leaders

مسلم فکر میں انقلاب کی ضرورت

راشد شاز

مسلمان اس وقت جس بحران عظیم سے دوچار ہیں اس کی شدّت کا اندازہ کچھ اس سوال سے لگایا جاسکتا ہے کہ ہر خاص و عام کسی نہ کسی لب و لہجہ میں اس خلجان کا اظہار کررہا ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ قرآن مجید کی موجودگی کے باوجود ہمیں من حیث الامّہ سرنگ کی دوسری طرف کوئی واضح روشنی دکھائی نہیں دیتی۔ جس امت پر سیادتِ عالم کا فریضہ عائد کیاگیاہے وہ قرآن مجید کی موجودگی اور علماء ومفسرین کے سلسلۂ درس و ارشاد کے باوجود سخت نظری بحران میں کیوں مبتلا ہے۔ Auschwitz میں اہل یہود پر جو گزری اس کے بعد ان کے یہاں بھی اس سوال نے شدت سے سر اٹھایا تھا کہ خدا اپنی برگزیدہ قوم کو آخرکس طرح بے یارو مدد گار چھوڑ سکتا ہے۔ یہودی علماء اور دانشور اپنے آپ سے پوچھا کئے کہ اگر دنیا سے قوم یہود کا اسی طرح صفایا ہوگیا تو تاریخ کی معنویت کیا رہ جائے گی ؟ اہل یہود جو عرصہ ہائے دراز سے تاریخ میں جینے کے خوگر ہیں وہ اب تک اس حقیقت کا ادراک کرنے میں ناکام رہے ہیں کہ دنیا کی سیادت سے ان کی معزولی عمل میں آگئی ہے۔ اہل یہود اور مسلمانوں میں بنیادی فرق یہ ہے کہ ایک کی معزو لی الٰہی فیصلہ ہے جبکہ امت مسلمہ کازوال تاریخ کا ایک ایسا انحراف ہے جس کی درستگی کی ترکیب آخری وحی کی روشنی میں عین ممکن ہے۔ مگر مصیبت یہ ہے کہ صورتِ حال کا صحیح تجزیہ کرنے اور وحی ربانی کی روشنی میں اپنی گم کردہ راہوں کو منور کرنے کے بجائے مسلمان وحی کے بجائے تاریخی اسلام کے اسیر ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے انہیں اپنے زوال اور تاریخ کے انحراف کا صحیح اندازہ لگانے میں سخت دشواری پیش آرہی ہے۔
دنیا اس وقت اپنی تاریخ کے بد ترین بحران سے دو چار ہے۔ Developmentکے نام پر غیر منصوبہ بند طریقے سے مختلف ملکوں میں جو کچھ ہوتا رہا ہے اور جس طرح مختلف تنگ نظر مفاد پرست گروہوں نے دنیا کو اپنی مٹھّی میں سمیٹنے کی کوشش کی ہے ‘ اس کے نتیجہ میں اس وقت عالمی سطح پر انسانیت ایک غیر یقینی مستقبل سے دو چار ہے۔ ماحولیات کی تباہی ،دنیا کی دولتوں کا چند ہاتھوں میں ارتکاز، بین الاقوامی کمپنیوں کی اجارہ داری، ذرائع ابلاغ کے ذریعہ فکر و نظر کی آزادی کا چھن جانا اور انسانوں کو وہی کچھ دیکھنے اور سننے پر مجبور کرنا جو دنیا کی چند بڑی قوتیں یا با اثر ٹولہ چاہتا ہے، یہ سب کچھ ایک ایسی صورت حال ہے جس سے نکلنے کی کوئی سبیل نظر نہیں آتی ۔ خدا بیزار پالیسی ساز ذہن نے پوری دنیا کو ایک ایٹمی بھٹّی میں تبدیل کردیا ہے۔ انسانوں کی فکری اور مادی توانائی زندگی کے بجائے موت کی تیاری میں صرف ہورہی ہے ۔ ایسی صورت حال میں توقع تھی آخری وحی کے علمبردار انسانیت کے بے سمت قافلے کی رہنمائی کے لیے سامنے آئیں گے۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ خیرِ امت کے تمام تر دعووں کے باوجود امّت مسلمہ خود اپنے وجود کی لڑائی میں الجھ کر رہ گئی ہے ۔اس میں شبہ نہیں کہ دنیا کی موجودہ بے سمتی تمام ہی خدا ترس نفوس سے رہنمائی کا مطالبہ کررہی ہے ۔ البتہ اگر مسلمان بھی دوسری قوموں کی طرح اس چیلنج کو قبول کرنے کا یارا نہیں رکھتے تو پھر آخری وحی کے حاملین کی حیثیت سے ان کا وجۂ امتیاز کیا رہ جاتاہے ؟
گذشتہ دنوں مذاہب کی عالمی پارلیامنٹ میں شرکت کی غرض سے مجھے اسپین جانے اور وہاں مونٹ سراٹ کی چوٹی پر ایک عیسائی خانقاہ میں قیام کا موقع ملا ۔اسی خا نقاہ میں چند سکھ رہنما اور منی پور کے ایک پنڈت جی بھی قیام فرماتھے۔ میں نے یہ دیکھا کہ صبح اندھیرے منھ اٹھ کر خاصی دیر تک محترم پنڈت جی کسی سفید رنگ سے بصد احتیاط اپنی پیشانی کو ناک تک مزّین کرتے رہے یہاں تک کہ ان کے چہرے بشرے سے مذہبی رہنما ہونا واضح ہوگیا ۔ دوسری طرف ایک سکھ بزرگ ایک طویل کپڑے کو ٹھیک کرنے میں اپنے احباب کی مدد لے رہے تھے تاکہ وہ مذاہب کے عالمی اجتماع میں باندازِسکھ اپنی نئی پگڑی کے ساتھ شرکت کرسکیں۔ اس عالمی اجتماع میں طرح طرح کے مذہبی لباس اپنی جاہ و شکوہ کا اظہار کررہے تھے ۔ عیسائی راہبوں کا مخصوص لباس ‘اہل یہود کی مخصوص ٹوپی‘ برہما کماریوں کی سفید ساڑیاں اور بعض مسلم علماء کا ملبوسِ ریگستانی۔ کسی نے اپنے نام کے آگے ہزہولی نیسHis Holinessلکھ رکھا تھا تو کسی کو Reverend یا فادر کے لاحقے پر اصرار تھا‘کوئی ربائی تھا تو کوئی مولانا ‘اور کسی نے بہ صد احتیاط اپنے نام سے پہلے امام لکھنامناسب سمجھا تھا۔
خدا شناسوں کے اس اجتماع میں لباس کی غیر معمولی تزئین اور احتیاط پر سخت حیرت بلکہ کوفت ہوئی۔ میں نے اپنے ہمسایہ پنڈت جی سے پوچھا اہل مذاہب کے اس عالمی اجتماع میں ہر ایک کواپنے مخصوص لباس پر اتنا اصرار کیوں ہے ؟ بہت کچھ بحث وتمحیص کے بعد وہ دل کی بات بلا تکلف زبان پر لے آئے۔ کہنے لگے در اصل لوگ رشدو ہدایت کے لیے ہماری طرف دیکھتے ہیں۔وہ ہمیں عام انسانوں سے الگ رول ماڈل کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ ظاہر کی یہ تمام آرائش دراصل ان کے اسی مطالبے کے پیش نظر ہے۔ ورنہ حقیقی بندگی سے بھلا لباس کا کیا تعلق۔ رسوماتِ بیجا کے اس اہتمام میں صرف پنڈت جی کو ہی مورد الزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا ۔تقریباً تمام ہی مذاہب کے رہنماؤں نے عوام الناس سے اپنے آپ کو ممتاز کرنے کے لیے ایسے لباس کو اختیار کر رکھا ہے جس سے ان کا مذہبی یا خدا شناس ہونے کا فی الفور اوربہ نظر اول پتہ چل سکے ۔ عام انسانوں کے لیے یہ ادراک کرنا مشکل ہوجاتا ہے کہ اس بھاری بھرکم لباسِ تقویٰ میں گوشت پوست کا کوئی عام انسان سانس لے رہا ہے جس کی فہم و بصیرت پر تنقیدی نگاہ بھی ڈالی جاسکتی ہے ۔
کہا جاتا ہے کہ جب رومی افسران حضرت مسیحؑ کی گرفتاری کے لئے آئے تھے تو ان کے لئے حواریوں کی مجلس میں حضرت مسیحؑ کی شناخت مشکل ہوگئی تھی۔ انہیں جوڈا کے بوسۂ تعظیم کا سہارا لینا پڑا تھا۔ حضرت مسیحؑ تو پھر بھی ایک بر گزیدہ نبی تھے خود محمدؐ رسول اللہ کے متبعین کا یہ حال تھا کہ انہوں نے کبھی بھی اپنے لئے کسی مصنوعی اور ظاہری وجۂ امتیاز کو گوارا نہیں کیا۔ مدینہ کی گلیوں میں باہر سے آنے والے غیر ملکی وفود خلیفۂ وقت حضرت عمرؓ کی بابت پوچھا کرتے اور انہیں یہ جان کر سخت حیرت ہوتی کہ ہٹوبچو سے دور معمولی سے لباس میں خلیفۂ وقت ان سے مخاطب ہے۔ پہلی نسل کے مسلمان حریتِ فکر کی لذت سے آشنا تھے۔ وہ اس بات سے خوب واقف تھے کہ خدا کی نگاہ میں تمام انسان برابر ہیں ۔ قیادت کی ذمہ داری یا رشدوہدایت کا منصب کسی کو عام انسانوں کی سطح سے اٹھا کر تقدس کے منصب پر فائز نہیں کرتا۔ عام مسلمان اپنے قائدین اور اہل علم پر تنقیدی نگا ہ ڈالنا اپنا حق سمجھتے۔ حتی کہ عین خطبہ کے دوران ایک اعرابی عورت خلیف�ۂ وقت کو ٹوک دینا اپنا حق سمجھتی ۔ دوسری طرف قائدین اور اہل علم بھی اپنے آپ کو گوشت پوست کا عام انسان سمجھتے اور اپنے لئے کسی مافوق الفطری القاب کوگوارہ نہیں کرتے اور نہ ہی عام مسلمان اس خیال کے قائل ہوا کرتے کہ وہ اپنے ہی جیسے لوگوں کو تقدس کے ہالے میں گھرا دیکھ سکیں۔ مسلمانوں میں حریتِ فکر کی روایت جب تک باقی رہی ان کی نگاہیں اصحاب علم و فن سے ماوراء، وحی کے اوراق میں ہدایت کی طالب رہیں۔ البتہ جب سے اصحاب علم وفن نے اپنے آپ کو عام انسانوں سے ا لگ ایک مقدس مخلوق کی حیثیت سے پیش کرنے کی طرح ڈالی اور ان کے ناموں کے آگے پیچھے تقدس مآب القاب و آداب کی طویل قطار وجود میں آنے لگی مسلم ذہن پر تقلید کی دھندد بیز ہوتی گئی۔
آج اگر قرآن مجید کی موجودگی کے باوجود مسلمانو ں کو سرنگ کی دوسری طرف روشنی دکھائی نہیں دیتی تو اس کی وجہ یہی ہے کہ ہمارے درمیان وحی کی عظمت کے مقابلے میں علماء و فقہا ء کی عظمت کہیں زیادہ مستحکم ہوگئی ہے ۔ ہم قرآن مجید کے راست مطالعے اور اس سے اپنا چراغِ فکر روشن کرنے کے بجائے یہ ضروری خیال کرتے ہیں کہ ہمارے اس خیال کی تائید علمائے قدیم کے اقوال سے ہوتی ہے یا نہیں۔ جن لوگوں کو قرآن کا طالب علم ہونا چاہئے تھا انہوں نے القاب و آداب کے سہارے مخصوص مذہبی لباس کے جاہ و حشم میں خود کو religious authority باور کرار کھا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ نہ چاہتے ہوئے بھی ہمارے یہاں احبارو رہبان کا ایک طبقہ پیدا ہوگیا ہے ۔ آخر اس حیرت انگیز مماثلت کا سبب کیا ہے کہ جس طرح اہل یہود کے علماء خود کو ربائی کہلواتے اور خود کو خدا صفتی کا حامل سمجھتے ہیں اور جس طرح عیسائی علماء نے اپنے لئے Father یا آسمانی باپ کی اصطلاح اختیار کررکھی ہے‘ جو صرف خدائے واحد کو زیب دیتا ہے‘ اسی طرح مسلم علماء نے بھی اپنے لئے مولاناکا لقب اختیار کررکھا ہے جو خود قرآن مجید میں خدا ئے وحدہٗ لاشریک کے لئے استعمال ہونے والی اصطلاح ہے ۔ جب قومیں اپنے اہل علم کوتقدس کے ہالے میں گھرا دیکھنے کی عادی ہوجاتی ہیں اور جب عام انسانوں کے ذہن پر یہ بات نقش ہوجاتی ہے کہ خود ان کے درمیان بعض لوگوں کا اندازِ فکر تقدس سے عبارت ہے جس پر تنقیدی نگاہ نہیں ڈالی جاسکتی تو حریتِ فکری کا چراغ گل ہوجاتا ہے ۔ایسی قومیں بحران کے لمحات میں مسائل کا نیا حل ڈھونڈنے اور وحی کی تجلیوں سے اپنی راہوں کو از سرِ نو منور کرنے کا حوصلہ کھودیتی ہیں ۔ پھر مذہب کے نا م پر ہونے والا سارا کاروبار در اصل مذہب کی نفی کرتا رہتا ہے ۔ بائبل میں علمائے یہود اور فریسیوں پر حضرت مسیح کی سخت تنقید اسی خیال کی تائید کرتی ہے ۔ خود قرآن مجید میں رسول اللہ کی دعوت کا ذکر کرتے ہوئے یہ کہنا کہ آپؐ لوگوں کی گردنوں کو اصرو اغلال سے نجات دلاتے ہیں‘ دراصل اسی خیال کو ذہن نشین کرانا ہے کہ خدانے اپنے دین کی تشریح و تعبیر کا حق کسی طبق�ۂ مخصوص کو نہیں دے رکھا ہے اور یہ کہ محمد رسول اللہ کی دعوت انقلاب کسی ربائیت، پاپائیت یا مولویت کے ادارے کو برداشت نہیں کرسکتی۔ سچی مذہبیت اور خدا ترسی اس بات کی کیسے اجازت دے سکتی ہے کہ اہل تقویٰ اپنے لئے شرکیہ القاب و آداب کا استعمال روارکھیں اور جھوٹے تقدس کی یہ غیرصحت مندروایت حریتِ فکر ونظر کا چراغ گل کردے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close