Slider Post

علی گڑھ کیوں خوابیدہ ہے؟

راشد شاز

علی گڑھ ایک ایسے مدرسۂ فکر کا نام ہے جو انتہائی مشکل حالات میں راستہ بنانے اورآگے بڑھنے کا فن سکھاتا ہے۔ مغلیہ سلطنت کی تباہی کے بعد علی گڑھ نے اسلامیان ہند کے کارواں کو از سر نو منظم کرنے اور اسے ایک نئی توانائی عطا کرنے میں اگر کمال فن کا مظاہر ہ کیا تو اس کے پیچھے دراصل سید احمد کی معاملہ فہمی، نبض شناسی بلکہ کہہ لیجئے کہ وہ پیمبرانہ بصیرت تھی جس نے انہیں سخت حالات میں بھی ہمت ہارنے کے بجائے دشمنوں کے دلوں پر دستک دینے کی جرأت اور ہمت عطا کی۔ سرسید نے تقدس اور عقیدت کے بجائے عقل اور تجزیہ پر زور دیا اور اس خیال کے پرزور وکیل بن گئے کہ جوبات عقل کے خلاف ہو وحی بھی اس کی حمایت نہیں کرسکتی۔ آگے چل کر پے بہ پے واقعات نے اس عقلی رویہ کی مزید توثیق کردی کہ دشمن کی کچلتی روندتی فوجوں کا راستہ ختم خواجگان اور ختم بخاری کے ذریعہ نہیں روکا جاسکتا۔
علامہ اقبال شاید وہ پہلے آدمی ہیں جنھوں نے برملا اس بات کا شکوہ کیا ہے کہ ہندوستانی علماء کی تنگ نظری ، ان کادقیانوسی طرز فکر اور زمینی حقائق سے ان کا رشتہ منقطع ہو جانے کے سبب وہ سرسید کی عبقریت کا صحیح اندازہ لگانے میں ناکام رہے اور ان کی مخالفت پر اتر آئے۔ لیکن اس کے باوجود یہ بات بھی اپنی جگہ مسلم ہے کہ کالج کے قیام کے بعد برصغیر ہندوپاک میں مسلمانوں نے جو کچھ بھی کیا ہے اس پر سرسید کے فکر وعمل اثرات خاصے گہرے ہیں۔ ابتداء سے ہی علی گڑھ میں وقت کے بہترین دماغ جمع رہے جن کی شرکت کے بغیر ہمارے قافلہ ملی کا کوئی سفر خیال عبث سمجھا گیا۔ خلافت موومنٹ سے لے کر قیام پاکستان تک علی گڑھ کو ہندوستانی مسلمانوں کے دل ودماغ کی حیثیت حاصل رہی۔ البتہ آزادی کے بعد ایک بڑ ا عرصہ اس ادارے پر ایسابھی گزرا جب وہ محض کسی چراغ مفلس کی طرح ٹمٹماتا رہا۔ لیکن یہ صرف علی گڑھ کی کیفیت نہ تھی بلکہ بچے کچے تمام ہی ہندوستانی مسلمانوں پر محرومی اور مایوسی کی یہی کیفیت طاری تھی۔ مولانا ابوالکلام آزاد جیسے مضبوط اعصاب کے لیڈر بھی تقسیم ہند کے غیر متوقع سانحہ سے خود کو کبھی ہم آہنگ نہ کرپائے۔ سچ پوچھئے تو منقسم ہندوستان کے مسلمانوں کے لئے مولانا کی جھولی میں کوئی واقعی اسیکم نہ تھی۔ ایک طویل عرصہ تک علی گڑھ پر خوابیدگی طاری رہی اور ہندوستانی مسلمانوں کا ملی کارواں بے سمتی کا شکار رہا۔ قیاد ت کے اس خلا میں ۱۹۷۲ء میں جب بعض بزرگوں نے پرسنل لا کے تحفظ کے لئے ایک فورم بنانے کا اعلان کیا اس وقت کسی کے حاشیۂ خیال میں بھی یہ بات نہ تھی کہ ان کا یہ قدم گویا اسلامیان ہند کی از سرنو شیرازہ بندی سے عبارت ہے۔ اس وقت طبقہ علماء کی اس کوشش کو خالصتاً ایک مذہبی معاملہ کے طورپر دیکھا گیا اور بس۔ قیادت کی کرسی جب بھی خالی رہی۔ البتہ شاہ بانو قضیہ میں دین وشریعت کے نام پر جس طرح جذباتی انداز سے عوامی تحریک چلائی گئی اس نے پرسنل لا بورڈ کو ایک ملک گیر ملی فورم کی حیثیت عطا کر دی۔منقسم ہندوستان میں یہ پہلا تجربہ تھاجس نے ہمیں یہ باور کرایاکہ مسلمان اس گئی گزری حالت میں بھی اگر متحد ہوجائیں تو اپنا وزن محسوس کراسکتے ہیں۔ دوسری طرف اس تجربہ نے بہت سے حوصلہ مندوں کو یہ راستہ بھی دکھایا کہ جذباتی نعرے اگر مذہبی علامتوں سے مرصع ہوں تو یہ ایک ہیجان انگیز عوامی تحریک کو جنم دے سکتے ہیں۔ آگے چل کر بابری مسجد کی تحریک نے بہت سی نئی قیادتوں کو جنم دیا لیکن ساتھ ہی یہ بھی ہوا کہ سقوط مسجد کے سانحہ کے ساتھ ہی نئی قیادتیں بھی منہدم اور مشتبہ ہوگئیں بلکہ بہت دنوں تک عوام کو منھ دکھانے کے قابل نہ رہیں۔
بابری مسجد کے انہدام کے بعد مہم جوقائدین نے پرسنل لا بورڈ کے دامن میں پناہ لی۔ حالانکہ بورڈ کے قائدین بار بار یہ کہتے آئے تھے کہ بورڈ صرف محدود مقاصد کے لئے قائم کیا گیا ہے،بڑے ملکی اور سیاسی معاملات اس کے دائرہ کار سے باہر ہیں۔ بابری مسجد جیسے مسئلہ کی شمولیت کے بعد بورڈ پر علماء کی قدسی لباسی کے جلو میں مختلف سیاسی پارٹیوں سے وابستگی رکھنے والے مہم جو عناصر کا پر قبضہ ہو گیا۔ دریں اثناء یہ پروپگنڈہ تیز ہوتا گیا کہ بورڈ ہندوستانی مسلمانوں کا واحد، معتبربلکہ کہہ لیجئے کہ مقدس فورم ہے جس پر کلام کرنا گویا قاتل ایمان اور واصل جہنم ہونا ہے۔ اب صورت حال یہ ہے کہ مقدس گائے پر سوار ہو کر کچھ لوگ ایک بارپھر دین و شریعت کے حوالہ سے ہندوستانی مسلمانوں کو ایک ہذیانی کیفیت میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں۔ موجودہ حکومت کے لئے جس کا گراف مسلسل نیچے گرتا جارہا ہے، جو اپنے داخلی اختلافات اور پے بہ پے اسکینڈل کے سبب عوامی اعتماد کھوتی جارہی ہے، اس کے لئے اس سے اچھی بات اور کیا ہوگی کہ مسلمان اس کے خلاف سڑکوں پر نکل آئیں اور مسلمانوں کے اس جارحانہ تیور سے سادہ لوح ہندوعوام پھر سے بی جے پی خیمے میں جمع ہو جائیں۔ ہم اس اقدامی عمل کو محض نئے قائدین کے جوش وخروش سے تعبیر کرتے اور ان کے اس قدم کو محض اسٹریٹجی کی لغزش پر محمول کرتے اگر نئے قائدین ،جنھوں نے بورڈ کو یرغمال بنانے میں کامیابی حاصل کر لی ہے ، اپنی جہادی نورا کشتی کے لئے پہلے سے ہی معروف نہ ہوتے ۔ یہ حضرات دین و ملت کی خواہ کتنی ہی دہائی کیوں نہ دیں ان کے دامن پر مختلف سیاسی پارٹیوں سے وابستگی کے بدنما داغ ہیں، ان کے جہاد کا نتیجہ حزیمت اور پسپائی کے علاوہ اور کچھ نہیں:
نہ خنجر اٹھے گی نہ تلوار ان سے

یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں
ہندوستانی مسلمان چہار جانب سے اپنوں اور غیروں کے نرغے میں ہیں۔ وہ مزید کسی مہم جوئی کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ انھوں نے بڑی خاموشی سے تعلیمی میدان میں کچھ سبقت کی ہے لیکن دہشت گردی کے جھوٹے الزامات نے آج بھی ان کے نوجوانوں کا راستہ روکا ہوا ہے۔ انہیں بہت سوچ سمجھ کر نئی حکمت عملی ترتیب دینا ہوگی۔ ضرورت تو اس بات کی ہے کہ علی گڑھ کے ارباب حل وعقد بسم اللہ کے خود ساختہ گنبد سے باہر آکر ملت کے سردوگرم میں اس کے شریک وسہیم ہوں۔ آج بھی علی گڑھ مسلم دانش وری کا اہم مرکز ہے۔ دنیا کے مکروفریب کو سمجھنے والے، اغیارکی سازشوں اور ان کے سازشی دستاویزات کا راست مطالعہ کرنے والے اتنے بہت سارے مسلم دماغ ہندستان کے کسی دوسرے شہر میں آج بھی موجود نہیں ہیں۔محض قدسی لباسی موجودہ صورت حال میں قیادت کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ یہ بات میں اس لئے بھی کہہ رہا ہوں کہ قدسی لباسی میں تحلیل وتجزیے اور نقد وجرح کا کوئی موقع نہیں ہوتا۔ اور آج ضرورت ہے تحلیل وتجزیے او ر مسلسل سوچتے رہنے کی ۔ جب تک ہم قیادت پر احتسابی نگاہ ڈالنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتے اور جب تک کھلے مکالمہ کی ایک ایسی صورت حال پیدانہیں ہوتی جہاں ایک بدوی عورت حضرت عمر جیسے عظیم قائد پر برسر مجلس اعتراض واردکرسکے، ایک مؤ ثر اور کارگراسٹریٹجی کی تشکیل کا خیال عبث ہے۔ یہ بات بھی غور کرنے کی ہے کہ بورڈ کے بزرگ قائدین ہوں یا آمادۂ جہاد’ نوجوان‘ قیادت، یہ سب کے سب بنیادی طور پر کسی مدرسہ کے مہتمم ، اس کے ناظم یا ان درس گاہوں میں کسی نہ کسی فن کے استادہیں۔ پھر کوئی وجہ نہیں کہ ان کی آراء کو توتحلیل وتجزیے سے ماورا ء سمجھا جائے اور ہم انہیں تقدس کے ہالہ میں گھرا دیکھیں اور اس کے برعکس علی گڑھ کاوائس چانسلر اور اس کے اساتذہ صرف آسمانی لباس ترک کرنے کے سبب اپنے علم وفضل کے باوجود اس شرف واعزاز سے محروم سمجھے جائیں۔ رہی بات مفروضہ روحانیت کی توہمیں اس حقیقت کے اظہار میں تکلف سے کام نہیں لینا چاہیے کہ پیری مریدی اور بیعت واردت کا جومذموم کاروبار ان اداروں میں چل رہا ہے اور جس کے سبب مریدین کے دل ودماغ ماؤف ہو کر رہ گئے ہیں،تو اس مکروہ، غیر شرعی عمل پر عقل اور شرع سے کوئی دلیل نہیں لائی جاسکتی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close