Uncategorized

دنیا بھر کے اہلِ ایمان سوالی ہیں آخرکب آئے گی خدا کی مدد ؟

راشد شاز

مسلمان جو منصب سیادت سے اپنی معزولی کے باوجود اب بھی خود کو خیر امت سمجھتے ہیں، اپنے بارے میں طرح طرح کی خطرناک خوش گمانیوں میں مبتلا ہیں۔ صدیوں سے جو قوم اپنے اقوال و اعمال سے شب وروز اس بات اعلان کر رہی کہ ؂

رہ گئی رسم اذاں روح بلالی نہ رہی

جذباتی طورپر اب تک وہ اس بات کو تسلیم کرنے کیلئے آمادہ نہیں کہ جس امت پر مشکل گھڑی میں آسمان سے فرشتو ں کے نزول کا وعدہ ہے بدقسمتی سے موجودہ مسلمان اب وہ امت نہیں رہے۔ خوب صورت نعتوں کی دلکش آوازوں ،سیرت کے جلسہ وجلوس، عبادات کے اجتماعی مظاہرے خواہ ہمیں ہمارے اہل ایمان بنے رہنے پرکتنا ہی یقین کیوں نہ دلائیں ،واقعہ یہ ہے کہ ہم اب وہ کچھ نہیں رہے جنہیں (محمد رسول اللہ والذین معہ)کی جماعت کا نام دیا جاسکے ۔ پانی سر سے اونچا ہوگیا ہے۔ صدیاں گزریں جب کبھی ہم سیادت عالم کے منصب پر فائز تھے ،ہمارا ملی وجود خیر امت سے عبارت تھا ، آخری نبی کی امت کی حیثیت سے تاریخ کے آخری لمحے تک دنیا کی سیادت ہمارے نام لکھ دی گئی تھی ۔ سیادت کا یہ منصب ہمیں وحی محمدی کی وجہ سے عطا ہوا تھا ۔
وحی کی تجلی جب تک ہماری راہوں کو منور کرتی رہی ہم تاریخ کی لگام سنبھا لے رہے ۔دنیا میں واقعات کا رخ ہماری مرضی سے متعین ہوتاتھا اور جب کبھی دشوار لمحات میں ہمیں واقعات پراپنی گرفت ڈھیلی محسوس ہوتی توبے ساختہ ہماری نگاہیں آسمان کی طرف اٹھ جاتیں ۔ہم خدائے قادر مطلق سے اضافی مدد کے طالب ہوتے اور عین پریشان کن لمحات میں حیرت انگیز طورپر اپنے خداکی نصرت کو موجود پاتے۔ بدر کے معرکے میں توخودذات ختمی رسالت موجود تھی جس نے مٹھی بھر اہل ایمان کی نصرت کے لئے رب ذوالجلال کی نصرت چاہی تھی لیکن اہل ایمان کے بعد کے معرکے بھی خواہ وہ ایران وروما کی سلطنتوں کا سرنگوں ہونا ہو یا بعد کے عہد میں اسپین کے ساحل پر کشتیاں جلانے کا واقعہ ، ان تمام لمحات میں مسلمانوں کو ہمیشہ یہ محسوس ہوتا رہا کہ ایک زندہ اور متحرک خدا ان کی نصرت کیلئے ہمہ وقت موجود ہے، جس کے بل بوتے پر وہ بڑی سے بڑی مہم جوئی کا خطرہ مول لے سکتے ہیں۔ معروف ایرانی فوجی جرنیل ہر مزان جب گرفتار ہو کر حضرت عمرؓ کے سامنے آیا تھا تو اس نے اسی بات کی شہادت دی تھی ۔ اس نے کہا اے عمر! جب تک قوت کا قوت سے مقابلہ تھا تم ہمارے مقابلے میں کسی شمارو قطار میں نہ تھے لیکن آج خداتمہاری طرف ہے او رخدا جس کی طرف ہو اس پرکون غالب آسکتا ہے ؟
اس میں شبہ نہیں کہ ہم ہی وہ لوگ ہیں جو کل خدا کی نصرت کے بھروسے سے بڑی سے بڑی معرکہ آرائی سر کیا کرتے تھے ۔لیکن اب آخر کیا بات ہے ،صدیاں گزریں ہم نصرت خداوندی کی اس لذت سے ناآشنا ہیں۔ دین کے لئے مرنے مٹنے والوں کی آج بھی کمی نہیں۔ دنیا کے مختلف خطوں میں حزب اللہ، جنداللہ ، اسلامی جہاد، جماعت اسلامیہ ، مجاہدین اسلام ، سپاہ صحابہ ،فوج محمدی اورنہ جانے کن کن ناموں سے اسلام کے لئے جان دینے والے موجود ہیں۔ دنیا کا کون ساخطہ ہے جہاں محمدؐ کے نام لیواؤں نے اپنے خون سے عزیمت کی داستان نہ لکھی ہو ۔ لیکن اب ہر چھوٹے بڑے معرکہ میں صاف محسوس ہوتا ہے جیسے شکست ہمارا مقدر بن گئی ہو ۔ خدا جوآج بھی قادر مطلق ہے اور جو چشم زدن میں حالات کا رخ پھیر سکتا ہے مسلمانوں کی مدد کو نہیں آتا ۔حالانکہ گریہ وزاری کی محلفیں سب سے زیادہ اسی قومِ مسلم کے درمیان سجائی جاتی ہیں ، نالے سب سے زیادہ یہیں بلند ہو تے ہیں اورکیوں نہ ہو جب صدیوں سے یہ امت آگ وخون کے سمندر میں غوطے لگا رہی ہو، جب اس پرلمحہ لمحہ عذاب کردیا گیا ہواور جب ہر سوایک قیامت انگیز کہرام بپا ہو۔ محشر کی اس گھڑی میں آخر پکارنے والے کسے پکاریں؟مسجدیں اب پہلے سے کہیں زیادہ آباد ہیں ۔ اصلاحی اورتبلیغی تحریکوں نے نماز وروزے ،شب بیداری اورمراقبہ کا وافر ماحول تیار کردیا ہے ۔ سنن و نوافل پڑھنے والوں اور شب وروز اور ادو و ظائف پڑھنے والو ں کی بھی کمی نہیں ۔پھر آخرکیا وجہ ہے کہ امت کے اس عمومی اضطراب اوربے بسی کے باوجود خدائے واحد کی توجہ ہماری طرف نہیں ہوتی؟
یہ وہ سوال ہے جس نے ہر خاص وعام کو مضطرب کر رکھا ہے ۔بڑے بڑے ذہنوں پر کنفیوژن کی آندھیاں چل رہی ہیں۔ چند سال پہلے افغانستان پرامریکی حملے کے دوران جب افغانیوں نے غیرت کا سودا کرنے سے انکار کردیا اور جس کے نتیجے میں انہیں امریکی افواج کی جارحیت کا سامنا کرنا پڑا، آسمان سے B-52طیارے موت برسانے لگے ،ان چند ہفتوں میں شاید ہی کوئی گیا گزرا مسلمان بھی ہو جس نے رو رو کر بارگاہِ خدا وندی میں دعائیں نہ مانگی ہوں۔ کیا مشرق کیا مغرب، کیا شیعہ کیا سنی ، پوری مسلم دنیا بیک آواز چیخ اٹھی : بارالٰہا ! اس مجبور وبے بس امت کی خبر گیری کر ۔ مسجدیں قنوت نازلہ کی آہ وبکا سے گونج اٹھیں۔ حتی کہ ان مسلمانوں نے بھی جنہوں نے کبھی مسجد کا رخ نہیں کیا تھا ، اپنی پیشانیوں سے سجدہ گاہوں کو آباد کرڈالا۔افغانیوں نے کمال استقامت کا مظاہرہ کیا ۔ آسمان سے برستی مسلسل موت بھی ان کے پایہ استقامت کو نہ ڈگمگا سکی ۔تب پوری دنیا کوایسا لگتا تھا گویا کوئی معجزہ ہونے کو ہے ۔ ایّا م ہفتوں میں بدلتے گئے ، کوئی معجزہ تو کیا ہوتا، ہاں مسلمانوں کی شکست نمایاں ہونے لگی ۔ افغانستان میں جو کچھ ہوا اس نے اہل ایمان کی کمر توڑ کر رکھ دی ۔خدا وند وہاں بھی مسلمانوں کی مدد کو نہیں آیا ۔ امت ایک گہری مایوسی میں ڈوب گئی۔ ۱۲۵۸ء میں سقوط بغداد کے بعد مسلمانوں کی تاریخ میں یہ دوسرا واقعہ تھا جب ان کا جذباتی وجود کاملاً ڈھہ کر رہ گیا ۔ ایسا محسوس ہوا جیسے اب کوئی نئی صبح اس امت کی زندگی میں کبھی نہ آئے گی۔
ہم من حیث القوم تاریخ کے ہر نازک لمحے میں (نصرمن اللہ وفتح قریب ) کا علم بلند کرتے رہے ہیں۔ ہم نے اپنی بساط بھر حالا ت کامقابلہ کرنے اوراسے بدل ڈالنے کے لئے کیا کچھ نہیں کیا۔ لیکن نصرت الٰہی کی لذت سے ہمارے حواس نا آشنا رہے ۔پچھلے دنو ں عراق میں امریکی ٹینکوں کی پیش قدمی کے دوران جب تیز ریگستانی آندھی اٹھنے لگی تھی تو ہم مسلمانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ۔ ایسا لگا گویا اب خدا کی مدد آپہنچی ہے مگرجلدہی خوش فہمیو ں کے ان غبار وں سے بھی ہوا نکل گئی ۔ سقوط بغداد نے ایک بار پھر اس تلخ حقیقت سے پردہ اٹھادیا کہ خدا اب ہماری طرف نہیں ہے اور جب تک کسی امت کو تائید غیبی حاصل نہ ہو، خدا کی پشت پنا ہی کے بغیر شکست اس کا مقدر ہے ، صدیاں گزریں ہم ہر روز ایک نئے سقوط سے دوچار ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے ہرلمحہ ہمارے اندرون میں کچھ ڈھہ رہا ہے۔ہمارا مجموعی وجود اس صورتِ حال پر سخت مضطرب ہے ۔آخر کب آئے گی خدا کی مدد؟
ہمار ے فقہا ء ومفسرین اس سوال کا صحیح تجزیہ کرنے اور اس کا مدلل جواب فراہم کرنے کے بجائے قرآنی آیات کی غلط تاویل کے ذریعے ہمیں مطمئن کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ان کے بقول یہ ساری مصیبتیں دراصل اہل ایمان کی حیثیت سے ہماری آز مائش ہیں (ام حسبتم ان تدخلوا الجنۃ ولمّا یأتکم مثل الذین خلوا من قبلکم مستہم البأساء والضراء وزلزلوا حتی یقول الرسول و الذین ء امنوا معہ متیٰ نصراللہ ألا إن نصراللہ قریب)(البقرۃ:۲۱۴) کا مطلب انہوں نے یہی سمجھا ہے کہ دنیا توہے ہی مسلمانوں کے لئے مصائب وآلا م کی جگہ۔ یہاں کافروں کی چاندنی ہے ۔ مسلمانوں کیلئے چونکہ آخرت کی ضمانت ہے اس لئے انہیں دنیا میں ان دل گرفتہ حالات پر صبرو سکون سے کام لینا چاہیے۔ بعض گروہوں نے صورت حال کی شدت سے تنگ آکر ترک دنیا کو باقاعدہ مذہبی رویے کی حیثیت دے رکھی ہے ۔لیکن مشکل یہ ہے کہ دنیا میں رہتے ہوئے ترک دنیا ممکن نہیں ۔ جہاں شب و روز ہمارا وجود انہدام کا شکار ہو، ہم میں سے کتنے لوگ غورو فکر سے منہ موڑ کر شتر گربگی اختیار کرسکتے ہیں اور کب تک ؟پھر قصہ یہ ہے کہ ذلت کی یہ زندگی اورپے درپے شکستوں کا یہ عذاب ہماری اس تاریخ سے میل نہیں کھاتا جس میں مسلمانوں کی وہ نسل رہتی تھی جس کی مسلمانیت او راطاعت گزاری پر ہم آج بھی عش عش کرتے ہیں اور جنہیں ہم اپنی ز ندگی میں رول ماڈل کے طورپر برتنے کے متمنی ہیں ۔ بھلا محمدؐ رسول اللہ اورانکے اصحاب سے بڑا مسلمان اورکون ہوگا۔ان پرنازک لمحات ضرور آئے لیکن ذلت کی زندگی اور شکستوں کے عذابِ مسلسل سے انہیں واسطہ نہ پڑا۔ ہماری تاریخ توہمیں یہ بتاتی ہے کہ اہل ایمان کے لئے دنیا میں بھی سرفرازی کا وعدہ ہے اورآخرت تو ان کے لئے ہے ہی محفوظ ۔قرآن کے صفحات اسی بات پر گواہ ہیں کہ تاریخ کے ہر دور میں اہل ایمان کو آخرت کی بشارت کے ساتھ ساتھ دنیا کی سیادت بھی عطا کی گئی ۔ داؤد و سلیمان کی پر شکوہ سلطنت کے تذکرے اور بنی اسرائیل کو تمام عالم پرفضیلت عطا کرنے کی باتیں ہمیں یہی توبتاتی ہیں کہ ہم خدا کی پارٹی میں آگئے تودنیا ہماری مٹھی میں آجاتی ہے کہ ایسا پہلے بھی ہواہے اوراسی کی بشارت قرآن مجید میں موجود ہے۔ پھر آخر کیا وجہ ہے کہ صدیاں گزریں ،ہر مشکل مرحلے میں ’’ الا ان نصر اللہ قریب ‘‘ کی بشارت کسی فیصلہ کن مرحلے سے پہلے ہی دم توڑ دیتی ہے اورہماری جد وجہد نصرت الٰہی سے محروم ایک نئی داستانِ عبرت پر ختم ہو جا تی ہے ۔ واقعات تویہی بتاتے ہیں کہ خدا جس قوم کی مدد کو آئے، جس کا رفیق ومعاون بن جائے وہ اب ہم نہیں ۔
زوال کی صدیوں میں ہمارے ہاں ایک اہل فکر شاعر پیدا ہوا جس نے خدا کے دست شفقت اٹھائے لینے پر شکایات کا انبار لگا دیا ۔ اس میں شبہ نہیں کہ اس شوخ وشنگ شاعر کی شکایت حقیقت واقعہ تھی۔
رحمتیں ہیں تیری اغیار کے کاشانوں پر
برق گرتی ہے توبے چارے مسلمانوں پر
البتہ اس صورت حال کے مداوا کیلئے شاعر نے جو جواب تلاش کیا وہ اتنا ہی روایتی تھا جسے مختلف قالب میں ہمارے علماء سابقین پیش کرتے آئے ہیں ۔ صبح کی بیداری،خداکی دلداری، اس تک پلٹنے کی باتیں فی نفسہٖ ان جوابات کی صحت پر کسے شبہ ہو سکتا ہے ۔البتہ ان صحیح جوابوں کی موجودگی کے باوجود اگرہمارا ملی قافلہ نصرت الٰہی کے حصول میں ناکام رہا تواس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ ہم رجوع الی اللہ کو عرصے سے بعض رسوم عبادات میں دیکھنے کے عادی ہوگئے ہیں ۔اس لئے رجوع الی اللہ کی ہماری تمام تر کوشش بھی ہمیں خدا کی مدد کا مستحق نہیں بناتی ۔ نصرت کا قرآنی وعدہ ہم سے بہت دور رہ جاتا ہے ۔پھر فطری طورپر مضطرب دل ودماغ میں یہ اندیشے جنم لیتے ہیں آیا خدا ہے بھی یانہیں ؟ کہاں ہے وہ خدا جس نے مؤمنوں کی مد دکا وعدہ کر رکھا ہے ۔
جب واقعات مسلسل اس بات کی شہادت دے رہے ہو ں کہ خدا نے ہمارا ساتھ چھوڑ دیا ہے تو ہم نصرتِ الٰہی کے بھروسے جینے والے لوگوں کے لئے لازم ہے کہ اس سوال کا فی الفور جواب فراہم کریں اولاً ایسا کیوں ہوا اور ثا نیاً یہ کہ دوبارہ نصرت خداوندی کا سز ا وار بننے کیلئے ہمیں کیا کرنا ہوگا۔ گویا من حیث القوم ہمیں اپنے اجتماعی وجود کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے ۔جب تک ہم اپنے حال پر سوالیہ نشان نہیں لگاتے، مستقبل کیلئے راستہ ملنا ممکن نہیں ۔
پہلی بات تویہ سمجھ لینے کی ہے کہ ہم خواہ محمد رسول اللہ سے اپنا کتنا ہی تعلق کیوں نہ بتائیں واقعہ یہ ہے کہ فکری اورعملی طور پر ہم اصحابِ رسول کی جماعت سے بس واجبی سی نسبت رکھتے ہیں ۔ وہ جس اسلام کے پیرو کار تھے وہ کچھ اور تھا ۔ ان کی جگمگاتی زندگی قرآن مجید کے صفحات میں جھلکتی تھی۔ ہم نے اپنی مذہبی زندگی کی تعمیر میں قرآن کے بجائے بھانت بھانت کی خود ساختہ کتابوں کو اپنا معاون بنا رکھا ہے ۔ وہ عبودیت کی لذت سے آشنا تھے ، ہم رسومِ عبودیت میں پھنس کر رہ گئے ہیں ۔ وہ خیرامت تھے جن کی ہاتھوں میں تاریخ کی لگا م تھمائی گئی تھی ۔ ہم خیر امت کی خوش گمانیوں میں مبتلا عملی طورپر اس منصب سے معزول تاریخ کے قیدی بن کر رہ گئے ہیں ۔ ہمارا حال اہل یہود سے کچھ مختلف نہیں جو اپنی معزولی کے باوجود آج بھی خود کو Chosen Peopleسمجھنے کی غلط فہمی میں مبتلا ہیں ۔جن کے ہاں دین داری نام ہے رسومِ دین داری کا اور چونکہ خالی خولی رسوم وہ نتائج پیدا نہیں کرسکتے جو زندہ دین داری پیدا کر سکتی ہے، اسلئے مذہب کی طرف ہماری تمام تر واپسی کے باوجود مطلوبہ نتائج پیدا نہیں ہوتے ۔ آج اس امت میں ارکانِ اسلام پر عامل شب بیدار مسلمانوں کی کمی نہیں۔ مابعد استعمار عہد میں مسجدیں کہیں زیادہ آباد ہیں۔ مدارس کی تعداد روز افزوں اضافے پر ہے ۔مسلمان نوجوانوں میں دین کی طرف واپسی دنیا بھر میں ایک محسوس عمل کی حیثیت سے واشگاف ہے ۔پھر بھی یہ رسومِ دین داری ہمیں نصرت خداوندی کا حقدار نہیں بناتی اور خدا ہماری مدد کو نہیں آتا تویہ بات غور کرنے کی ہے کہ ہم جسے دین داری سمجھ بیٹھے ہیں یہ سب کچھ اللہ کو واقعی مطلوب ہے بھی یا نہیں۔
نصرت خداوندی کے غیاب میں ہماری آہ وبکا کو بہتر طورپر سمجھنے کیلئے اہل یہود کا تذکرہ دلچسپی سے خالی نہ ہوگا ۔ ایسا اس لئے بھی کہ قرآن مجید باربار انحراف یہود کے حوالے سے ہمیں بے جان رسومِ عبودیت سے متنبہ کرتاہے ۔اہل یہود جنہیں ہم مسلمان مغضوب الغضب اور راند�ۂ درگاہ قوم کی حیثیت سے جانتے ہیں ، انکی مذہبیت کا یہ عالم ہے کہ وہ زندگی کے ہر معاملے میں باریک سے باریک تفصیل بھی اپنے ربائیوں اورفقہاء سے معلوم کرنا لازم خیال کرتے ہیں ۔یومِ کافور کی تفصیلات ہوں یا آدابِ سبت ، یا حلالِ ذبیحہ کا معاملہ ، مذہبی یہودی جس باریک بینی کے ساتھ تلمودی رسوم کو انجام دینا ضروری سمجھتا ہے اسے دیکھ کر تو دوسروں کو بھی یہ لگتا ہے کہ اس سرزمین پر شاید ہی کو ئی گروہ ایسا ہو جو اپنی زندگی میں مذہب پراس قدر عامل ہو۔ اہل یہود آج بھی یہ سمجھتے ہیں کہ وہ خدا کی منتخب قوم ہیں جنہیں اللہ نے اقوام عالم پر فضیلت دی ہے چونکہ وہ حامل تورات ہیں او ریہ وہ منصب ہے جس کے حوالے سے وہ خدا کے چہیتے ہیں ۔پھر بھلا خدا ان کی خبر گیری نہ کرے تو کس کی کرے گا ۔ نازی جرمنی میں یہودیوں کے خلاف جب عمومی نفرت کا لاوا پھوٹ پڑا اور خدا کے ان خود ساختہ چہیتوں پر جب خداکی زمین تنگ ہونے لگی تو مذہبی یہودی دانشور پکا ر اٹھے کہ آخر خدا اپنے چہیتو ں کو اس طرح ختم ہوتے ہوئے کیسے دیکھ سکتا ہے ۔ کسی نے کہا تو رات کے الفاظ میں قوتوں کا پوشیدہ خزانہ موجود ہے۔ اگرمخصوص آیات کی مسلسل تلاوت کی جائے توحالات بدل سکتے ہیں۔کسی نے قبالائی نقوش کا سہار ا لیا، کسی نے ربائی ادب سے اپنا تعلق جوڑا اورکسی نے اجتماعی ذکر و مراقبے کی مجلسیں آباد کر ڈالیں۔ جو ں جوں جرمنی اور اس سے متعلقہ علاقوں میں اہل یہود پر زمین تنگ ہوتی گئی، ان کی مذہبی زندگی کا احیاء نمایاں ہونے لگا۔ حتی کہ عقوبت گاہوں اور (concentration camps)میں یہ منظر دیکھنے کو ملا کہ کوئی کھڑے کھڑے کسی ذکر میں مشغول ہے توکوئی زیر لب کسی ورد میں مصروف۔ حتیٰ کہ ان کیمپوں میں جہاں کھانے کیلئے روٹی کے چند نوالے اورجسم پر ڈھنگ کا لباس نہ رہ گیا تھا، وہاں بھی یہودیوں نے محافظوں کو رشوت دے کر اگر کچھ حاصل کرنا ضروری سمجھا تو وہ دعاؤں کی کتابیں Siddurتھیں جن پر وہ اجتماعی اور انفرادی طورپر عمل پیرا تھے ۔یہ مذہبی کتابیں جب تلاشی کے دوران ضبط کرلی جاتیں اور انہیں یہودیوں کی نگاہوں کے سامنے نذرِ آتش کردیا جاتا تو مذہبی یہودی پکار اٹھتے کہ کیا ان وظائف کی کتابوں کے بغیر دنیا باقی رہ سکے گی؟بعض یہودی زاہد، یہ سمجھتے تھے کہ اگرتورات کے بعض حصوں کو استغراق کے ساتھ مسلسل پڑھا جائے او رپھر خدا سے نصرت کی طلب کی جائے تواس کی مدد کا آنا یقینی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک عقوبت گاہ میں بالآخر ایک ایسے زاہد کو ایک خندق میں ، جہاں مردے پھینک دیے جاتے تھے ،ایک گوشۂ عافیت مل گیا ۔ وہ مسلسل وہاں اورادووظائف میں مشغول رہا ۔ یہاں تک کہ اس خندق کا نام لوگوں نے بیت مدراش رکھ دیا ۔ لیکن ان مسلسل دعاؤں اورسخت مجاہد ے کے باوجود خدا ان کی مد د کو نہ آیا ۔
رسومِ عبودیت کی اس سے بڑی مثال کیا ہوگی کہ اہل یہود نے ان سخت حالات میں بھی مذہبی زندگی کے ارکان پر عامل رہنے کی بھر پور کوشش کی ۔کہیں سے ایک ٹفلن کا جوڑا مل جاتا یا نمازی شال (tillet) ہاتھ لگ جاتی تو ان کی مایوس زندگی میں مسرت کی ایک لہڑ دوڑ جاتی ۔باری باری سے وہ ٹفلن لگا کر عبادت کرتے۔ حتیٰ کہ ایک کیمپ سے دوسرے کیمپ تک پیدل مارچ میں بھی وہ اس بات کا اہتمام کرتے کہ ان میں کوئی تلمود کا عالم ہو تو وہ فقہ یہود کا درس جاری رکھے ۔ عقوبت گاہوں میں جب بھی محافظوں کی آمدورفت کم ہوتی، یہودی اجتماعی طورپر ان لوگوں سے تورات ومشنات کا زبانی درس سنتے، جواپنے حافظے میں ان مذہبی کتب کو محفوظ رکھتے تھے ۔کہا جاتاہے کہMaidanekکے کیمپ میں جہاں تین ہزار یہودی رکھے گئے تھے ، ان میں بہت کم ایسے لوگ تھے جو روز اجتماعی عبادت میں شریک نہ ہوتے ہوں، کوڑے کے ایک ڈھیر پر جب ایک دن تلمود کا صفحہ کسی کو نظر آگیا تو ان قیدیوں کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا ۔ اسی کیمپ میں موجود ربائی اسحاق ذنبہ تلمود کے اس صفحہ کا باقاعدہ درس دیتے ۔گوکہ ان کیمپوں میں ان کی مذہبی کتابیں ضبط کرلی جاتی تھیں، لیکن ان کی مذہب سے وابستگی کا یہ عالم تھا کہ ان لوگوں نے مختلف چیزوں کو جن کاغذات میں لپیٹ رکھا تھا وہ تلمود کے صفحات ہی تھے جولوگ کھانے کے چند نوالوں کے لئے مدت سے ترسائے گئے ہوں ان کی مذہب سے وابستگی کا یہ عالم تھا کہ اگر کوئی موقع ہاتھ آتا تو وہ محافظوں سے اپنے کھانے کے بدلے یا اپنے دانتوں میں لگے سونے کے بدلے تورات کا کوئی نسخہ ، وظیفہ کی کوئی کتاب، Siddurکا کوئی ایڈیشن خرید لیتے ۔اتنی سخت مذہبیت کے باوجود ان کی چیخ و پکار رائیگاں گئی ۔ خد اکے یہ خود ساختہ چہیتے رسوم بندگی کے ان تمام مظاہروں کے باوجود اس کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے ۔
جرمنی کی مختلف عقوبت گاہوں بالخصوص Auschwitzمیں اہل یہود پر جو گزری اس سے پوری قومِ یہود دہل گئی ۔ کہتے ہیں کہ یورپ کی دوتہائی یہودی آبادی نازیوں کے ہاتھوں موت کے گھاٹ اتاردی گئی۔ یہ سب کچھ چشم زدن میں نہیں ہوگیا ۔عقوبت گاہوں کی کہانیاں اورموت گاہوں کے لرزہ انگیز مناظر جب عام ہوتے گئے اور یورپ کے یہودیوں کو صاف محسوس ہونے لگا کہ ان کا من حیث القوم خاتمہ اب چنددنوں کی بات ہے۔ وہ مسلسل اپنے آپ سے پوچھا کئے، کیا خدا ہم چہیتوں سے اپنی دنیا خالی کرلے گا؟ بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم جو تورات کے حاملین ہیں ،ہم جو لمحہ لمحہ تلمود پر عمل پیر اہیں، ان کے وجود سے دنیا خالی ہوتی ہوئی نظر آئے اورپھر بھی خدا کی رحمت کو جوش نہ آئے ۔بعض دلوں میں یہ شکوک بھی جنم لیتے آیا خدا ہے بھی یانہیں؟ بنو اسرائیل کی عظمت کا فسانہ جواب تک سنا کئے تھے ،یہ سب خواب وخیال کی باتیں تو نہیں؟
سچ پوچھئے تو Auschwitzنے اہل یہود کی مذہبی فکر کو ایک بحران سے دوچار کردیا۔ لیکن تب بھی مقدس ماضی میں جینے والی یہ قوم اپنی مذہبی زندگی کے احتساب پر آمادہ نہ ہوئی۔ یہ پہلا واقعہ نہیں تھا جب یہو د کسی بڑے حادثے سے دوچار ہوئے ہوں، حضرت مسیح کی آمد کے بعد ہیکل سلیمانی کی دوبارہ تباہی اور تب سے اب تک ان کی ملی زندگی ایک عذاب مسلسل سے عبارت رہی ہے۔ وہ جہاں بھی گئے وہاں ذلت کے عذاب میں مبتلا رہے ۔ ابھی ان کے قدم جمنے بھی نہ پاتے کہ وہ ان علاقوں سے ذلت کا عذاب لیے نکلنے پر مجبور ہوتے ۔ صاف محسوس ہوتا کہ جب خدا کسی قوم سے اپنا دست شفقت اٹھالے توپھراسے جہاں میں کہیں امان نہیں ملتی۔ ان کے اندر علماء ودانشور،اہل حرفت اورعقل وخردرکھنے والوں کی کمی نہ تھی ۔وہ زبردست محنت کے عادی تھے۔ دل ودماغ کی فطری صلاحیتوں میں بھی وہ کسی سے پیچھے نہ تھے ۔ دنیا کمانے اور اس کے استعمال کا بھی انہیں خوب فن آتا تھا لیکن جب خدا ہی اپنادستِ کرم اٹھالے تویہ بہترین انسانی صلاحیتیں بھی کام نہیں آتیں ۔ لیکن افسوس کہ ان کے ذہین ترین افراد بھی دیوار پر لکھی اس واضح تحریر کو پڑھنے میں ناکام رہے ۔خود کو داؤد سلیمان کی سلطنت کا وارث سمجھنے والے اہل یہود آج بھی اس خام خیالی میں مبتلا ہیں کہ وہ خدا کے برگزیدہ بندے ہیں جن کے بغیر تاریخ کا سفر بے معنی ہے بلکہ معاصرتاریخ میں قیام اسرائیل کے بعد۱۹۶۷ء کی چھ روزہ جنگ میں خوابیدہ عربوں کے طفیل انہیں جو غیر معمولی کامیا بی ملی اس سے وہ اس بات کی سند لاتے ہیں خدا دوبارہ ان کی پشت پر موجو دہے ۔ حالانکہ ان کے خدا ترس علماء ہانکے پکارے یہ کہہ رہے ہیں کہ ریاست اسرائیل کا وجود تلمودی فقہ سے ہم آہنگ نہیں اور نہ ہی اس ریاست میں تورات کی تعلیمات کا شائبہ بھی پایا جاتا ہے ۔جو ریاست دجل وفریب ، ظلم وبربریت سے غذا حاصل کرتی ہو، جہاں تورات کی تعلیمات ریاست کی مصلحتوں میں دفن کردی جاتی ہو، بھلا ایک ایسی غیر توراتی ریاست کی پشت پر خدا کیسے ہوسکتا ہے ؟ ماضی میں جینے والی قوم اپنے محاسبے پرآمادہ نہیں ہوتی، اس کی ساری کوشش یہی ہوتی ہے کہ وہ صورت حال کی کوئی ایسی تاویل کرلے جو اسے خود احتسابی سے بچاسکے۔
کھلی آنکھوں اور بیدار دل ودماغ سے دیکھا جائے تو ہم مسلمانوں کا معاملہ بھی کچھ مختلف نہیں۔ بدقسمتی سے ہم بھی تاویلات کے خوگر ہو چکے ہیں ۔ ہم اپنی پے درپے ناکامیوں کا احتساب کرنے کے بجائے ایسی تاویلات سے دل بہلانا مناسب سمجھتے ہیں جس سے ہماری تکلیف دہ صورت حال پر پردہ پڑا رہ سکے ۔
تاریخ کے اس نازک مرحلے میں اگرہم بھی اہل یہود کی طرح اپنی خود ساختہ تاویلات پر مصر رہے توہمارا انجام بھی ان سے مختلف نہیں ہوسکتاکہ خدا کے نزدیک اہل یہود ہوں یا ہم مسلمان ہماری فوقیت کا بنیادی سبب تمسک بالکتاب تھا۔ اہل یہود جب تک تورات کو تھامے رہے ،چہاردانگ عالم پران کی فضیلت قائم رہی۔ لیکن جب انہوں نے تورات کے گرد احبار ورہبان کی خود ساختہ تاویلات کے پہرے بٹھا دئیے اورجب ان کی مذہبی زندگی میں وحئ تورات کے بجائے احبار و رہبان کی فقہ ، مشناۃ و گمارا کے مجموعوں اور ملفوظات وظائف پر مشتمل کتابوں کو کلیدی اہمیت حاصل ہوتی گئی تو ان کا تعلق وحئ ربانی سے ٹوٹ گیا ۔ انسانی تشریح وتعبیر میں باقی ماندہ تورات کو انہوں نے جس طرح محصور کردیا اس کے نتیجے میں عبودیت کا چراغ گل ہونا یقینی تھا ۔بندگی غائب ہوگئی ۔ رسومِ بندگی ان کا سرمایہ قرار پایا ۔ان رسوم کی ادائیگی میں وہ اتنے پختہ ہوئے کہ انہوں نے معمولی باتوں پر فقہ کی ضخیم مجلدات مرتب کر ڈالیں ۔ ربائی تاویلات نے اہل یہود کی مذہبی زندگی کا چراغ گل کردیا ۔ ان کے علماء و فقہاء یہاں تک کہنے لگے کہ خدا نے جب ایک بار تورات ہمارے حوالے کر دیا ہے تواب اس کی تشریح وتعبیر کا کلی حق بھی ہمیں ہی حاصل ہے۔ موسیٰؑ کے مقابلے میں ربائی اکیوا تورات کے کہیں زیادہ مستند شارح سمجھے گئے ۔فقہاء کا تعمیر کردہ یہ دین آج بلاتکلف ربائی یہودیت سے موسوم کیا جاتا ہے ۔کہنے کو تویہ دین موسوی ہے لیکن واقعہ یہ ہے کہ باقی ماندہ تورات سے بھی اس کا رشتہ بس واجبی سا ہے۔ فقہائے یہود کا تعمیر کردہ یہ دین وہ نتائج پیدا نہیں کرسکتا جو دین موسوی کا خاصہ رہا ہے۔ دین فقہاء اوردینِ وحی میں بنیادی فرق یہ ہے کہ جہاں وحی فرد کے دل ودماغ سے عبودیت کا ملہ کا آبشار بہانا چاہتی ہے وہیں فقہاء کی باریک بینی مظاہر پرستی کا ایک ایسا دفتر مرتب کر تی ہے جس پر عبودیت کا صرف گمان ہوتا ہے۔ وحی تاریخ کا راز افشا کرتی اور اپنے حاملین کو تاریخ کی شاہِ کلید عطا کردیتی ہے۔ جب کہ فقہاء وربائی اپنی احتیاط پسندی میں مطالب وحی کی ایک ایسی طویل فہرست ایجاد کر ڈالتے ہیں جن کی تفصیلات میں بسا اوقات خود غایت وحی دم توڑ دیتا ہے ۔ رفتہ رفتہ احبار ورہبان پر غیر ضروری انحصار پوری قوم کو وحی کی تجلی سے دور کردیتی ہے اور مذہبی زندگی کی مشین انسانوں کی مرتب کردہ تعبیر وتشریح کی مرہون منت ہو کر رہ جاتی ہے ۔اہل یہود پر جو گزری سوگزری ۔ان کے اس درد ناک انجام میں ہمارے لئے بڑاسبق ہے ۔آنکھیں اگر کھلی ہو ں تواہل یہود سے متعلق عبرت ناک بیانات میں، جس سے قرآن کے صفحات پُرہیں، ہم اس سوال کا جواب بآسانی تلاش کرسکتے ہیں کہ ہم کیوں معزول ہوئے اور آخرکیوں خدانے ہمارے اوپر سے اپنا دست شفقت اٹھا لیا ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close