editor

مسئلہ فلسطین : حق کے دوبول

راشد شاز

عرصے سے ارض فلسطین ایک منصفانہ حل کا طلب گار ہے۔ اب تک دونوں جانب سے مسئلہ کا حل دریافت کرنے کی جو کوشش ہوئی ہے اس کے نتائج انتہائی حوصلہ شکن ہیں۔ انسانی جانوں کا اتلاف بڑھتاجارہاہے ۔ ایک طرف جدید ٹکنالوجی سے لیس حکومت اسرائیل ہے تو دوسری طرف مزاحمت کے لئے اٹھنے والی مختلف چھوٹی بڑی بے بس تنظیمیں ۔ جن کے پاس انسانی جانوں کے علاوہ کوئی اور ہتھیار نہیں۔ گذشتہ پچاس برسوں میں دونوں طرف ایک دوسرے کے خلاف منافرت کا جذبۂ حرارت اتناتیز ہوتاگیا ہے کہ اب اس ماحول میں عقل و انصاف کی ہرباتیں تحلیل ہوتی ہوئی معلوم ہوتی ہیں۔ ایسی صورت میں دونوں طرف ، کہیں کم اور کہیں زیادہ انسانی لاشوں کے ڈھیر لگتے جارہے ہیں ۔ حیرت اس بات پر ہے کہ یہ معرکہ آرائی دوایسی قوموں کے درمیان برپا ہے جو خیر سے خود کو الٰہ واحد کا تابعدار گردانتی ہیں اور دونوں اپنی اس مذہبی جنگ کا جواز رب ابراہیم کی بندگی اور انبیاء کے مقدسات میں ڈھونڈتی ہیں۔ دونوں قوموں کے مذہبی اور سیاسی قائدین نے مسئلہ کو حق و باطل کا رنگ دے رکھا ہے۔ دونوں کے نزدیک ارض فلسطین کے ایک انچ پر بھی سو دا نہیں ہوسکتا ۔ نہ ہی کسی قسم کی مصالحت جائز ہے ۔ ایسی صورت میں مسئلہ کا منطقی حل تو یہی ہے کہ جس فریق کے پاس زیادہ قوت ہو وہ بزور بازو اس مسئلہ کو اپنے حق میں فیصل کرلے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ آج کی دنیا میں جہاں ریاست کو ٹکنالوجی کی غیرمعمولی قوت حاصل ہوگئی ہے وہیں دوسری طرف گوریلا طرز کی دہشت بخش مزاحمت کمزوروں اور بے بسوں کے ہاتھوں میں ایک ایسے ناقابل شکن ہتھیار کے طور پر آگئی ہے جسے کسی ریاست کے لئے حتمی طور پر ختم کرڈالنا ممکن نہیں۔ اسرائیلی جانتے ہیں کہ ریاست کی تمام تر فوجی قوت کے باوجود فلسطینیوں کو صفحۂ ہستی سے ختم نہیں کیا جاسکتا اور فلسطینی بھی اس بات سے خوب واقف ہیں کہ ان خود کش دھماکوں سے ریاست اسرائیل کی اینٹ سے اینٹ بجادینا ممکن نہیں۔

لیکن دونوں فریق اپنی خودساختہ تقدیسی تاریخ کے الجھاوے میں کچھ اس طرح پھنس کر رہ گئے ہیں کہ اب وہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ دکھائی نہیں دیتا۔ دونوں ہی ایک طویل ، ہلامارنے والی ، اعصاب شکن جنگ سے تھک چکے ہیں لیکن اپنی غیر ت قومی کے سبب دونوں میں سے کوئی بھی اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے لئے آمادہ نہیں ۔
تاریخ کے ایسے مرحلے میں جب تورات کے دعویدار اور قرآن کے حاملین ایک دوسرے سے گتھم گتھاہوں اور دونوں کو یہ دعوی ہو کہ ارض مقد س کے حقیقی وارث صرف وہی ہیں، ضرورت اس بات کی ہے کہ دونوں طرف کے اہل تقوی جن کے دل خشیت الہی سے مامور ہوں، جو قومی اور سیاسی مفاد سے اوپر اٹھ کر محض رضائے الہی کے لئے کچھ سوچنے اور کرنے کا داعیہ رکھتے ہوں وہ آگے آئیں اور انسانی جانوں کے اتلاف کے اس طویل سلسلے پر اپنی اپنی مذہبی تعلیمات کی روشنی میں باہمی گفت و شنید کے لئے اساس فراہم کریں۔

جب سے ریاست اسرائیل قائم ہوئی ہے ۔ یہودی علماء کی ایک بڑی تعداد اس کے قیام کو غیر توراتی بتاتی رہی ہے۔ ان کے یہاں مسیح کی آمد سے پہلے کسی ریاست کے قیام کا کوئی جواز نہیں ہے۔ ان کے ہاں ایسے مفکرین کی بھی کمی نہیں جو بڑی جرأت کے ساتھ اسرائیل کو ایک ایسی یہود دشمن حکومت بتاتے رہے ہیں جہاں تورات کی تعلیمات کی کھلے عام نفی کی جاتی ہے۔ فلسطینیوں پر ہونے والے مظالم کی جتنی شدت سے مخالفت خود یہودی علماء و مفکرین کے حلقے سے ہوتی رہی اتنی شاید باہر سے بھی نہیں ہوئی ہوگی۔ اہل یہود کے ان خداترس علماء کی تحریروں کو پڑھئے اور قوم یہود میں ریاست اسرائیل کے مظالم کے خلاف جاری مختلف تحریکوں پر نظر ڈالئے تو یہ بات صاف محسوس ہوتی ہے کہ آج بھی ان کے یہاں ان شب بیدار اہل تقوی کی کمی نہیں ، جن کی قرآن میں ستائش کی گئی ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمانوں کے حلقے سے بھی موجود ہ دل گرفتہ صورت حال پر قومی نقطۂ نظر کے بجائے قرآنی موقف اور ممکنہ قرآنی حل کو واشگاف انداز میں پیش کیاجائے۔

اس میں شبہ نہیں کہ قومی نقطۂ نظر سے ہماراکیس خاصہ مضبوط ہے ہم وہ لوگ ہیں جن پر بزور بازو ایک ریاست تھوپی گئی اور ایک لامتناہی جنگ مسلط کردی گئی۔ پھر اگر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ فلسطین کا پر امن حل اس کے علاوہ اور کچھ نہیں کہ غاصب یہودی واپس جائیں اور اسرائیل کا نام و نشان دنیا سے مٹ جائے تو یقیناًاس موقف کے سلسلے میں ہم پر جانب داری کا الزام نہیں آئے گا۔ البتہ اس بات کو آخری صداقت سمجھنا دراصل فریق مخالف سے تمام گفت و شنید کی راہ بند کردے گااور پھر ہماے پاس مسئلہ کے حل میں وہی ہیجان انگیز بیانات سامنے آئیں گے جن پر گذشتہ پچاس برسوں سے کار بند ہونے کے باوجود ہم کسی حل کی طرف تو کیا پہنچتے البتہ اس سنگین انسانی مسئلہ کو چلتے چلاتے شاعرانہ انداز سے نپٹانے کے خوگر ہوگئے ہیں ۔ اگر ساری دنیا کے مسلمان اسرائیل پر ایک بالٹی پانی ڈال دیں تو اسرائیل کا وجود بہہ جائے یا اگر ساری دنیا کے مسلمان اسرائیل پر صرف تھوک دیں تو وہ اس تھوک میں دفن ہوجائے گا ۔ یہ وہ شاعرانہ باتیں ہیں جووقتی طور پر ہمارے خون میں گرمی تو ضرور پیدا کرتی ہیں البتہ ان کا قابل عمل ہونا خود کہنے والوں کے دل و دماغ پر واضح نہیں ہوتا۔

ایک طرف ایریل شیرون کی حکومت ہے جو ظلم و بربریت کے سارے ریکارڈ توڑ چکی ہے۔ حکومت کی پوری مشینری بدترین طرح کے کرپشن کا شکار ہے۔ خود ایریل شیرون اور ان کے اہل خانہ کا ریکارڈ ریاستی خزانے کے حوالے سے انتہائی داغ دار رہاہے ۔ دوسری طرف عرفات اور ان کے حواریوں کا ٹولہ ہے جس نے بے بس فلسطینیوں کے نام پر امدادی فنڈوں کا غتر بود کر رکھاہے ۔ نہ اسرائیل کے حکمرانوں کو مذہب یہود سے کوئی دلچسپی ہے اور نہ ہی عرفات کے پیش نظر ارض فلسطین میں کسی عادلانہ معاشرے کا قیام ہے، لیکن دونوں طرف جو لوگ جانیں دے رہے ہیں وہ خالص مذہبی جذبے سے سرشار ہیں۔ جو صد ق دل سے یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی شہادت ایک مذہبی فریضہ ہے۔ کیا شیرون اور عرفات کی حکومتوں کو برقرار رکھنے کے لئے یا مستقبل کی دو علیحدہ علیحدہ غیر توراتی اور غیر قرآنی ریاستوں کے قیام کے لئے دونوں طرف سے انسانی جانوں کے اتنے بڑے نذرانے کا کوئی جواز ہے؟

اسرائیلی ریاست اور فلسطینی اتھارٹی دونوں ہی اپنے غیر دینی بلکہ بڑی حدتک دین مخالف لب و لہجہ کے باوجود اگر شدت پسند مذہبی عناصر کی حمایت برقرار رکھنے میں کا میاب ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ دونوں ہی طرف کی مذہبی قیادت ، کہیں کم کہیں زیادہ مذہب کے نام پر تاریخ میں الجھ کر رہ گئی ہے ۔ ایک ایسی تاریخ جسے ماضی کی طرف ہمارے تقدیسی رویے نے تقدس عطا کر رکھا ہے اور جس سے غایت دین کا کوئی واقعی تعلق نہیں۔ ضرور اس بات کی ہے کہ ہم محض ایک مسلم قومی نمائندے کی حیثیت سے مسئلہ کو دیکھنے کے بجائے دونوں نقطۂ نظر کو انتہائی کھلے دل سے سمجھنے کی کوشش کریں اور پھر کسی ایسی پے چیدہ صورت حال پر غایت قرآنی کی روشنی میں کسی قابل عمل حل تک پہنچنے کی کوشش کریں۔ یہودی کہتے ہیں کہ ارض فلسطین میں محض ان کا چار مربع فٹ چلنا انہیں جنت میں پہنچا سکتاہے۔ ان اوہامی تصورات کے لئے خو د ان کی تورات سے کوئی دلیل نہیں لائی جاسکتی۔ ہاں تلمودی ادب میں ایسی بشارتوں کی کمی نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ معبد کے بغیر ان کی مذہبی زندگی ادھوری ہے۔ ہیکل سلیمانی کی مرکزی قربان گاہ کے بغیر ان کے یہاں قربانی کا کوئی تصور نہیں۔ مذہبی یہودی جنہیں سیاسی قیادت نے یرغمال بنارکھاہے جوعرصے سے ارض کنعان کی واپسی کی دعاکرتے آئے ہیں ۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ کوئی دو ہزار سال بعد اب انہیں اتنی قوت فراہم ہوگئی ہے کہ وہ ہیکل سلیمانی کی مذہبی زندگی کو دوبارہ بحال کرسکتے ہیں۔ لہذا وہ اس تاریخی موقع کو ہر گز کھونا نہیں چاہتے۔ دوسری طرف فلسطینیوں پر ہونے والے مظالم اور جبراً ان کی بے دخلی کا معاملہ بھی ایک ایسا روشن واقعہ ہے جس سے تاریخ اپنی آنکھیں بند نہیں کرسکتی۔پھر یہ کہ قبل�ۂ اول کے حوالے سے مسجد اقصیٰ اور گنبد صحرا کا معاملہ بھی مسلمانوں کے لئے ایک خالص مذہبی معاملہ ہے جس نے ارض فلسطین کو ان کے نزدیک بھی یہودیوں کی طرح ارض مقد س بنادیاہے ۔ لہذا دونوں قومیں ارض مقد س پر کسی قسم کی مصالحت کو سودابازی سے تعبیر کرتی ہیں۔ انور سادات اور اسحاق رابین کی اپنے ہی ہم قوموں کے ہاتھوں موت سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ دونوں جگہ اس بارے میں کتنی شدت پائی جاتی ہے۔ یہ مسئلہ کا صرف ایک پہلو ہے جس نے اس پوری معرکہ آرائی کو خوں آشام بنانے میں مرکزی رول اداکیاہے۔

ایک ایسے مرحلے میں جب دونوں طرف شدت جذبات میں کسی منصفانہ اور معقول حل کے راستے بند دکھائی دیتے ہوں۔ جب ابراہیم کے ماننے والے ، اسحق و اسمعیل کی صلبی اور روحانی اولادیں اسی ایک خدا کی عبادت گاہ کے حوالے سے بدترین خون خرابے میں مبتلاہوں اور جب توحید کے علمبردار یہ بھول گئے ہوں کہ خدا کو کسی خاص مسجد یا کسی طرز کے معبد کے بجائے غیر مشروط سپردگی مطلوب ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم مسلمان حاملین قرآن کی حیثیت سے آگے آئیں اور لوگوں کو یہ بھولا ہوا سبق یاد دلائیں کہ اللہ کو جو کچھ مطلوب ہے وہ یہودی، عیسائی یاروایتی مسلمانیت نہیں اور نہ ہی کسی خاص شناخت کی طرز تعمیر اور ان میں ہونے والی فرقہ وارانہ عبادت۔ وہ تو (کونوا ہودا او نصاریٰ)کو لائق استراد سمجھتاہے اور اس کا مطالبہ (ملۃ ابراہیم حنیفا) کا ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ براہیمی سلسلے میں پائی جانے والی سعید روحیں ارض فلسطین کو اس موجود ہ گرداب سے نکالنے کے لئے لوجہ اللہ آگے آئیں۔ حق کی حمایت میں وہ اس بات سے بے پروا ہوکر سوچیں کہ ان کی باتیں خود ان کی قوم کی ناراضی کا سبب بن جائے گی یاا س سے ان کے قومی مفاد کو نقصان پہونچے گا۔ گذشتہ دنوں جب اسرائیلی پارلیامان (Kanaset) کے ایک رکن ابراہیم برگ نے ریاست اسرائیل کو حقیقت پسندی کا مشورہ دیا تو یہودی دنیا میں انہیں دشمنوں کا معاون گردانا گیا۔ اہل یہود میں ابراہیم برگ جیسے لوگوں کی کمی نہیں لیکن مشکل یہ ہے کہ اہل یہود سے متعلق ہمارا فہم قرآن مجید کے بجائے سید قطب کے معروف زمانہ کتابچہ معرکتنا مع الیہود کا پر وردہ ہے جس میں بلا استثنیٰ تمام ہی یہود شیطانی گروہ کے پراسرارکردار کی حیثیت سے دکھائے گئے ہیں ۔ ہم مد ت سے ان تفسیروں کے اسیر ہیں جن میں (غیر المغضوب علیہم ولا الضالین) سے با لتخصیص یہودو نصاری مراد لئے جاتے ہیں۔ ہم شدت جذبات میں یہ نہیں سوچتے کہ قرآن مجید جو منصف اعلیٰ کا کلام ہے عہد رسول کے بعض یہودی قبائل یا افراد کی بدبختی کے لئے ان کی تمام آئندہ نسلوں پر لعنت کا فیصلہ کرسکتاہے۔ قرآن میں اہل قریش کے بعض کردار کی بھی شدید مذمت کی گئی ہے۔ کفار قریش کی دنیوی و اخروی خسارے کا مژدہ سنائے جانے کے باوجود ہمارے گمان میں بھی یہ بات نہیں آتی کہ تاقیامت کفار قریش کی اولادیں مغضوب الغضب ہیں۔ پھر کوئی وجہ نہیں کہ کسی خاص نسل کی شرار ت کے لئے آنے والی تمام نسلوں کو باعث لعنت قرار دیاجائے۔

کچھ یہی معاملہ اہل یہود کی مذہبی فکر کا بھی ہے جو تلمودی تشریحات کے زیر اثر یہ سمجھ بیٹھی ہے کہ اہل یہود کی برگزیدہ قوم کے مقابلے میں غیر یہود کی کوئی قدر و قیمت نہیں ۔ ان کا خون مباح اور ان کی ثقافت بے معنی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم مسئلہ فلسطین پر روایتی فہم کے بجائے از سر نو غایت قرآنی کی روشنی میں غور و فکرکریں۔ تبھی ہم مسلسل تلف ہوتی ہوئی جانوں کو ضائع ہونے سے بچا سکیں گے اور فلسطین کی تاریخی سرزمین ماضی کی طرح مسلمانوں اور دیگر اہل کتاب کی عبادتوں سے معمور ہوسکے گی۔ کہاں گئے اہل کتاب کے وہ امۃ قائمہ جن کے بارے میں قرآن کہتا ہے کہ وہ راتوں کو اٹھتے اور خدا کی حمدو مناجات کرتے ہیں اور جن کے لئے قرآن کی بشارت ہے کہ ان کے نیک اعمال کی ناقدری نہیں کی جائے گی (وما یفعلوہ من خیر فلن یکفروہ) لیکن ساتھ ہی ساتھ خود ہمارے اندر ایسے خدا ترس لوگوں کی دریافت ضروری ہے جو کمال جرأت کے ساتھ قومی مفاد سے اوپر اٹھ کر یہ کہہ سکیں (یا اھل الکتاب تعالوا الی کلمۃ سواء بیننا و بینکم ألا نعبد الا اللہ و لا نشرک بہ شیئا و لا یتخذ بعضنا بعضا اربابا من دون اللہ) (آل عمران:۶۴)۔

(نوٹ : یہ تحریر یاسرعرفات کے انتقال سے قبل لکھی گئی تھی)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close