہ وہ قومی شناخت قائم کرنے کے بجائے نظری شناخت کے حامل ہوں۔ لیکن (کونوا ھودا او نصاریٰ قل بل ملۃ ابراھیم حنیفا) پر از حد اصرار کے باوجود صبغۃ اللہ اختیار کرنے کی طرف ہماری توجہ کم ہی گئی۔ لسانی ثقافتی شناخت کے بجائے صبغۃ اللہ پر اصرار اور (کونوا ربانیین) کی دعوت اس بات سے عبارت تھی کہ محمد رسول اللہ کے متبعین نہ تو کسی مقامی ثقافت کے اسیر ہوں گے اور نہ ہی کوئی جغرافیائی یا لسانی شناخت ان کا طرۂ امتیاز ہوگی۔ لیکن عملاً یہ ہوا کہ عباسی فقہا ء کے زیر اثر اسلام کی آفاقی دعوت عروبہ کی سرحدوں میں محدود ہو گئی۔ آج بھی یہ سوال اپنی جگہ باقی ہے کہ کیا عر ب ثقافت کے بغیر اسلام کا کوئی قالب تشکیل پا سکتا ہے یا یہ کہ قرآن مجید کے معانی عربی زبان کے لغوی اور جاہلی شعری استعمال سے ماوراء سمجھے جاسکتے ہیں یا نہیں ۔
بالفاظ دیگر کیا یہ ممکن ہے کہ قرآن مجید کی تشریح و تعبیر میں عربی زبان کی وجہ سے عرب اقوام کو ہمیشہ فوقیت کا حامل بتایا جائے یا غیر عرب اقوام کے لئے بھی یہ ممکن ہے کہ وہ لسانی موشگافیوں سے ماوراء کتاب ہدایت کی حیثیت سے اس پر اتنا ہی حق جتائیں۔ یہ وہ سوالات ہیں جس نے ماضی میں مسلم اہل فکر کو قدرے حیرانگی اور تذبذب میں مبتلا رکھا ہے۔ مثال کے طور پر جب محمد اقبال نے خلافت عثمانی کے زوال کے بعد اس امیدکا اظہار کیا کہ اب سرکاری تعبیری نظام کے معدو م ہوجانے سے ایک ایسے اسلام کی بازیافت ممکن ہو سکے گی جو عرب ثقافت کی چھاپ سے آزادہو تو شاید ان کے ذہن میں اسی آفاقی اسلام کا تصور تھا جو اٹھا تو عرب کی سرزمین سے تھا لیکن اس میں غیر عرب اقوام کے لئے یکساں نجات کی بشارت سنائی دیتی تھی۔اقبال کی توقع کے برعکس ہمارے عہد میں اسلام کے ایک ایسے آفاقی ایڈیشن کی بازیافت، جو عربیت اور دوسرے ثقافتی قالب سے ماوراء ہو، اب شاید اتنی آسان نہیں رہی۔ ہمارے عہد میں زبان کے سلسلے میں بعض ایسے نظریے وضع ہوئے ہیں جو یہ بتا تے ہیں کہ کسی متن میں وہی کچھ نہیں ہوتا جس کا اظہار الفاظ کرتے ہیں کہ ہرقاری کے دل ودماغ میں الفاظ کی جہتیں اور معانی کی پر ت مختلف ہوتی ہے۔گویا پڑھنے والا صرف متن ہی نہیں پڑھتا بلکہ اپنے رجحانات کو بھی متن میں پڑھنے کی کوشش کر تاہے اور یہ ایک ایسا غیر محسوس عمل ہے جس سے بچنا مشکل ہے۔
Deconstruction کی فلسفیانہ موشگافیوں نے ہمارے بعض مسلم اہل فکر کو غرطۂ حیرت میں ڈال د یا ہے جس سے اس بات کا اندیشہ پیدا ہو چلا ہے کہ متن کو اپنے اپنے ذہنی رجحانات کے زیراثر پڑھنے کی یہ لےَ ہمیں کہیں اس کے اصل پیغام سے ہی محروم نہ کر دے۔
معاصر علماء میں محمد ارکون اور نصرابوزید ان لوگوں میں سے ہیں جو وحی ربانی کی تشریح و تعبیر میں ان سوالات تک جا نکلے ہیں جن کا جواب انسانی عقل فراہم نہیں کر سکتی ۔ عہد رسول میں بھی جب پوچھنے والوں نے یہ پوچھا کہ خدا کس طرح وحی کا نزول اپنے پیغمبر پر کر تا ہے توا س بارے میں صرف اتنی بات کہی گئی کہ یہ امر ربی ہے ۔ گویا سوال کا یہ حصہ کہ قرآن مجید معانی اور متن ہر اعتبار سے کلام الٰہی ہے اسی پر انی بحث کو تازہ کرتا ہے جو خلق قرآن کے حوالے سے کبھی عہد عباسی میں ہمارے انتشارفکری کا سبب بنی تھی۔ بات یہ ہے کہ نزول وحی کا پورا عمل انسانی حیطۂ ادراک سے باہر ہے ۔یہ وہ ممنوع وادیا ں ہیں جن میں ہمارا داخلہ قرآن اور وحی کی تعبیر و تفہیم میں مد د کر نے کے بجائے ہمارے ہوش و حواس کو بری طرح مجروح کر دیتا ہے۔ ایک ایسے وثیقۂ وحی کو جو فی نفسہ لازوال ہو زمان و مکان کی قیود سے ماوراء سمجھنے کی کوشش مستحسن سمجھی جائے گی، البتہ انسان جو زمان ومکان کا قیدی ہے اس عمل سے پوری طرح عہدہ برآ نہیں ہوسکتا ۔ہم زیادہ سے زیادہ جو کر سکتے ہیں وہ یہ کہ نئے سیاق میں اس کتاب ہدایت کو از سرنو سمجھنے کی کوشش کریں اور معانی کی ان تہوں تک پہونچنے کی کوشش کریں جہاں ہمارے متقدمین بوجوہ پہونچنے سے قاصر رہے تھے ۔ قرآن بلاشبہ ایک لازوال وثیقۂ وحی ہے لیکن اس کے تمام ابعاد کی تفہیم کے لئے یہ ممکن نہیں کہ ہم عہد رسول کے زمان و مکان کے ابعاد سے صرف نظر کرسکیں ۔ age deconstruction کے معاصر مفکرین جن میں محمدارکون سرفہرست ہیں محض اس بات کی دعوت نہیں دے رہے ہیں کہ متن وحی کا نئے علوم مثلا Anthropology اور Sociologyکی روشنی میں مطالعہ کیا جائے بلکہ وہ اپنی سادہ لوحی میں ان ممنوع وادیوں میں جانکلے ہیں جہاں فرشتوں کے پر جلتے ہیں اور جس کا سید ھا سا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنی محدود دماغی ساخت کے ذریعہ وحی جیسے ماورائے ادراک عمل کو اپنے حیطۂ ادراک میں لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ارکون کے یہاں طریقہ ترسیل کو سمجھنے کی لمبی چوڑی تھکادینے والی بحثوں کے باوجود قاری کو جدید لسانیا تی نظریوں اور فیشن ایبل اصطلاحوں کے علاوہ کچھ اور ہا تھ نہیں آتا۔
عہد رسول میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں تھی جو طریقہ ترسیل کے عمل میں تاک جھانک کی نفسیات کا مظاہرہ کر تے ہوں ، جیسا کہ قرآن ہمیں بتاتا ہے ۔ پوچھنے والوں نے پوچھا (یسئلونک عن الروح) اے محمد وہ تجھ سے نزول وحی کی بابت پوچھتے ہیں۔ (قل الروح من امر ربی) کہہ دیجئے ترسیل وحی بس امرربی ہے، منشاء الٰہی ہے۔ (الاسراء:۵۸)۔
ایک دوسرے سیا ق میں قرآن نے ترسیل وحی کے تین طریقوں کا تذکر ہ کیا ہے لیکن وہاں بھی فی نفسہ اس طریقہ کی سریت سے پردہ نہیں اٹھا یا گیا ۔ شاید خد ا اس راز کو بندوں پر افشا کر نا نہیں چاہتا۔ یا نزول وحی کا یہ سارا عمل اتنا پیچید ہ ہے کہ انسانی عقل اس کا احاطہ نہیں کر سکتی اور یہ کیونکر نہ ہو خدا کے کلام کو جو ایک ایسی ہستی ہے جس کا کوئی شئے احاطہ نہیں کر سکتی، انسانی زبان میں ڈھالنا لامکان سے مکان کی طرف ایک ایسا سفر ہے جس کا احاطہ انسانی عقل کے بس کی بات نہیں ۔ سریت کے اس پردے کے پیچھے کیا ہے اس بارے میں ہم صرف اتنا کہہ سکتے ہیں کہ واللہ اعلم۔
قرآن مجید کی ایک ایسی تعبیرجو عرب تاریخی اور ثقافتی پس منظر سے ماوراء ہو لیکن ساتھ ہی ساتھ اس کا رشتہ زمانی اور مکانی طور پر عہد رسول کی عربی ثقافت سے پوری طرح منقطع نہ ہوا ہو ہمیں ایک ایسے اسلام کی بازیافت سے دوچار کر سکتا ہے جسے ہم اسلام کی سچی تعبیر کہہ سکیں۔ طریقۂ ترسیل کے سلسلے میں ہمارا تجسس یقیناًہمیں وحی کو سمجھنے میں کچھ زیادہ مدد نہیں کرتا اس کے برعکس ہمیں اپنی ساری توجہ اس امر پر مرکوز کردینی چاہئے کہ متن کو اپنے عہد میں کتاب ہدایت کے طو ر پر کس طرح پڑھاجائے تاکہ متقدمین کی طرح ہماری موجودہ نسل بھی اپنے عقل و ادراک کی تمام تر پونجی وحی کو سمجھنے میں صرف کر سکے۔ گویا ہم جیتے تو موجودہ زمانے میں ہوں لیکن ہمیں عہد رسول میں مکانی سفرکاسلیقہ آتا ہو۔ تفہیم وحی کا یہی وہ منہج ہے جس کے ذریعے آج ہماری اس پیمبرانہ آواز تک رسائی ہوسکتی ہے ۔
قرآن یقیناًخدا کے الفاظ پر مشتمل ہے لیکن یہ الفاظ مردہ نہیں ہیں۔ یہ مسلسل نمو پذیر ہیں۔ یہ ایک ایسا rism pہے جس کے ذریعہ ہم ہر عہد کو مختلف روشنیوں میں گھرا دیکھتے ہیں۔ یہاں ماضی اور حال مجسم نظر آتا ہے۔ وحی کا یہ دفتر ہم سے اس بات کا طالب ہے کہ ہم اس کے مطالعہ میں اپنی تمام تر علمی فکر ی اور ذہنی توانائیاں صرف کردیں۔ ور نہ کوئی وجہ نہیں تھی کہ قرآن جیسی عظیم شئے عام انسانوں سے اس بات کی طالب ہوتی (أفلا یتدبرون القرآن أم علی قلوب اقفالہا)(محمد:۲۴) جولو گ الفاظ قرآنی کو ایک ایسا مجموعۂ عبارت سمجھتے ہیں جو لغت کے ڈھانچہ سے اپنی آخری شکل میں نکل چکا ہے وہ پھر اس بات پر خود کو مجبور پاتے ہیں کہ ان الفاظ کے معانی مخصوص تاریخی تناظر میں ہی متعین کئے جائیں ایسا کر نے والے نہ صرف یہ کہ الفاظ اور ان کے معانی کو منجمد کر دیتے بلکہ وہ وحی کا مطالعہ تاریخ کی مدد سے کر نا چاہتے ہیں اور تاریخ اپنی تعریف کے اعتبار سے ایک ایسا ماخذ ہے جس پر پوری طرح انحصار نہیں کیا جاسکتا۔ تاریخ کو وحی کی کلید قرار دینے کا نتیجہ یہ ہے کہ آج وحی ربانی کی موجودگی کے باوجود ہم اس سے روشنی حاصل کر نے سے محروم ہیں اور یہی غلطی وہ لوگ کر تے ہیں جو وحی جیسے لازوال ماخد کوSociology یا Anthropology جیسے غیر نمو یافتہ علوم کے ذریعہ سے وحی کے مطالعہ کے داعی ہیں ۔ مشکل یہ ہے کہ روایتی علماء جو تاریخ کے حوالے سے قرآن کے مطالعہ کے خوگر ہیں اور جدید دانش ور جو جدید نموپذیر سماجی علوم کے توسط سے قرآن کا مطالعہ کر نا چاہتے ہیں دونوں ہی کو اس بات پر اصرار ہے کہ تشریح و تعبیر کا حق انہیں ہی حاصل ہے۔
ہم جس دنیا میں سانس لے رہے ہیں اس میں ہر طرف ہر لمحہ زندگی کا سفر جاری ہے ۔ کائنات ہر لمحہ اپنے آپ کو منکشف کر رہی ہے ۔اس حقیقت سے آنکھیں بند کر لینا اور تشریح و تعبیر کو محض طبقۂ خاص کا حق قرار دینا ایک بات ہے اور وثیقۂ وحی کو اپنے خاص سباق میں از سر نوسمجھنے کا عزم کرنا بالکل دوسری بات۔ جہاں تک پہلی بات کا تعلق ہے تو یہ رویہ ماضی میں مذہب کے نام پر نظام جبر کے قیام کا سبب بنا ہے۔ رہی دوسری بات تو ہمارے عہد میں اپنی تمام تر علمی پونجی کو بروئے کار لاتے ہوئے تعبیر وحی کی از سر نو کوشش کا کا م ابھی باقی ہے۔ مذہب کے نام پر جب بھی نظام جبر کے قیام کی کوشش ہوئی ہے اور جب بھی مذہب کے حوالے سے انسانی عقل پر پہرے بٹھانے کا غیر مستحسن کام کیا گیا ہے اس صورتحال نے ہمارے اجتماعی نظام کو تہہ و بالا کر دیا ہے ۔ اہل یہود کے یہاں معبدکی مذہبی زندگی جسے دراصل احبار کی حکومت کہنا چاہئے، دوبار اپنے درد ناک انجام کو پہونچی اور آج اہل یہود بھی یروشلم کی عظمت لوٹائے جانے کی راہ تک رہے ہیں ۔ یہودی علماء نے خدا کے عظیم آفاقی پیغام کو اپنی بند دماغ تشریحی کوششوں سے ایک فرقہ وارانہ ثقافتی دین بنا ڈالا۔ جس میں نجات کا امکان صرف اہل یہود کے لئے باقی رہ گیا ۔ کچھ یہی صورتحال عیسائی دنیا میں پیدا ہوئی جہاں حضرت مسیح کے حوالہ کے بغیر نجات کا ہر امکان سرے سے مستر د کر دیا گیا ۔ چرچ کے قائدین حضرت مسیح کے حوالے سے نجات کے پروانے جاری کر نے لگے ۔ صورتحال یہاں تک آپہونچی کہ حضرت مسیح کے زبانی نام لیواؤں کے علاوہ تمام اقوام عالم پر نجات کا دروازہ بند سمجھا گیا۔
کچھ یہی صورت حال عثمانی خلافت کے ساتھ پیش آئی جہاں اسلام کی آفاقی دعوت گم ہو گئی پھر کوئی وجہ نہ تھی کہ محض اس کے نام سے سلطنت کا عظیم ڈھانچہ بر قرار رہ پاتا۔ تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ جب بھی مذہبی گروہوں نے آفاقی پیغام سے منھ موڑ کر ایک فرقہ وارانہ شناخت کو اپنا شعار قرار دیا ہے اور جب بھی انہوں نے دنیوی کامیابی اور اخروی نجات پر دوسری اقوام کے لئے دروازے بند کئے ہیں انہوں نے اپنے آپ کو ایک ایسی صورتحال میں پایا ہے جہاں سے نکلنے کے تمام راستے معدوم ہوگئے ہوں۔ جب وحی کی تعبیر فرقہ وارانہ ذہنیت کی اسیر ہوجائے تو انسانوں کو ایسالگتا ہے کہ خدا کی کتاب کے الفاظ منجمد ہوں جس نے کبھی ان کے پر کھوں سے کلام کیا تھا ،وہی پرکھے جنہیں ہر مردہ قوم Pious Elders یا سلف صالح سے تعبیر کرتی اور ان کی اتباع کو خدا اور اس کے رسول کی اتباع سے زیادہ اہم سمجھتی ہے۔ جب وحی کے لازوال الفاظ، ایسا محسوس ہو کہ، انسانوں سے کلام نہیں کر رہے ہوں تو عام انسانوں کے لئے اس کے علاوہ کوئی چارۂ کار نہیں رہ جاتا کہ وہ اپنے آپ کو سلف صالحین کی غیر مشروط اتباع میں دے دیں ۔ اس غیر تخلیقی اور غیر صحت مندانہ رویہ سے جھوٹی دینداری وجود میں آتی ہے ۔ انسانِ رسومِ دینداری کو غایت دین سمجھنے لگتا ہے۔ اور پھر مذہب کے نام سے مذہب کی نفی پر مبنی نطام جبر کا قیام عمل میں آجا تا ہے ۔ خدا یہ چاہتا ہے کہ انسانوں کی گرد نیں انسانوں کی تابع داری سے آزا د ہوں اور اسی لئے وہ بندوں کی طرف اپنے پیغامبر بھیجتا ہے۔ لیکن اس کے برعکس جھوٹی دینداری کے امین مذہب کے نام پر احبار کا نظام جبر قائم کر دیتے ہیں۔ انسانی تاریخ میں خدا کے سچے پیغمبروں کو رسمی دینداری کے ہاتھوں جو اذیتیں اٹھانی پڑی ہیں اس کی کوئی نظیر کسی دوسرے طبقہ کی طرف سے کی جانے والی مخالفت میں نہیں ملتی۔
آج ہم جس عہد میں سانس لے رہے ہیں ۔ اس کے بارے میں مغرب میں طرح طرح کی قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں ۔ مابعد تاریخ کے احساسات نے مغرب کو اپنی تاریخ کے سب سے بڑے بحران سے دوچار کر رکھا ہے ۔ مغرب میں فلسفہ کے زوال نے اسے ایک لسانیاتی خوشہ چینی کا فن بنا دیا ہے۔ یہی حال مغربی جمہوریت کا ہے جو کسی نظام انصاف کے قیام میں ان ملکوں میں بھی ناکام رہی ہے جنہیں جمہوریت کا گڑھ سمجھا جاتا ہے ۔ آج نہ صرف یہ کہ جدید سائنس اپنے تمام ابعاد کے ساتھ علماء و مفکرین کے ہاں محل نظر ہے بلکہ مغرب میں مروجہ سماجی رویہ مثلاً اسقاط حمل، ہمزاد شادیا ں اور رشتۂ ازدواج سے ماوراء جنسی تعلقات اب پھرسے موضوع بحث بن گئے ہیں۔ یہ وہ موضوعا ت تھے جن کے بارے میں کبھی سمجھا جاتا تھا کہ ان پر اب کسی گفتگو کی ضرورت باقی نہیں رہ گئی ہے۔ جدید مغرب اپنی کشش کھوچکا ہے اب اس کے بطن سے کیا کچھ برآمد ہونے کو ہے اس بارے میں ابھی کچھ کہاجانا قبل ازوقت ہے۔
گذشتہ چند دہائیوں میں بین المذاہب مکالموں اور اجتماعات کے لئے بڑا جوش و خروش دیکھا گیا ہے۔ مختلف مذاہب کے سعید نفوس اس مسلسل سمٹتی ہوئی دنیا میں خود کو علاحدہ رکھنے میں دشواری محسوس کرتے اور انہیں یہ بات مسلسل کچوکے لگاتی رہتی ہے کہ وہ اخروی نجات کے امکانات پر صرف اپنی اجارہ داری قائم رکھیں۔ لاطینی امریکہ کی لبریشن تھیولوجی، تائیوان کی ہوم لینڈ تھیولوجی، کوریا کی من یوئنگ تھیولوجی اور ہندوستان میں دلتوں کے حقوق انسانی کو تسلیم کر نے کے لئے کی جانے والی کوششیں، دراصل جدیدد نیا کی باقیات ہیں جن کے خرابے سے ہمارے کانوں میں مسلسل ایک ایسی آوازآرہی ہے جسے مستقبل کا روحانی نغمہ کہا جاسکے۔ سمٹتی سکڑتی دنیا نے انسانوں کو از سرنو اپنی بازیافت پر مجبور کیا ہے ۔ فرقہ وارانہ دینیات کے بجائے ایک عالمی دینیات کی تشکیل کے لئے فضاکافی ساز گار ہوگئی ہے۔ اسلام کے اس آفاقی پیغام کی بازیافت کا وقت گویا اب آپہنچاہے ۔ مسلمان اگر اسلام کو مسلم قومی ورثہ کے بجائے رب العالمین کے لازوال پیغام کی حیثیت سے پیش کر سکیں تو وہ محسوس کرینگے کہ تمام اقوام عالم خدا کی نغمہ سرائی میں ان کے ساتھ شریک ہوگئی ہیں:

ساری تعریف اس اللہ کے لئے ہے جو سارے جہان کا پروردگار ہے
نہایت مہربان اور رحم کرنے والا ہے
روز جزاء کا مالک ہے۔
اے اللہ! ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد کے طلبگار ہیں
اے اللہ تو ہمیں سیدھے راستے کی رہنمائی فرما،
ان لوگوں کا راستہ جن کو تونے انعام و اکرام سے نوازا،
نہ کہ ان لوگوں کا جن پر تیرا غیظ و غضب نازل ہوا۔
(قرآن ۱ : ۱۔۶)

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close