leaders

کہاں گئی وہ چپٹی ناک والی عورت؟

راشد شاز

مسلم معاشرے میں عورت ہنوز ایک مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ اہل تقویٰ کو اندیشہ ہے کہ اگراسے ذراسی ڈھیل دی گئی یا اجتماعی زندگی میں اسے داخل ہونے کا مو قع دیاگیا تو پھرفتنے کے نئے نئے دروازے کھل جائیں گے،اخلاقیات کی حدیں پامال ہوجائیں گی اور پھر نہ جانے کیاکیا کچھ ہوگا جس کا صحیح تصور تو یقیناًاہل تقویٰ کی بصیرت افروز آنکھیں ہی کرسکتی ہیں، البتہ اس عہد میں جب اسلام اور مسلمانوں پر بدترین شکست اور ذلت کا عذاب طاری ہے اور اس صورت حال سے بظاہر نکلنے کا کوئی راستہ نہیں دکھتا، تاریخ کے اس نازک موڑ پر مضطرب فکرمند اور ذی فہم مسلم خواتین سوالی ہیں کہ صدیوں کی مردانہ قیادت نے مسلم معاشرے کو اگر زوال کی اس صورت حال سے دوچار کردیاہے تو آخر کب تک محض فتنے کے خوف سے وہ خود کو عضو معطل بنائے رکھیں اور یہ کہ کیا ایساکرنا اسلام اور مسلمانوں کے مفادسے پہلو تہی اور مجرمانہ تساہل نہیں قرار پائے گا،یہ وہ سوال ہے جو اب ان روایتی معاشروں میں بھی پوری شدت کے ساتھ سراٹھارہاہے جہاں اب سے چند سال پہلے تک یہ سمجھاجاتاتھا کہ عورت کو سماجی منظرنامے سے بے دخل کرنے کے باوجود اسلامی زندگی کی بساط اسی تزک و احتشام کے ساتھ سجائی جاسکتی ہے جوقرنِ اول کے مسلم معاشرے کا خاصہ ہواکرتی تھی، لیکن اب ان روایتی معاشروں میں یہ احساس عام ہوتاجارہاہے کہ بدوی ثقافت اور سماجی رسوم میں یہ قوت نہیں کہ وہ اسلام جیسے انقلاب انگیز تصور زندگی کا متبادل بن سکے۔
سعودی عرب جہاں وہابی علماء نے کتاب و سنت سے کہیں زیادہ سماجی مصالح کے پیش نظر عورت کو سماجی رول سے بے دخل کرنے، اسے مکمل ملفوف کرنے حتی کہ اس کے نام اور شناخت کو پوشیدہ رکھنے میں ہی عافیت جانی تھی وہاں کتاب وسنت کا علم رکھنے والی ذی شعور مسلم خواتین اس سوال کو پوری شدت سے اٹھارہی ہیں کہ آخر کب تک عورتوں کو نئی مسلم تحریک میں بھرپور شمولیت اور سماجی منظرنامے میں شرکت سے روکاجاتارہے گا، سعودی پریس میں یہ سوال بھی اٹھایاجاتارہاہے کہ آخر کیاوجہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے عورت کو ایک الگ شناخت کے ساتھ پیدا کیا ہے تو کتاب و سنت کے علمبردار علماء اسے علیحدہ مسلم شخصیت کی حیثیت سے قبول کرنے کے بجائے اسے عزیزو اقارب یا محرم مردوں کے فقط حاشیہ بنے رہنے پر مجبور کررہے ہیں۔ آخر علماء کے پاس اس بات کے لئے کیا دلیل ہے کہ وہ عورتوں کو سیاسی اور سماجی رول سے محروم کردیں ۔
مسلم معاشرے کی موجودہ تصویر جہاں عورت کو دین کے حوالے سے بعض لوگ گھروں میں محبوس کردینا چاہتے ہیں یا بغیر کسی ثابت شدہ جرم کے عورتوں کو ان کے گھروں میں عمر قید کی سزا دینے کے طالب ہیں انہیں یہ جاننا چاہئے کہ ہماری یہ خود ساختہ دینی تصویر قرآن مجید کی اس دعوتِ انقلاب کے یکسر برعکس ہے جس میں مرد وعورت کو اس کی علیحدہ شناخت کے ساتھ برابر کا رکن تسلیم کیاگیاہے۔ (والمؤمنون والمؤمنات بعضھم أولیاء بعض) (التوبۃ:۶۷) یعنی اہل ایمان مردو عورت نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے کے مدد گارہیں، ایسانہیں ہے کہ مرد تو تقویٰ کی فضاعام کرتے ہوں اور عورتیں فحاشی اور بے حیائی کے ذریعے معاشرے کو تباہ کرنے پر تلی بیٹھی ہوں ، عورت کے بارے میں اس طرح کے متعصبانہ خیالات اسلامی ثقافت کی نہیں بلکہ راہبانہ مسیحی اور بودھ ثقافت کی پیداوار ہیں ۔ اہل کلیسا مدت تک اس بارے میں بحث کرتے رہے کہ عورت کو روح ہوتی بھی ہے یا نہیں کیوں کہ ان کے یہاں آدم کی لغزشوں کا بنیادی محرک حوا کو قرار دینے کا خیال عام تھا۔ اور اسی مسیحی تصور حیات میں یہ بات بھی عام طور پر تسلیم کی جاتی تھی کہ عورت مرد کی پسلی سے پیدا کی گئی ہے پھر اسے علیحدہ مکمل وجود کی حیثیت سے کیسے تسلیم کیا جاسکتاتھا ،اس کے برعکس قرآن عورت اور مرد کو شخصیت کی ایک ہی سطح پر مکمل علیحدہ وجود کے طور پر تسلیم کرتا ہے (خلقکم من نفس واحدۃ) مرد ہو یا عورت دونوں نہ صرف یہ کہ یہاں اپنے اپنے عمل کے لئے علیحدہ علیحدہ ذمہ دار ہیں بلکہ دونوں اس صلاحیت سے بھی متصف ہیں کہ وہ تقوی کے راستے پر ایک دوسرے سے آگے نکل جائیں، کسی کا محض مرد یا عورت ہونا اس کی تقوی شعاری میں مخل نہیں ہوسکتا (ان أکرمکم عند اللہ أتقاکم )۔ دل اگر مسیحائی کا متلاشی ہو تو عورت ہوکر بھی ملکہ سبا نہ صرف اپنے لئے بلکہ اپنے تمام اہالیان ملک کے لئے بندگئ رب کا وسیلہ بن جاتی ہے، اس کے برعکس فرعون و نمرود کا مر د ہونا بھی اسے کفر کی ذلت و رسوائی سے نہیں بچاسکتا۔
مسلم معاشرے میں عورت کے حاشیہ پرآجانے یا اسے غیر قرآنی اور غیر اسلامی پردے کے نام پر سماجی زندگی سے بے دخل کردینے سے نہ صرف یہ کہ مسلم معاشرے کی آدھی قوت معطل ہوگئی بلکہ جن اہل ایمان مردوں اور عورتوں کو ایک دوسرے کا باہم رفیق ہونا چاہیئے وہ ایک دوسرے کے متحارب ہوگئے ۔کہا جاتا ہے کہ حضرت عمرؓنے بر سر منبر سماجی مصالح کے پیش نظر یہ فیصلہ لینا چاہا کہ مہر کی رقم اتنی کر دی جائے جسے عام آدمی بآسانی ادا کر سکے تو ان کے اس فیصلہ کو ایک اعرابی عورت نے چیلنج کر دیا ، وہ کوئی معروف صاحب علم عورت نہیں تھی تاریخ کی کتابوں میں صرف یہ لکھا ہے کہ وہ ایک چپٹی ناک والی عورت تھی ، اس کا کہنا تھا کہ جب اللہ تعالیٰ نے خود قرآن میں مہر کے حوالے سے قنطار من الفضۃ و الذھب کا تذکرہ کیا ہے تو اے عمرؓ تمہیں اس بات کا حق کہاں سے حاصل ہو گیا کہ تم اس حق سے عورتوں کو محروم کر دو جسے اللہ نے ہمارے لئے روا رکھا ہے ، کہا جاتا ہے کہ اس قرآنی دلیل کے آگے حضرت عمرؓ نے اپنے سوچے سمجھے فیصلے کو فی الفور واپس لے لیا اور اس بات کا بر سر مجلس اعتراف بھی کیا کہ عمر سے غلطی ہوئی جبکہ ایک عورت بات کو پا گئی، قرن اول میں قرآن مجید مسلمانوں کے درمیان آخری فیصلہ کرنے والی کتاب تھی جس کے آگے عامی اور دانشور علماء اور عوام سب اپنا سر تسلیم خم کرتے تھے ، یہ بات تسلیم کی جاتی تھی کہ خلیفہ وقت کی قرآن فہمی پر ایک بدوی عورت سوالیہ نشان لگا سکتی ہے ، مسلم معاشرہ میں بدوی عورت کا یہ علامتی کردار جب تک زندہ رہا عورت کے سماجی رول یا اس کے حقوق پر مصالح امت کے نام سے روک لگایا جانا ممکن نہ ہوا۔ قرن اول کے مسلم معاشرے میں حضرت عائشہؓ کی ذات ایک عالمہ اور مفکرہ کی حیثیت سے تو خیر جہاں خصوصی امتیاز کی حامل تھی وہیں مدینہ میں ایسی صاحب رائے مسلم خواتین بھی موجود تھیں جن سے حضرت عمرؓ نے خلیفہ ثالث کے انتخاب کے لئے پینل بناتے وقت مشورہ طلب کرنا ضروری جانا۔ پھر آج اگر کچھ لوگ دین کے حوالے سے عورتوں کو الکشن کے عمل سے دور رکھنے ، ان کی نمائندگی یا حق رائے دہندگی کے سلسلہ میں شبہات کے شکار ہوں تو ان کے بارے میں اس کے علاوہ اور کیا کہا جا سکتا ہے کہ وہ ہماری تاریخ اور اس قرآنی ثقافت سے ناآشنا ہیں جن کے سطحی حوالوں کے بغیر ان کی کوئی گفتگو مکمل نہیں ہوتی، علماء سے اپنی حق تلفی کی شکایت کے بجائے ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلم خواتین قرآن کے تازہ بہ تازہ مطالعہ کی اس روایت کو زندہ کریں جس کے زیر اثر ایک اعرابیہ حضرت عمر کی قرآن فہمی پر سوالیہ نشان لگا سکتی ہے ،کہ جب تک مسلم معاشرے سے چپٹی ناک والی عورت غائب رہے گی نہ تو عورتوں کو ان کا گم شدہ سماجی رول واپس مل سکتا ہے اور نہ ہی مسلم معاشرے کو اس کی نصف مفلوج شدہ توانائی واپس مل سکتی ہے ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close