insight

مستقبل اسلامی کی تلاش

راشد شاز

جب لوگ باہم ملادیئے جائیں گے جب نوزائیدہ زندہ درگور بچی سے پوچھا جائے گا کہ وہ کس جرم کی پاداش میں قتل کی گئی جب صحیفوں کی نشرو اشاعت کی کثرت ہوگی جب جنت قریب لے آئی جائے گی تب ہر شخص کو پتہ چل جائے گا کہ وہ اپنے لئے کیا لایا ہے۔ (تکویر:۱۴۷)

سورۃ تکویر کی ان آیات کا مطالعہ کرتے ہوئے ذہن برملاسائبر اسپیس کی طرف منتقل ہوجاتا ہے۔ اورکیوں نہ ہو قرآن مجید جس ذات باری کا کلام ہے وہ زمان ومکان کے فرق سے ماور اء چیزوں کو اس کی اصل ماہیت کے ساتھ اس طرح دکھاتا ہے گویا ازل تا ابد بجلی کی ایک چمک اوربصیرت کی ایک رعد کے ساتھ سب کچھ اچانک ایک لمحے کے لئے منور ہو گیاہو۔
عام انسانی دنیا سے ماور اء ایک ایسے virtual world کا وجود میں آجانا جہاں کروڑ ہا کروڑ نفوس ایک دوسرے سے بحث ومباحثہ اورباہمی استفاد ے میں مشغول ہوں، ایک حیرت ناک وقوعے سے کم نہیں ۔ عالمِ محسوسات سے پرے ایک ایسی اضافی دنیا کا وجود جو مسلسل ہماری زمینی زندگی کو متاثر کر رہی ہو، اب ایک ایسی حقیقت ہے جسے مزید نظر انداز کرنا اب ماضی پرست قوموں کے لئے بھی ممکن نہیں رہا۔ صحیفوں کی نشرو اشاعت کا یہ عالم ہے کہ جس موضوع پر بھی بٹن دبائیے معلومات کاایک لامتناہی سمندر موجود ہے- ہر قسم کے افکار وخیالات اپنی تمام ترخباثتوں اور سعادتوں کے ساتھ قاری کے منتظر ہیں ۔ انٹرنیٹ کی اس virtual دنیا میں نہ کوئی محتسب مؤثر رہ گیا ہے اورنہ ہی کسی خیال کومحض قوت کی بنیاد پر دبا ڈالنا ممکن ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اس سائبر دنیا کا نہ کوئی مرکز ہے اور نہ ہی کسی خاص تہذیب یا عسکری قوت کی اس دنیا پر اجارہ داری ممکن رہ گئی ہے۔ گویا Cyber Spaceایک ایسی پوسٹ ماڈرن دنیا کی ایک جھلک ہے جہاں خیالات کو محض اس کی حقیقی قدرو قیمت کی بنیاد پر قبول یا رد کیا جانا ممکن ہو سکے گا ۔اب انسانی دل ودماغ کیلئے یہ ممکن ہے کہ وہ مولوی یا محتسب کی چیرہ دستیوں سے یکسر آزاد ہو کر تہذیبی اور قومی سطح سے اوپر اٹھ کر اللہ کے عطا کردہ قلبِ سلیم کو حتی المقدور استعمال میں لائے اورپھر اپنی صوا بدید پر، عقل ونظر کی روشنی میں اپنے لئے ایک بہتر راستے کا انتخاب کرسکے۔ انٹرنیٹ کی دنیا میں شیطان کے وساوس بھی ہیں اورخدا ترسوں کی دردمند رہنمائی بھی۔فقہا ء ومشائخ کے طئے کردہ حتمی جواب بھی ہیں اور وحی ربانی کو سمجھنے کیلئے خود اپنے دل ودماغ کو متحرک کرنے کی دعوت بھی ۔اگر ایک طرف مختلف نظریات کا اپنا اپنا مسحور کن پروپیگنڈہ ہے تودوسری طرف اس کے رد میں بھی کم مضبوط دلائل نہیں ۔گویا (اذالصحف نشرت )کا غلغلہ ہر طرف بلند ہے۔ واشنگٹن کے پرآسائش سوٹ میں بیٹھنے والا انسان ہویا افغانستان کے نامعلوم پہاڑی سلسلوں میں بسنے والا شخص ،انٹرنیٹ کی دنیا میں دونوں برابر کا شریک ہے ۔
دیکھا جائے تو انسانی تاریخ میں فکر ونظر کی آزادی کا اتنا وافر امکان پہلے کبھی نہ تھا ۔ قلب ونظر کو جلا بخشنے کیلئے جس ذہنی افق اوربین الاقوامی مباحثے کی ضرورت تھی، اس کا ماحول تیار ہو چکا ہے۔ اس نئی صورتحال نے روایتی علماء کے قیل وقال سے پَرے ،فرقہ وارانہ تعبیر اور مسلکی تشریحات سے ماوراء، ایک ایسے ہمہ گیر مباحثے کی بناء ڈال دی ہے جس کے بطن سے فی زمانہ دینِ خالص کے طلوع ہونے کے امکانات وا ہوگئے ہیں۔اس میں شبہ نہیں کہ انٹرنیٹ کی دنیا میں فکرونظر کی بے مہارآزادی ہمیں ایسے سطحی اور junk مباحثے میں بھی الجھا سکتی ہے جس سے ہماری موجودہ پریشاں خیالی میں مزید اضافہ ہوجائے۔ Information کے اس سیلاب میں disinformationکے ریلے بھی بہہ رہے ہیں۔ان خطرات کا مقابلہ تو بہر حال کرنا ہوگا ۔ دود ھ کو پانی سے اور حق کو باطل سے ممیز کئے بغیر ہماری منزل بامراد نہ ہوگی۔ البتہ جو لوگ وحی کی روشنی کواپنی مشعلِ راہ بنانے کا عز م رکھتے ہوں ان کے لئے عمومی کنفیوژن کی اس فضا میں راستہ بنانا کچھ مشکل نہ ہوگا ۔
کسی کو یہ غلط فہمی نہ ہو کہ ہم سائبر ورلڈ میں کسی نئے اسلام کے ظہور کے منتظر یا اس کے لئے کوشاں ہیں۔ دین خالص وحی ربانی کو ایک ایسی صورت حال میں پیش کرنے سے عبارت ہے جب زمان ومکان یا تہذیبی مظاہر کا پر تو وحی ربانی پر تقریباً معدوم ہوگیا ہو ۔ خدا کا دین بندوں کی اس سائبر دنیا میں کچھ اس طرح جلوہ فگن ہو گویا وہ تمام انسانو ں کو شمولیت کی یکساں دعوت دے رہا ہو۔ نہ وہ مشرق کا پرستار ہو نہ مغرب کا مخالف ،نہ اسے عربوں سے کوئی خاص انسیت ہو نہ عجمیوں سے کسی درجے کی مخاصمت ،نہ وہ ایشیاء والوں کا دین سمجھا جاتا ہو اور نہ کسی ایسے خاص تہذیبی قالب کا حامل کہ اہل مغرب اسے Middle-Eastern Religionقرار دیتے ہوں،گویا ایک ایسا اسلام جس کی مکمل تصویر قرآن مجید کے دفتین میں پائی جاتی ہوا ور جسے سمجھنے کیلئے مسلمانوں کی تہذیبی تاریخ یا اموی، عباسی جاہ وحشم کے بیا ن کی چنداں ضرورت نہ ہو اور نہ ہی مسلم اسپین ، مغل دہلی اور عثمانی ترکوں کی تہذیبی تاریخ کا اس پر پرَتوپا یا جاتاہو۔ ایک ایسا اسلام جو تمام انسانیت کا نجات دہندہ ہو اور جس کے غلبے کی دعوت کسی خاص قوم کے تہذیبی غلبہ کی نفی سے عبارت ہو ۔محمد رسول اللہ جوکہ کا فۃ للناس بشیرا ونذیرا ہیں اور جن کی رحمۃ للعالمینی پر قرآن کے صفحات گواہ ہیں، ان کی دعوتِ لاالٰہ کی منطقی انتہا ایک ا یسے ہی منظرنامے کی طالب ہے جب تمام مسلکی مظاہرسے اوپر اٹھ کرعالمی سطح پر انسانوں کو خدائے واحد کی بندگی میں مربوط کردیاجائے ۔ ایک ایسے غیر تہذیبی اسلام کے ظہور کیلئے سائبر دنیا سے بہتر اور کون سی جگہ ہو سکتی ہے ؟
روایتی مسلم ذہن کیلئے سائبر ورلڈ نئے چیلنجز کی آماجگاہ ہے ۔قدیم فقہی اصطلاحوں کا یہاں سرے سے اطلاق ہی نہیں ہوتا۔ سائبر ورلڈمیں داراالاسلام او ردارالکفر کی اصطلاحیں بے معنی ہو کر رہ گئی ہیں، یہاں نہ کوئی centreہے اور نہ periphery – بیک نظر مجموعی طورپر اس دنیا میں خیر بھی ہے او رشر بھی۔ امکانات کے اس سمندر سے فرد پر منحصر ہے کہ وہ اپنے کوزے میں کیا کچھ تو شہ جمع کرتا ہے۔ کل تک جو لوگ دنیاکو تہذیبی اکائیوں میں منقسم دیکھنے کے عادی تھے، یا جو محمد رسول اللہ کے آفاقی پیغام کو عرب تہذیب میں محدود کئے دینے کے قائل تھے، یاجو یہ سمجھنے کی غلط فہمی میں مبتلا تھے کہ عرب تہذیبی مظاہر ہی دینِ اسلام کی واحد مستند شکل ہیں ، ان کے لئے یقیناًاس نئی صورتحال کو سمجھنا مشکل ہوگا کہ کس طرح سائبر ورلڈ میں اسلام کا آفاقی پیغام، اپنے قدیم عربی قالب سے ما وراء ،تمام انسانوں کیلئے یکساں توجہ اور کشش کا باعث بن رہا ہے ۔ ہمارے زوال کے عہد میں تحفظِ اسلامی کی خاطر عرب تہذیبی مظاہر پر غیر ضرور ی اصرار کی جو لَئے اپنے اپنے زمانے میں ابن تیمیہ اور شاہ ولی اللہ کے یہاں غیر معمولی طورپر بلند ہوتی گئی تھی اور جس کے نتیجے میں اسلام کو عرب مشرقی ورثے کے طورپر دیکھنے کا رواج عام ہوا ، التباسات کی یہ دھند بھی اب چھٹنے کو ہے ۔ (اذ النفوس زوجت)کی عموعی فضا میں اب ہمارے لئے یہ سمجھنا آسان ہے کہ آفاقی نبی کی امت کسی ایک تہذیبی مظاہر، جغرافیائی ماحول اوراس سے متاثر لباس کی متحمل نہیں ہوسکتی ۔اب بھی اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ کسی خاص زبان سے اسلام کو نفرت ہے یاکوئی خاص لباس غیر قوموں کا لباس ہے جس کے پہننے سے اسلام رخصت ہو جاتاہے تواس کایہ سمجھنا ایک بین الاقوامی پیغمبر کی آفاقیت کو مشتبہ کردیتا ہے۔ من تشبہ بقوم فہو منہم کی فرضی حدیث اور اس کی خیالی تعبیرات نے صدیوں سے اسلام کو ایک عرب تہذیبی اکائی کے طورپر متعارف کرار کھا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ مکانی فاصلوں کے سکڑنے کی وجہ سے اب یہ مفروضات خود بخودختم ہو رہے ہیں ۔ کل تک جوبات فقہائے حنابلہ ،فقہائے احناف کیلئے سمجھنا مشکل تھی اور جس کی وجہ سے تہذیبی مظاہر کی بنیاد پر کفر واسلام کے فتوے صادر کرنے کارواج عام تھا آج وہی بات نئی سکڑتی دنیا میں قرآن کے معمولی طالب علم کے لئے بھی سمجھنا آسان ہوگئی ہے کہ تہذیبی مظاہریا لباس کی بنیاد پر کفرو اسلام کا فیصلہ نہیں ہوسکتا۔ ابن تیمیہ کایہ فہم جس کا شدید اظہار انہوں نے اقتضاء صراط المستقیم فی مخالفہ اصحاب الجحیم میں کیا ہے اور اس قبیل کے دیگر علماء کا قومی اسلام ، صدیوں اسلام کی آفاقیت سے مزاحم ہوتا رہا ہے ۔بلکہ یہ کہا جائے توکچھ خلافِ واقعہ نہ ہوگا کہ دین کی اس خالص تہذیبی تعبیر نے صدیوں سے اسلام کی آفاقیت کو شکست دے رکھاہے۔ (اذالنفوس زوجت)کے موجودہ ماحول میں اب ان فتووں پر کسے یقین آئے گا کہ غیر عربی طرز کے لباس پہننا یا غیر عربی انداز سے بالوں کا تراشوانا حرام ہے یا یہ کہ فارسی زبان کا سیکھنا( جس میں اب انگریزی، فرنچ،جرمن اور دوسری غیر عرب زبانوں کو بھی شامل کیا جانا چاہیے) من تشبہ کی روسے حرام ہے۔ اب کون اس بات پر یقین کرے گا کہ انگریزی زبان منافق بناتی ہے ؟اور کون اس فتوے کو معتبر سمجھے گا کہ غیر مسلم ملکوں میں رہائش اختیار کرنے والا شخص بروزحشر مشرکوں میں اٹھایا جائے گا ؟کیا اہل سنت والجماعت کا کوئی شخص آج بھی ابن تیمیہ کی طرح اس عقیدے کامتحمل ہو سکتا ہے کہ جنس عرب جنس عجم سے افضل ہے؟
واقعہ یہ ہے کہ اسلام کی خالص قومی اور تہذیبی تعبیر نے ایک آفاقی دین کو نہ صرف یہ کہ ایک عرب مشرقی ورثے کی حیثیت دے دی بلکہ آنے والے دنوں میں حاملینِ قرآن کیلئے خالص قومی بنیادوں پر مسابقت کی طرح بھی ڈال دی۔ دوسری قوموں کی طرح مسلمان بھی عالمی غلبہ کا خواب دیکھنے لگے۔ پندرہویں صدی ہجری کی ابتداء میں اسلامی نشاۃ ثانیہ کے حوالے سے غلبۂ اسلام کی جو امید بندھی تھی اس سے غیر تویہ سمجھتے ہی تھے کہ مسلم قوم ایک بار پھر دنیا پراپنے سیاسی غلبہ کا خواب دیکھ رہی ہے، خود مسلم ذہنوں میں بھی اسلامی صدی کامفہوم اس سے کچھ مختلف نہ تھا کہ صدیوں سے جو قوم مسلسل پسپائی اختیار کرتے ہوئے تاریخ کے حاشیے پر چلی گئی ہے وہ ایک بار پھر دنیا پر غالب ہونے کو ہے۔ قومی اسلام کے اس تصور نے دوسری قوموں کی طرح اہل اسلام کو بھی مسابقت کی اس دوڑمیں مبتلا کردیا ۔ اہل یہود جن کا دعویٰ ہے کہ بیسویں صدی میں وہ اپنی موثرترین سرگرمیوں کی وجہ سے اکیسویں صدی کی قیادت کے سب سے زیادہ سزاوار ہیں یا مغرب کی بعض اقوام خصوصاً امریکہ جو اکیسویں صدی پر مکمل غلبہ کو اپنا حق سمجھتا ہے، اسی طرح مسلم ذہنوں میں بھی قومی اسلام کے زیر اثر یہ خیال پرورش پاتا رہا ہے کہ پندرہویں صدی ہجری یا اکیسویں صدی عیسوی آخر مسلمانوں کے غلبہ واستیلاء کی صدی کیوں نہ ہو؟۔ افغانستان میں سوویت یونین کی شکست کے بعد مجاہدین کی جواں سال قیادت کے ذہنوں میں فطری طور پر اس خیال نے انگڑائی لی کہ سوویت یونین کے زوال کے بعداب ان کا منطقی وظیفہ یہ رہ گیا ہے کہ وہ امریکہ کے خلاف اپنی تمام تر توجہ مرکوز کردیں۔ ان کے نزدیک مغرب پر مشرق کی فتح کا یہی ایک واضح اور آسان راستہ تھا۔ اس میں شبہ نہیں بن لادن اور دوسرے عرب مجاہدین کو اس تہذیبی ٹکراؤ کی راہ پر ڈالنے والے دوسرے عناصر بھی تھے البتہ مغرب کے مقابلے میں ایک مشرقی اور قومی اسلام کی فتح کا داعیہ ان کے دل ودماغ کو مسلسل مہمیز کرتا رہا ہے۔ تہذیبی اسلا م کا یہ مروجہ قالب جو عرب مشرقی ثقافت کو اسلام کا لازمی جز قرار دئیے بیٹھا ہے ،نفسیاتی طورپر اس بات کا متحمل نہیں ہوسکتا کہ وہ دوسری تہذیب کی سعید اور صالح روحوں کو بھی غلبۂ اسلام کے منصوبے میں شامل کرسکے یا یہ کہ اسلام کوایک ایسے ہمہ گیر بین الاقوامی قالب میں مستحضر دیکھے جہاں تہذیبوں کے بجائے صرف وحی ربّانی کی بنیاد پر ایک نئی دنیا کی تعمیر کا منصوبہ پایا جاتا ہو۔واقعہ یہ ہے کہ اس مروجہ تہذیبی اسلام نے مسلم نوجوانوں کے ذہنوں سے اسلام کی آفاقیت اور تمام ہی اقوام وملل کیلئے نصح و خیرخواہی،ہمدردی وغم گساری جیسے جذبات کو دور کر رکھا ہے جوداعی کا بنیادی وصف ہے ۔اسلام کو اس محدود تہذیبی خول سے نجات دلانے اور اسے پیغمبرانہ آفاقی پیغام کی حیثیت سے پیش کر نے کیلئے ہمیں اپنے تہذیبی اور علمی ورثے کے سخت احتساب کی ضرورت ہوگی ۔اندیشہ ہے کہ اس عمل میں بڑے بڑے شارحین اور علمائے عظام کا اعتبار ساقط ہو جائے ۔ جو لوگ بعض اصحاب سلف کو یا اپنی پسندکے ائمہ وفقہاء کو قرآنِ مجید کی شاہِ کلید قرار دیتے آئے ہیں او رجو یہ سمجھتے ہیں کہ ان حضرات کے بغیر فہم قرآن کا قفل نہیں کھُل سکتا، ان کے لئے اس صورتِ حال کا ادراک یقیناًمشکل ہوگا۔ صدیوں سے جولوگ اسلامی فلسفہ ، اسلامی آرٹ، اسلامی فنونِ لطیفہ اور اسلامی طرزِ تعمیر جیسی اصطلاحوں میں کلام کرتے رہے ہیں،ان کو یہ باور کرانا کچھ آسان نہ ہوگا کہ عباسی بغداد کا فنونِ لطیفہ ، مسلم اسپین کا سائنسی عروج، اور مغل سلطنت کے تاج محل یا لال قلعہ کے لافانی نقوش ، جن کو مسلمان اپنی تہذیبی تاریخ کے سنگ میل کے طورپر پیش کر تے ہیں دراصل ہم ان تمام کاموں کیلئے مامو ر ہی نہیں کئے گئے تھے ۔قومی افتخار کی ان تمام علامتوں کا کارِ نبوت سے کچھ بھی علاقہ نہیں۔ رہا علم وحکمت اور علوم وفنون کی ترقی تو یہ کسی قوم کی میراث کبھی نہیں سمجھے گئے ۔ یہ نوع انسانی کا مشترکہ ورثہ ہیں اور انہیں اسی حیثیت سے دیکھا جانا چاہیے ۔
قومی اسلام کا یہ تصور جس کی جڑیں ہمارے متقد مین کی فہم وبصیر ت میں ہیں ،خالص اسلام کی طرف ہماری مراجعت میں مسلسل مزاحم ہوتی رہی ہیں۔ بلکہ اگر یہ کہا جائے تو شاید مبالغہ نہ ہو کہ اسلام کے اس قومی تصور نے فی زمانہ پوری دنیا میں مسلم نوجوانوں اوران کی احیائی تحریکوں کو ایک غولِ بیابانی میں تبدیل کر رکھا ہے ۔قدیم مشرقی ثقافتی علامتوں کو وہ اسلام سمجھ بیٹھے ہیں ، جس سے ذرہ برابر بھی انحراف کفر و اسلام کی جنگ بن جاتی ہے ۔مسلمانوں کے جغرافیائی تنازعے اور وطنی آزادی کی تحریکیں جہادِ فی سبیل اللہ قرار پاتی ہیں۔ ثقافت اوراسلام کے اس مسلسل دھوپ چھاؤں کے کھیل نے خود مسلم ذہنوں پراسلام کی ماہیت اوراس کے مستقبل کے سلسلے میں سخت ابہام اور مغالطوں کو جنم دیا ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ مسلمان گذشتہ چند صدیوں سے من حیث القوم مسلسل پسپائی کے شکار ہیں اور گذشتہ چند برسو ں سے پسپائی کا یہ عذاب اپنی انتہاء پر ہے۔ افغانستان ،عراق ،فلسطین ،بوسینا، کشمیر ، گجرات، فلپین اور چیچینا جہاں بھی خون بہہ رہا ہے وہ ان ہی قومی مسلمانوں کا خون ہے ۔امریکہ ، برطانیہ اورمغرب کے دوسرے شہروں میں دہشت گردی کے نام پر مسلم نوجوان ہی نشانے پر ہیں۔ گوانٹنا موبے کی عقوبت گاہ یا ابو غریب کی جیل میں جو کچھ ہوا اسکا شکار بھی مسلم قوم ہی بنی ۔ لیکن ان سب کے باوجود اگر مسلمان بھی مدافعت کی جنگ میں ان اعلیٰ انسانی اقدار کو نظر انداز کر گئے تو پھر دوسری قوموں پران کا وجۂ ا متیاز کیا رہ جائے گا ؟ گجرات میں ہم جلائے گئے، بوسنیا میں ہماری عزتیں تاراج ہوئیں۔ فلسطین میں ہم ایک منظم ریاستی دہشت گردی کا شکارہیں لیکن اس کے جواب میں ہم اپنے دشمنوں کے ساتھ عین یہی سب کچھ نہیں کرسکتے۔قومی مسلمانوں کیلئے تویہ ممکن ہے کہ وہ اپنی قوم کے مقابلے میں دشمن قوم کو زک پہنچانے کیلئے کوئی بھی اقدام کر ڈالیں۔ البتہ وحی کا آفاقی نقطۂ نظر ہمیں مسلسل اس بات کی تلقین کرتا ہے کہ ہم بعض شیطان صفتوں کی وجہ سے اس پوری قوم کو من حیث القوم قابلِ گردنِ زدنی قرار نہیں دے سکتے ۔ ہم جو انسانوں کی نصح و خیر خواہی اوران کی فلاح ونجات کے لئے پیدا کئے گئے ہیں ہم انھیں اس طرح دیکھتے ہیں جیسا کہ وہ ہیں نہ یہ کہ ان کا تعلق کس قوم سے ہے ۔ بڑے بڑوں کے دل ودماغ پر مسلم قومی افتخار اورمسلم قومی مفاد کے جذبات اتنے شدید ہیں کہ وہ کسی بھی مسئلہ پر خالص حاملِ قرآن کی حیثیت سے سوچنے کا یارا نہیں رکھتے ۔ مسئلہ فلسطین کا لا ینحل ہونا خدائے واحد کی علمبردار دوقوموں کا اتنے طویل عرصے تک آپس میں اس طرح گتھم گتھا ہونا اور پھر اس صورتِ حال پر مسلمانوں اوراہل یہود کے علماء و متقین کا مسلسل خاموش رہنا اسی بات کا تو ثبوت ہے کہ اہل یہود کے علماء کی طرح مسلم اہل فکر بھی قومی افتخار کے اس حد تک اسیر ہو گئے ہیں کہ وہ کوئی غیر روایتی حل پیش کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے ۔دنیا فساد سے بھرتی جارہی ہے ۔ قوموں کے تصادم کے اس ماحول میں جہاں خود حاملین قرآن بھی بدقسمتی سے اس قومی تصادم میں فریق بن گئے ہیں ،ضرورت اس بات کی ہے کہ اس آفاقی اسلام کو وحی کے دفتین سے از سرِ نو برآمد کیا جائے جس کے پسِ پشت چلے جانے کی وجہ سے ہم تاریخ کے انحراف میں جینے پر مجبور ہیں ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close