insight

عورت کی امامت

راشد شاز

کیا کسی مسلم خاتون کے لیے اس بات کی گنجائش موجود ہے کہ وہ نماز جمعہ کی امامت کرے اور وہ بھی ایک ایسی صورتحال میں جب اس کے مقتدیوں میں عورتوں کے علاوہ مردوں کی بھی وافر تعداد موجود ہو؟۔ یہ وہ فقہی سوال ہے جس پر مسلم دنیا کے دارالافتاء اور مؤثر شخصیات مختلف انداز سے اپنی رائے دے رہے ہیں۔ شیخ یوسف القرضاوی نے، جنہیں عالم اسلام میں ایک معتبر عالم دین کی حیثیت حاصل ہے، اس مسئلہ پر شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے اس عمل کو دین سے انحراف پر مبنی قرار دیا ہے ۔ دوسری طرف شیخ الازہر اور اس قبیل کے دیگر علماء عورت کی امامت کو سرے سے قابل استراد تو نہیں ٹھہراتے البتہ ان کے خیال میں عورت کی امامت صرف خاتون مقتدیوں تک محدود ہونی چاہیے۔ سعودی عرب اور خود ہندوستان میں روایتی علماء نے اس عمل کو باعثِ گناہ بتایا ہے۔ ان علماء کرام کو اس بات پر شدید غصہ ہے کہ ایک ایسی صورتحال میں جب امت اسلامیہ پر خارج سے شدید حملے ہورہے ہیں خود دختران امت فتنے کی اس نازک گھڑی میں اس قسم کے مباحث چھیڑ کر آخر کیا حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ انہیں اندیشہ ہے کہ اس طرح کی کوششوں سے بالآخر فائدہ دشمن کو ہی پہونچے گا اور اس طرح امت کا ذہنی خلفشار اور فکری انتشار عام لوگوں پر کہیں زیادہ نمایاں ہوجائے گا۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ اس مسئلہ پر غم و غصہ کے بجائے ٹھنڈے دل و ماغ سے غور کیا جائے کہ یہی عقل کا تقاضا ہے اور قرآن کی تعلیم بھی۔ فقہی اعتبار سے اگر اس سوال پر غور کیا جائے کہ مسلمانوں کے کسی اجتماع میں امامت کا اہل کون ہے؟ تو خود فقہاء کے نزدیک یہ چیز دیکھی جائے گی کہ جو ان میں نسبتاً تقویٰ میں بڑھا ہوا ہو، دین کی فہم و بصیرت سے معمور ہو اور جسے قرآن مجید کی ترتیل کا بہتر سلیقہ حاصل ہو، وہاں سِرے سے یہ بحث نہیں آئے گی کہ ان اعلی صلاحیتوں کا حامل شخص مرد ہو یا عورت کہ قرآن نے نسلی یا جنسی شناخت کو سرے سے لائق اعتناء نہیں سمجھا ہے۔ کسی ذات کا عورت ہونااس کے لیے سماجی اور دینی طور پر وجۂ معذوری بن جائے، قرآنی دائرہ فکر سے اس خیال کی توثیق نہیں کی جاسکتی۔ یہ تو تھا عورت کی امامت پر قرآنی دائرہ فکر میں رہتے ہوئے غور کرنے کا معاملہ۔ رہی یہ بات کہ فقہا ان مسائل پر کس طرح سوچتے ہیں تو اس میں شبہ نہیں کہ ان کے یہاں صرف ا س خیال سے ایک مباح کام کو ممنوع قرار دینے کی روایت موجود ہے جس کی بنیاد صرف اس اندیشے پررکھی گئی ہو مبادا یہ عمل فتنہ کا سبب بن جائے۔ مثال کے طور پر عورتوں کے مسجد میں داخلے کے مسئلہ کو لیجئے۔ اسلام کی متوارث تاریخ اور امت کا متوارث عمل اس بات پر شاہد ہے کہ مسجد جو اسلام کا بنیادی سماجی ادارہ ہے اس میں عورتوں کی شمولیت کا عہدِ رسول سے التزام کیا گیا ہے۔ حرم مکی اور مسجد نبوی میں یہ استمرار آج تک موجود ہے۔ گوکہ ماضی میں بعض حکام اور علماء نے مخلوط طواف پر روک لگانے کی کوششیں کیں لیکن ان کی یہ کوششیں بارآور نہ ہوسکیں۔ اس سلسلے میں عطا جیسے جلیل القدر محدث کی مزاحمت کا سلسلہ تاریخ کی کتابو ں میں مذکور ہے۔ البتہ حجاز مقدس سے دور جہاں فقہا کی فہم پر مقامی اثرات کہیں زیادہ حاوی ہوگئے انہوں نے اس خیال سے عورت کے سماجی رول پر قدغن لگادی مبادا معاشرے میں اس کی آزادانہ چلت پھرت اور مسجدوں میں اس کی آمد و رفت زوال زدہ مسلم معاشرہ کو مزید فتنہ میں مبتلا کردے۔ حالانکہ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اگر مسلم مرد کی اخلاقی حالت قابل رحم تھی تو مرد کی اخلاقی تربیت کی جاتی۔ اس کے برعکس ہوا یہ کہ اس کی سزا عورتوں کو دی گئی اور انہیں مسجد جیسے مرکزی مقام سے انخلاء پر مجبور کردیا گیا۔
بات یہیں ختم نہیں ہوئی بلکہ زوال کے پرآشوب دور میں اپنا دین بچائے رکھنے کے لیے اس بات کی بھی ضرورت محسوس کی گئی کہ مسلم خواتین سے قرآنی احکام حجاب کے علاوہ مزید اضافی پردے کا مطالبہ کیا جائے۔ چنانچہ چہرے اور ہتھیلیوں کے اکتشاف کی جو روایت قرن اول سے چلی آرہی تھی اور جس کی تائید میں آج بھی تاریخ و احادیث کی کتابوں سے بے شمار دلیلیں لائی جاسکتی ہیں اسے کالعدم قرار دیا گیا۔ گو کہ علماء کے درمیان چہرے کے پردے کا مسئلہ آج تک متنازع ہے البتہ اس حقیقت سے انکارنہیں کیا جاسکتا کہ چہرے کے پردے کو دین کی محتاط ترین تعبیر قرار دینے کے نتیجہ میں آج مسلمانوں کی ایک بڑی آبادی اسے دین کی صحیح تعبیر سمجھنے کی غلط فہمی میں مبتلا ہے۔ یہاں بھی دراصل احتیاط کا وہی مفروضہ اصول کارفرما ہے کہ اگر تمام جسم کو ڈھکنے کے بعد بھی چہرہ کھلا رہ گیا تو زوال زدہ معاشرہ میں فتنہ کا سد باب ممکن نہ ہوگا۔ بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ کربعض حلقوں میں اب یہ خیال عام ہے کہ غیر مردوں کے لیے عورت کی آواز کا سننا حرام ہے اور بعض مسلم سماج میں آج بھی خواتین کے نام کو منکشف یا متعارف کرانا اسلامی قدروں کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔ احتیاط کے اس فلسفہ کا سب سے زیادہ خمیازہ مسلم خواتین کو بھگتنا پڑا کہ صدیوں پر مشتمل اس پورے احتیاطی عمل میں وہ بے چہرہ ، بے نام اور بے آواز ہو کر رہ گئیں۔ ایک مسلمہ کی حیثیت سے انہیں اپنے سماجی اور دینی رول سے دست بردار ہونا پڑا۔ دوسری طرف جو لوگ مسلم معاشرہ کے زوال کو روکنے کے لیے اٹھے تھے ان کی ساری توجہ عورتوں کو قابو میں رکھنے میں صرف ہوگئی، مردوں کی خاطر خواہ اصلاح کا کام ان کے پروگرام سے محو ہوگیا۔ فی زمانہ جو لوگ عورت کی سماجی،سیاسی یا مذہبی قیادت کو صرف اس بنیاد پر رد کرنا چاہتے ہیں کہ ایسا کرنا ایک نئے فتنہ کا موجب ہوسکتا ہے وہ دراصل قدماء کی اسی روش پر گامزن ہیں جس کے نتیجے میں ہمارے جاری زوال کی رفتار میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔
اسلام نام ہے خود سپردگی کا۔ یہ خود سپردگی مردوں سے بھی اسی قدر مطلوب ہے جتنی عورتوں سے۔ ہمیں یہ بات تسلیم کرنے میں ذرہ برابر تامل نہیں ہونا چاہیے کہ خدا اور اس کا رسول اس بات کو کہیں بہتر سمجھتا ہے کہ کون سی چیز باعث فتنہ ہے اور کس عمل سے انسانی معاشرہ کا توازن برقراررہ سکتا ہے۔ اگر اللہ نے مسلم خاتون کو مسلم مرد کی طرح مسجد کی دینی و سماجی زندگی میں شرکت کا حق دیا ہے اور اگر اسے رسول اللہ نے اپنے عہد میں عمل کی سند بخشی ہے تو ہمیں یہ حق نہیں پہونچتا کہ ہم بعد کے عہد میں اپنے ناقص فہم کی بنیاد پر عورتوں سے ان کا یہ حق چھین لیں۔ تاریخِ اسلام کا معمولی طالب علم بھی اس بات سے واقف ہے کہ عہد رسول کی سماجی زندگی میں عورتوں کی چلت پھرت، ان کے ناموں اور چہروں کا معروف ہونا، تجارت اور حرفت میں ان کی شرکت، معمول کی بات تھی۔ خلفائے راشدہ کے عہد میں سیاسی امور پر ان سے مشاورت طلب کی جاتی اور ایک غیر معروف چپٹی ناک والی عورت عمرؓ جیسے صاحب الرائے خلیفہ کو عین خطبہ میں ان کی تعبیری لغزشوں پر برملا متنبہ کرنا اپنا فرض جانتی۔ اسلام کی اس ابتدائی معاشرت کو اگر متصور کیجئے تو اکیسویں صدی کی ابتدا میں کسی مسلم خاتون کے نماز جمعہ پڑھانے کی بات کوئی قابلِ حیرت واقعہ نہیں معلوم ہوتا۔ ڈاکٹر محمد حمیداللہ نے خطبات بہاول پور میں قرن اول سے ایسے دو واقعات کا ذکر کیا ہے جس میں عورت کی امامت کا تذکرہ ملتا ہے، اگر یہ تاریخی واقعات کتابوں میں موجود نہ ہوتے جب بھی ہمیں یہ سمجھنے میں زیادہ دشواری نہیں ہونی چاہیے تھی کہ اسلام نے تقوی کے جس بنیادی جوہر کو بارگاہ الہی میں قبولیت کی شرط قرار دیا ہے اور جو مردو عورت دونوں کے لئے یکساں جوہرِ امتیاز ہے، اس کے بعد اس بات کی گنجائش ہی کہاں رہ جاتی ہے کہ کوئی شخص صرف اس بات پر فخر کرے کہ وہ کسی خاص نسل، خطے، رنگ و نسل یا جنس کا حامل ہے۔ قرآن نے اس بات کی وضاحت کردی ہے کہ کسی شخص کا عمل صرف اس لئے ساقط الاعتبار نہیں ہوسکتا کہ وہ وہبی طور پر کسی خاص گروہ یا جنس میں پیدا ہوا ہے۔ (انی لا اضیع عمل عامل منکم من ذکر أو انثی بعضکم من بعض)(آل عمران:۱۹۵) جہاں اس بات کی ضمانت دی جارہی ہو کہ کسی کا ذرہ برابر بھی عمل رائیگاں نہ جائے گا (و لا تکسب کل نفس الا علیہا و لا تزر وازرۃ وزر اخری) (الانعام:۱۶۴)اور یہ کہ ہر شخص کو اس کے کئے کا بدلہ ملے گا ( کل نفس بما کسبت رہینۃ) جہاں تمام شناختیں جھوٹی قرار پاتی ہوں،مرد اور عورت سبھوں کے لیے صبغۃ اللہ کو اختیا رکرنے کی تلقین ہو وہاں اس کا سوال ہی کب پیدا ہوتا ہے کہ کوئی شخص محض اپنی مردانہ وجاہت کو متبع مؤمن عورتوں پر تفوق کے لئے پیش کرسکے۔ قرآن نے فرعون جیسے بااختیار مرد اور ابو لہب جیسے بدویانہ افتخار کے حامل شخص کے لیے تباہی کی وعید سنائی ہے جبکہ دوسری طرف ملکہ سبا جیسی حق شناس عورت کی قیادت میں پوری قومِ سبا کی راہ یابی کا مژدہ سنایا ہے۔ گویا مرد و عورت، سیاہ وسفید، نسل و وطن ہر وہ چیز جو انسان کی وہبی میراث ہو اس کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اس بات کو واضح کردیا گیا ہے کہ خدا کے نزدیک جو چیز قابل ستائش ہے وہ محض عمل صالح ہے اور یہ ایک ایسی چیز ہے جس کے بارے میں مسلمان تو مسلمان اہل اسلام کے علاوہ بھی دوسری قوموں کے صالحین سے بے انصافی نہیں کی جائے گی۔ ان کا اجر ضائع نہیں ہوگا۔ ایک ایسی کتاب کے ماننے والے جس کے بیّنات جابجا اس بات کی صراحت کررہے ہوں کہ رنگ و نسل، جنس و جغرافیہ، شمال و جنوب، عرب و عجم کے تمام غیر فطری امتیازات مٹادئے گئے ہیں جس کی جھولی میں عمل صالح ہے وہ فیصلہ کے اس دن کا انتظار کرے جب خود بار الٰہا کھڑے کھوٹے میں فیصلہ کردے گا۔ اس سے پہلے کسی ذمہ دار اور خدا شناس اہل ایمان کو اس بات کی ہمت کیسے ہوسکتی ہے کہ وہ کسی کو گنہگار یا واصل جہنم بتائے کہ ان بڑے امور کا فیصلہ تو خدا نے اس دن کے لئے محفوظ کررکھا ہے۔
(بأي ذنب قتلت) سے دینی اور سیاسی رہنمائی تک عورت نے ایک طویل سفر طے کیا ہے۔ محمد رسول اللہ نے اکرامِ آدمیت کی جس تحریک کا آغاز کیا تھا دنیا کے مختلف گوشوں میں اس کے دور رس اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ صرف امتِ مسلمہ اس نبوی تحریک کی برکات سے فیضیاب نہیں ہوئی بلکہ معاشرے کے دوسرے دبے کچلے لوگوں کو بھی اس کا وافر فائدہ پہنچا۔ سود کی دلدل میں پشتہا پشت سے پھنسے خاندانوں نے راحت کی سانس لی، غلامی کا ادارہ رفتہ رفتہ اس سرزمین سے غائب ہوگیا۔ اسی طرح عورتوں کو مردوں کا دست نگر بنائے رکھنے کی جاہلی روایت کا خاتمہ ہوا۔ (والمؤمنون والمؤمنات بعضہم اولیاء بعض) (التوبۃ:۶۷)کے نشاط انگیز پیغام نے اس خیال کی جوت جگائی کہ اب انسانی معاشرے کو سپردگی کی راہوں پر لے چلنے میں عورت اور مرد کا برابر کا رول ہوگا۔
عہد رسول میں جس انقلاب کی بناء رکھی گئی تھی اس کے تمام ثمرات اس عہد میں حاصل نہیں ہوگئے تھے کہ اگر ایسا ہوگیا ہوتا تو آگے کی تاریخ اور آخری رسول کی معنویت کیا رہ جاتی؟جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ عہد رسول میں جو ثمرات حاصل نہیں ہوئے اسے آئندہ بھی نہیں ہونا چاہیے یا جو لوگ اس بات پر مصر ہیں کہ جو کام عہد رسول میں نہ ہوا ہو اسے آنے والی صدیوں میں انجام دینا قرب قیامت کی علامت کا ظہور ہے وہ دراصل آخری رسول کی معنویت اور قرآن کی ابدیت کا صحیح ادراک نہیں رکھتے۔ ورنہ ان کے پاس آخر اس سوال کا کیا جواب ہے کہ قرآن میں غلاموں سے حسن سلوک کے جو آداب بتائے گئے ہیں ان کا فی زمانہ اس لئے انطباق نہیں ہوسکتا کہ اب غلامی کا قدیم ادارہ باقی نہیں رہا۔ ہم اس واضح اور روشن حقیقت کا کیسے انکار کرسکتے ہیں کہ قرآن میں غلاموں سے حسن سلوک یا ان کو آزاد کرنے کی ترغیب کے نتیجہ میں لامحالہ ایک نہ ایک دن اس ادارہ کا خاتمہ یقینی تھا۔ گویا یہ ترغیب و احکام ایک بڑے سماجی انقلاب کی ابتدا تھی ، انتہا نہیں۔ ان کے واقعی اثرات تو آنے والی صدیوں میں ہی مجسم ہونے تھے۔ اسی طرح قرآن میں احکام زکوٰۃ کو پڑھ کر کوئی شخص اس نتیجہ پر نہیں پہونچتا کہ قرآن غرباء کا ایک طبقہ باقی رکھنا چاہتا ہے تا کہ امراء اپنی دینی ذمہ داریوں سے عہدہ برآہو نے کے لئے ان کی طرف ملتفت ہوں ۔ کچھ یہی حال مسلم معاشرہ میں عورت کے ارتقائی سفر کا ہے۔ عہد رسول میں عورت کو مرد کے بالمقابل جس طرح ایک مساوی شخصیت کے طور پر تسلیم کیا گیا اور جس طرح سماجی سرگرمیوں کے دروازے اس پر کھولے گئے اس کا لازمی نتیجہ تھا کہ آنے والی صدیوں میں علم وتقوی کی بنیاد پر عورتیں سماجی زندگی کے اعزاز و اکرام پر اپنا دعویٰ قائم کریں۔ اسلام نے عورتوں کے امپاورمنٹ کی جوبنیاد رکھی تھی اس کے وسیع اور دور رس اثرات مسلم معاشرہ سے باہر بھی پڑتے رہے ہیں۔ مغرب میں آزادی نسواں کی تحریکیں، سماجی اور سیاسی انصرام میں ان کی شمولیت، رائے دہی کا حق، انفرادی آزادی کی ضمانتیں یہ سب اچانک خلا سے وجود میں نہیں آگئی ہیں۔ ان کے پیچھے بھی دراصل اسی نبوی تحریک کے اثرات ہیں جو صدیوں کے ثقافتی تعامل کے نتیجے میں مغربی اقوام تک پہنچی ہیں اور جہاں وحی سے بے نیازی کی وجہ سے شخصی آزادی کی تحریکیں آج افراط و تفریط کا شکار ہیں۔
انسانی معاشرہ مسلسل نمو پذیر ہے۔ آپ ؐ نے مکہ میں اکرام آدمیت کی جس تحریک کا آغاز کیا تھا اس کا سلسلہ روکے نہیں رک سکتا۔ انسانیت کے سفر میں جن لوگوں کی نگاہیں میگناکارٹر سے آگے نہیں دیکھ پاتیں یا جو یہ سمجھتے ہیں کہ یونیورسل ڈیکلریشن آف ہیومن رائٹس سے پہلے انسانی تاریخ کا سفر منجمد تھا وہ دراصل دانستاً تاریخ سے ناواقفیت کا ثبوت دیتے ہیں۔ آج دنیا میں اکرام آدمیت کی جتنی باتیں ہورہی ہیں یا دنیا کو تباہی سے بچانے ،نیوکلیئر جہنم سے محفوظ رکھنے،ماحولیات کی فکر گیری، انسانوں سے بڑھ کر جانوروں بلکہ دوسری مخلوق کے انقطاع نسلی کے اندیشے، ہواؤں کی تطہیر کے منصوبے اور سمندروں کی فطری آب و تاب کو برقرار رکھنے کی کوششیں، ان سبھوں کے تانے بانے اسی نبوی تحریک سے ملتے ہیں۔ آج اگر مسلم معاشرہ میں عورتیں خود کو حاشیہ پر محسوس کرتے ہوئے پدرانہ مسلم معاشرہ میں اپنے سماجی رول کی از سر نو بازیافت کے لیے اپنے اندر امامت جیسے مسئلہ کو بزور بازو حاصل کرلینے کی ہمت پاتی ہیں تو اسے اس تاریخی تسلسل سے علاحدہ کوئی اجنبی عمل نہیں کہا جاسکتا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے تہذیبی ورثے پر متحیر ہونے یا اجنبیت کی نگاہ ڈالنے کے بجائے اسے اس وسیع تناظر میں دیکھیں۔ کسی انسانی عمل میں خواہ وہ (فاستبقوا الخیرات) کی تحریک ہی کیوں نہ ہو افراط و تفریط کا پیدا ہوجانا عبث نہیں کہ اس افراط و تفریط کی اصلاح کی گنجائش تو ہر لمحہ رہے گی۔ البتہ اگر ہم نے ان اقدامات کو صرف یہ کہہ کر رد کر دیا کہ یہ دشمن کی سازش یا دین سے باغی مسلمانوں کا مردود عمل ہے تو ہم صورتحال کی صحیح تفہیم تک پہنچ سکیں گے اور نہ ہی ممکنہ اصلاح کا کوئی امکان باقی رہ جائے گا۔
اس میں شبہ نہیں کہ اسلام کی چودہ صدیوں میں چند استثنائی تاریخی واقعات کو چھوڑ کر عورت کو مسجد کے منبر پر بحیثیت امام یا خطیب قبول کرلینے کی سماجی روایت مستحکم نہیں ہے۔ لیکن ساتھ ہی اس بات سے انکار بھی ممکن نہیں کہ عورت کو فقیہہ، مدبرہ اور معلمہ کی حیثیت سے تسلیم کرنے میں مسلم مردوں نے کم ہی تکلف یا بخل کا مظاہرہ کیا ہے۔ البتہ اگر ہم اس اصول کو اپنے سامنے رکھیں کہ اسلامی تحریک کے اثرات، سب کے سب، عہد رسول میں ظاہر نہیں ہوگئے تھے بلکہ اس کے اثرات مستقبل میں بھی ظاہر ہوتے رہیں گے اور یہ کہ عالمی سطح پر ایک نبوی معاشرہ کے قیام کا منصوبہ ابھی شرمندۂ تعبیر ہونا باقی ہے اور یہی آخری رسولؐ کی معنویت اور ان کے متبعین کے لیے جواز بقا ہے، تو پھر ہمارے غور و فکر کا انداز یکسر بدل جائے گا۔ ہم عورت کی امامت کے مسئلہ کو محض ایک فتنہ یا قرب قیامت کی علامت بتانے کے بجائے اس پر قرآنی محاکمے کی ضرورت محسوس کریں گے۔ ہمارے خیال میں جولوگ اس واقعہ کو غارت گرِایمانی کا سبب بتاتے ہیں وہ دراصل اپنے اندر قرآنی دائرہ فکر میں محاکمے کی ہمت نہیں پاتے یا اس کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ ان کے لیے قدماء کی تعبیر اور ان کے فتاویٰ سب کچھ ہیں حتی کہ وہ ان تعبیرات پر محاکمے کو بھی فتنہ سمجھتے ہیں حالانکہ یہ بات اصولی طور پر درست نہیں کہ مستقبل کے دین کو اور اس دین کو جوآخری لمحہ تک ہماری رہنمائی کا دعویدار ہے اسے قدماء کی تعبیر کا تابع کردیا جائے کہ ایسا کرنا وحی کو اس کے فریضہ سے معطل کردینا ہے۔ بدقسمتی سے مسلم معاشرہ میں صدیوں سے قرآن کو محور غوروفکر سے پَرے محض کتاب برکت کی حیثیت سے دیکھنے کا رواج عام ہے۔ ہم اس بات کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں کہ قدما بھی ہماری طرح انسان تھے۔ وحی کی تشریح و تعبیر ، احکام کے استخراج و استنباط اور حکمت و مصالح کے تعین میں ان سے بھی غلطیوں کا صدور ہوا ہوگا۔ ہم اس بات کے سزاوار نہیں کہ ان کے التباس فکری کو اپنے کمزور کاندھوں پر ڈھوتے پھریں۔ ہمارے لئے ہماری اپنی فکری اور عملی لغزشیں ہی کیا کم ہیں کہ ہم قدما کی لغزشوں کا بوجھ بھی اٹھانا ضروری خیال کریں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس نازک، حساس اور اہم مسئلہ پر قدیم فقہی ڈھانچے میں اظہار غیظ و غضب کے بجائے اس کا محاکمہ چودہ صدیوں پر محیط نبوی تحریک کے ارتقائی سفر کی روشنی میں کیا جائے۔ البتہ اس عمل میں نئے مجتہدین کے لئے لازم ہوگا کہ جس طرح وہ قدیم فقہ پر سماجی اور سیاسی اثرات کے شاکی ہیں اسی طرح مسئلے کی تحکیم میں عہد جدید کے سماجی و سیاسی مضمرات سے بھی حتی الامکان اپنا دامن بچائے رکھیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close