Book Review

امت مسلمہ کی تشکیل نو

راشد شاز

اسلام پوری انسانیت کے لئے خدا کا پسندیدہ دین ہے اور محمد رسول اللہ کافۃ للناس بشیرا ونذیرا اور رحمۃللعالمینہیں ۔اسلام کی یہ دعوت جسے آخری نبی اوران کے سچے متبعین کے ہاتھوں تاریخ کے آخری لمحے تک انسانیت کی رہنمائی کرنی ہے کسی قومی یا ملی شناخت کا نام نہیں بلکہ غیر مشروط سپردگی کے اس والہانہ رویے کا نام ہے جس کااظہار انسانی تاریخ میں تسلسل اورترتیب کے ساتھ انبیائے کرام کے ذریعے ہوتا رہا ہے ۔ دنیا کے مختلف خطوں میں تاریخ کے مختلف ادوار میں ،تمام ہی انبیاء انسانوں کو غیر مشروط عبودیت کی دعوت دیتے رہے ہیں ۔ اب جب سلسل�ۂ رسالت اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے، سپردگی کی اس تحریک کو اپنے انجام تک پہنچانے کی ذمہ داری محمد رسول اللہ کے متبعین پر عائد کی گئی ہے۔ البتہ کسی کو یہ خیال نہ ہو کہ انبیائے سابقین کی دوسری امتیں یامتقین کے دوسرے گروہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے اس عظیم نبوی تحریک سے باہر کردیئے گئے ہوں۔ بات صرف اتنی ہے کہ آخری وحی کے حاملین کی حیثیت سے جہاں متبعین محمد کوکلید ی اورمرکزی کردار اداکر نا ہے وہیں دوسری اقوام کے متبعین کو بھی اس انبیائی تحریک میں اپنی بساط بھر شریک ہونا ہے کہ انسانیت کی فلاح کا کوئی وسیع پر وجیکٹ وسعتِ نظری اوروسعت قلبی کے بغیر انجام نہیں پاسکتا۔ اگر اسلام کی دعوت سے مراد کسی خاص لسانی ، قومی ، جغرافیائی یاملی گروہ کا غلبہ نہ ہو تو کوئی وجہ نہیں کہ انسانیت کی سعید روحیں خواہ وہ دنیا کی کسی قوم یاملت میں پائی جاتی ہوں اس تحریک میں اپنے اندروالہانہ شرکت کا داعیہ محسوس نہ کریں ۔
قرآن کا ایک معمولی طالب علم بھی اس حقیقت سے صرفِ نظر نہیں کرسکتا کہ ابراہیم ؑ سے لے کر محمدؐ تک اس دنیا میں انبیاء کے ذریعے انسانوں کو جس بات کی طرف بلایا جاتارہا ہے وہ خدا کے آگے غیر مشروط سپردگی کی یہی دعوت ہے جسے ہم اسلام سے موسوم کرتے ہیں ۔ ابراہیم ، اسحٰق واسمٰعیل بنی اسرائیل کے تمام انبیاء اور دیگر اقوام کی طرف بھیجے جانے والے نبی حتٰی کہ وہ بھی جن کا تذکرہ قرآن میں موجود نہیں ہے، ایک ہی دین کے امین اورمبلغ رہے ۔ پھر کوئی وجہ نہیں کہ ان کے حوالے سے مسلم ذہنوں میں کسی قسم کے گرو ہی تعصب کا داعیہ پیدا ہو ۔قرآن مجید کی یہ تنبیہ کہ اہلِ ایمان انبیاء کے سلسلے میں (لا نفرق بین احد من رسلہ) (البقرۃ:۲۸۵) کے رویے پر عامل ہو تے ہیں ، دراصل اسی بات کو ذہن نشین کرانا ہے کہ خانوادۂ نبوت کے تمام ہی عالی مقام حاملین ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں ۔ ایک کی شخصیت یا دعوت دوسرے سے متصادم یا متعارض نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ محمدرسول اللہ کے متبعین کے لئے اس بات کو لازم کیا گیا کہ وہ نہ صرف اس کتاب پرایمان لائیں جو محمدؐ کی طرف بھیجی گئی ہے بلکہ ان تمام سابقہ کتب اور انبیاء کو بھی اسی نبوی تحریک کا حصہ سمجھیں جن کے باقیات دنیا کے مختلف خطوں میں پائے جاتے ہیں۔ گو یا آخری رسول ؐ کی بعثت سے کسی نئے دین کی داغ بیل نہیں ڈالی جا رہی ہے اور نہ ہی قرآنی وحی کسی نئی ابتداء کا سامان ہے بلکہ یہ پچھلوں کی تصدیق کرنے اورباقیات امم سابقہ کے ورثے کو سمیٹتے ہوئے ،بنیادی باتوں پر ان کو اشتراکِ عمل کے ذریعے ایک ایسے عالمی انقلاب کی بنیاد رکھنے جارہی ہے ،جس میں تمام ہی انبیائے سابقین کی دعوتوں کی بازگشت سنی جاسکتی ہے ۔
محمد رسول اللہ نے کسی نئی امت کی بنیاد نہیں رکھی اور نہ ہی اپنے متبعین کو کسی نئے گروہ سے موسوم کیا۔ قرآن کا انداز دعوت اس نکتہ کی مسلسل وضاحت سے عبارت ہے کہ محمد رسول اللہ کسی نئی امت کے قیام کے بجائے اطاعت گزاروں کے اسی خانوادے کے احیاء کیلئے تشریف لائے ہیں جن کی باقیات مختلف شکلوں میں اس سرزمین پر موجود ہے اور جن کا نظری وفکری ماحصل اب صرف یہی رہ گیا ہے کہ وہ انبیائے سابقین سے اپنا نسلی یا مذہبی رشتہ بتاتے رہیں اوراسے اپنی نجات کے لئے کافی سمجھیں ۔
(وقالوا کونوا ہودًا أو نصاریٰ) کے جواب میں یہ کہا جاناکہ (قل بل ملۃ ابراہیم حنیفا) (البقرۃ:۱۳۵) دراصل اسی وسعت فکری کا اظہار تھا کہ آخری نبی کسی نئی امت کے قیام کا داعی نہیں بلکہ امت ابراہیمی کا احیاء کر نے والا ہے اور اسکی دعوت تمام انبیائے سابقہ کی دعوتوں کا ارتکاز ہے: (قل اننی ہدانی ربی الی صراط مستقیم دینا قیماً ملۃ ابراہیم حنیفا) (الأنعام:۱۶۱)۔ قرآن مختلف اسالیب میں بار بار اس حقیقت کو ذہن نشین کراتا ہے کہ متبعین محمد کو جو کچھ عطا ہوا ہے یہ وہی دین ہے جو اس سے قبل انبیائے سابقین لاتے رہے ہیں :(شرع لکم من الدین ماوصیٰ بہ نوحاً والذی اوحینا الیک) (الشوری:۱۳)۔ دین ابراہیمی کے سابق دعویدار انبیائے سابقین کے متبعین سے باسالیب مختلف یہ بات کہی جاتی رہی کہ فی زمانہ دین ابراہیمی کا امین محمدؐ کے علاوہ اورکون ہوسکتا ہے: ( ان أَولی الناس با برٰہیم للذین اتبعوہ وہٰذالنبیّ والذین آمنو۱) (آل عمران:۶۸) ۔ رہے وہ لوگ جو محمدؐ پرایمان لے آئے ہیں تو انہیں جان لینا چاہیے کہ وہ نئے نبی کی قیادت میں اسی دین پرکار بندہیں جس کے بابت انہیں اس سے پہلے توراۃ و انجیل میں انہیں بتایا جا چکا ہے۔ (الذین یتعبون الرسول النبی الامی الذین یجدونہ مکتوباً عندہم فی التورۃ والانجیل) (الاعراف:۱۵۷) محمدرسول اللہ انبیائے سابقین کی جس وراثت کے امین ہیں اورجس مشن کو خوشگوار انجام تک پہنچانے کی ذمہ داری آپ پر عائد کی گئی اس سے فطری طور پر یہ بات مترشح ہوتی تھی کہ آخری نبی کسی خاص نسل، گرو ہ یا جغرافیائی سرحدوں میں رہنے والے انسانوں کے لئے مبعوث نہیں ہوا ہے بلکہ اس کے پیش نظر عام انسانیت کی فلاح ہے۔ کسی ایسے بین الاقوامی نبی سے، جس پر آنے والی پوری تاریخ کا انحصار ہو، یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ اپنی کوئی الگ امت بنائے گا اور صرف اس کی فلاح و نجات کو اپنا ہدف قرار دے لے گا ۔ دین ابراہیمی کے سچے وارث کی حیثیت سے محمدؐرسول اللہ بھلا ایسا کیسے کر سکتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم تاریخ کے ابتدائی ایام میں کسی گوشہ سے امت محمدیہ کی اصطلاح سننے میں نہیں ملتی ۔ محمدؐ ہی پر کیا موقوف دنیا کے کسی نبی نے بھی اپنی ذات کی بنیاد پر کسی امت کی تشکیل کی کوشش نہیں کی ۔ یہودی ، نصرانی ، بدہشٹ جیسی شناختیں بہت بعد کی پیداوار ہیں جو اپنے داعیوں کے دنیا سے رخصت ہوجانے کے بعد ان کے متبعین نے ایجادکر ڈالیں ۔نبی کا یہ مقام نہیں کہ وہ وحدت آدمیت کو ٹکڑوں میں بانٹے یا خدا کی طرف بلانے کے بجائے اپنی شخصیت پرستی کی دعوت دے۔ آخریہ کیسے ممکن ہے کہ جس شخص کو خداکتاب وحکمت او رنبوت سے سرفراز کرے وہ لوگوں سے یہ کہتا پھرے کہ لوگو میری شخصیت پرستی میں متبلا ہوجاؤ کونوا عبادی(۳:۷۹)تمام انبیا ء کی طرح محمد رسول اللہ کی دعوت بھی (کونوا ربّٰنین)سے عبارت ہے۔ایک ایسی دعوت جس پرابراہیم واسمٰعیل، اسحٰق ویعقوب ، ان کی نسلیں، موسیٰؑ وعیسیٰ ؑ اور دیگر تمام انبیاء شہادت دیتے رہے ہیں۔ جو لوگ محمد پرایمان لائے ان کے لئے تکمیل ایمان کی شرط کے طور پر یہاں تک کہہ دیا گیا ہے کہ وہ ان انبیاء میں کوئی فرق نہیں کرتے (لانفرق بین احد منہم ونحن لہ مسلمون ) (آل عمران:۸۴)۔
( کونواربّٰنین ) کی دعوت جب اپنے محور سے ہٹ جاتی ہے اوردین داری کے نام پر گروہی عصبیت یاانبیا ء اور ان کے سرکردہ متبعین کی شخصیت پر ستی جزو دین قرار پاتی ہے تو دراصل اس Processکا آغاز ہوجاتا ہے جسے ہم دین کے حوالے سے دین کی نفی کا نام دیتے ہیں ۔ یا جسے عرف عام میں مذہب، مسلک یا رسومِ عبودیت کانام دیا جاتاہے ۔ پھر دین روےۂ سپردگی کے بجائے شناخت قرار پاتا ہے ۔امتیں اپنے انبیاء کی شاندار تاریخ اوراس سے اپنے تعلق کو وجہ نجات قرار دے لیتی ہیں۔ اہل یہود و نصاریٰ کی ان خوش گمانیوں کا قرآن میں بکثرت بیان ملتا ہے کہ کس طرح یہ لوگ یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ ان کا یہودی یاعیسائی ہونا ان کی نجات کیلئے کافی ہے ۔قرآن نے شناخت یا نسبت کی بنیاد پر نجات کے خیال کو مسترد کردیا اور یہ بات واضح کردی کہ (قل یاھل الکتاب لستم علی شئی حتی تقیموا التوراۃ والانجیل)(المائدۃ:۶۸)۔ رہی یہ بات کہ ربانیوں کا یہ گروہ جو نئے نبی کی قیادت میں نجات کا طالب ہے اپنے لئے جو بھی شناخت اختیار کرے توجس طرح وقت کے مسلمانوں (اہل یہود ونصاریٰ) کی انبیائی نسبتیں ان کی نجات کیلئے کافی نہیں ہو سکتیں اوریہ دعویٰ صحیح نہیں ہو سکتا کہ ابراہیم واسمٰعیل اوراسحٰق ویعقوب یہودی یا نصاریٰ تھے۔ اسی طرح کوئی یہ نہ سمجھے کہ محمد ؐ کو ئی نئی شناخت یا نیا گروہ بنانے آئے ہیں یا ایسی کوئی شناخت ان کے متبعین کے لئے وجہ نجات ہوسکتی ہے۔ شناخت کی بنیاد پر نجات کے اس جھگڑے کا فیصلہ یوں کردیا گیا کہ خدا کے نزدیک اہمیت عمل کی ہے (ولنآ اعما لنا ولکم اعمالکم ونحن لہ مخلصون)(البقرۃ:۱۳۹)۔ ان تمام غیر معتبر شناخت کے مقابلے میں نئے نبی کی قیادت میں ربانیوں کا جو گروہ تشکیل پایا ہے اس سے یہ مطالبہ ہے کہ وہ گروہ بندی اور فرقہ پرستی سے اوپر اٹھ کر اپنے لئے ایک خدائی شناخت کو منتخب کرے (صبغۃ اللہ ومن احسن من اللہ صبغۃ) (البقرۃ:۱۳۸)۔ یہودی یا عیسائی شناختوں کے مقابلے میں اگرایک نئی محمدی شناخت وجود میں آجاتی تو یہ سب کچھ ایک عالمی ربانی پیغمبر کے شایان شان نہ ہوتا جوبیک وقت تمام پچھلے انبیاء ،ان کی کتابوں پرایمان کو لازم قرار دیتاہو اور جو سابقین اوران کی باقیات کو اپنا فطری حلیف گرادنتا ہو ۔
رباّنی بنام محمدی
متبعین محمد کی ابتدائی نسلیں جب تک ربانی شناخت سے متصف رہیں ان کے فکر و نظر پر یہ خیال غالب رہا کہ وہ دینِ ابراہیمی کی نقیب اور تمام انبیائے سابقہ کی وراثتوں کی امین ہیں ۔ ان کی پیش قدمی مانند سیل رواں جاری رہی ۔گم گشتہ انسانیت کے قافلے ، انبیائے سابقین کے باقیات جو ق درجوق آخری نبی کی ربانی تحریک میں شامل ہوتے رہے ۔ عام انسانوں کو ایسا لگتاتھا جیسے اس ربانی تحریک کے دروازے ان پر وا ہیں ۔ یہ تحریک کسی مخصوص گروہ یا قوم کی سبقت یا بالا دستی کی دعوت نہیں دیتی بلکہ اس کی وسعت میں پوری دنیائے انسانیت کی نجات کا سامان موجود ہے ۔ خدائے واحد کی غیر مشروط بندگی کی یہ دعوت دنیائے انسانیت کو ایک دھاگے میں پروتی اور اسے ایک رشتۂ اخوت میں متحد کرتی۔ اطاعت گزاروں کا یہ قافلہ جس میں تما م ہی انبیاء اوران کے سچے متبعین شامل بتائے جاتے تھے وحدت انسانیت کی ایک ایسی آفاقی دعوت تھی جس سے ہر ذی شعور شخص خود کو منسلک محسوس کرتا ۔
تمام گروہی شناخت کی نفی اورربانی شناخت پراصرار کا ہی نتیجہ تھا کہ متبعین محمد کی پہلی نسل بادیہ نشین عربوں کے بے سرو سامان قافلے جب مختلف سمتوں میں اس صدائے انقلاب کو لے کرنکلے توعرب وعجم ، شمال وجنوب ہر جگہ ان کا والہانہ استقبال ہوا۔ عام انسانوں نے ان بادیہ نشینوں کو اپنا نجات دہندہ تصور کیا ۔ انہیں اس کا خیال بھی نہ آیا کہ ربانی دعوت کے ان علمبرداروں کا تعلق کسی اجنبی تہذیب سے ہے، ان کی زبان مختلف اور ان کا طرزِ زندگی عرب ثقافت کا امین ہے کہ داعی اور مدعو دونوں کے لئے زبان و ثقافت ، رنگ و نسل کا امتیاز، جغرافیائی سرحدیں اپنی معنویت کھو چکی تھیں ۔ تب ربانی تحریک میں ہر شخص خواہ وہ عرب ہو یا عجم اپنی شرکت کے یکساں مواقع دیکھتا تھا اور اپنی نجات کے لئے یکساں امکانات پاتا تھا۔ مشترکہ پیغمبر انہ وراثت کے یہ امین جو عالمی سطح پرایک ربانی معاشرے کے قیام کی دعوت لے کر اٹھے تھے ، ابتدائی دنوں میں ربانی نظام زندگی کی ایسی نظیر قائم کی جس پر نہ تو کسی خاص ثقافت کے غلبہ کا گمان ہوتا تھا اورنہ ہی کسی امپائر سازی کا شبہ کہ متبعین محمد کی پہلی نسل اپنے طرز عمل سے امپائر بلڈنگ کی نفی کرتی رہی ۔
البتہ رفتہ رفتہ جب قرآن کا آفاقی پیغام اور وحدتِ انسانیت کی دعوت نگاہوں سے اوجھل ہوتی گئی، ربانی پیغام عرب ثقافت کے قالب میں دیکھا جانے لگا اور ہمارے علماء ودانشور اس خیال کے قائل ہوتے گئے کہ مسلم ثقافت دراصل قرآنی دائرہ فکر کا ہی فکری تسلسل ہے اوریہ کہ اسلام کے مفاد کو مروجہ مسلمانوں سے الگ نہیں کیا جاسکتا ،ہمارے یہاں ربانی طرزِ فکر کے زوال کا بگل بج گیا ۔ عرب ثقافت فی نفسہٖ وجہ امتیاز قرار پائی اور غیر عربوں کو موالیوں کی شکل میں ربانی تحریک کی سرحدپر اکتفا کرنا پڑا ۔ جب ایک بار ربانی دعوت کے بجائے خاندانی عزّ وشرف، نسلی تفاخر اورعرب عصبیت جیسے عوامل کو اہمیت مل گئی توپھر ربانیوں کے اس گروہ سے صبغۃ اللہ کا وہ مجموعی تاثر زائل ہو تا گیا ۔ دیگر اقوام کے مقابلے میں مسلم قومی عصبیت ایک معتبر شناخت کی حیثیت سے سامنے آئی ۔ خانوادۂ نبوت کے دوسرے گروہ اور سعید نفوس کے دیگر قافلے خود کو اس نئی مسلم تحریک سے الگ محسوس کرنے لگے۔ جن لوگوں نے محمد رسول اللہ کی بعثت کے بعد بھی اپنی یہودی ،عیسائی جیسی شناختوں کوباقی رکھا تھا ان کی تنگ نظری اورفرقہ پرستی تو عیاں تھی البتہ اب نئی مسلم قومی عصبیت کے سامنے آجانے سے خود ربانیوں کا یہ گروہ بھی فرقۂ محمدی کی نفسیات سے دوچار ہوگیا۔ نتیجہ یہ ہواکہ ایک بین الاقوامی رسول کو جو عالمین کے لئے رحمت بناکر بھیجے گئے تھے ایک مسلم قومی نجات دہندہ کی حیثیت سے دیکھا جانے لگا ۔ پھر بہت جلد توحید کے ان علمبرداروں میں بھی اقوام سابقہ کی طرح، اپنے نبی کے حوالے سے گروہی شناخت کے داعیے نے سراٹھا یا ۔توحید کی علمبردار امت جوکبھی خدائے واحد کی بنیاد پر وحدت انسانیت کی علمبردار تھی اورجس کے د ل ودماغ اس احساس سے معطر رہتے کہ وہ تمام انبیاء و رسل کی دعوتوں کا ارتکا زہیں۔بدقسمتی سے وہی لوگ خود کو امت محمدی کا علمبردار سمجھنے لگے۔ اس تنگ نظر ی نے انہیں صرف منصبِ نبوت سے ہی معزول نہیں کیا بلکہ آخرت کے سلسلے میں بھی بے شمار خوش گمانیوں اورامانیات نے ان کے عقیدے میں مستقل اپنی جگہ بنالی ۔
بھلا قرآن مجید سے بڑھ کر اورکون سا مستند وثیقہ ہو سکتا ہے جو محمد رسول اللہ کی غایتِ بعثت کی تشریح وتعبیر کرسکتا ہو۔ دفتین کی اس کتاب میں، جوآج تک پوری صحت کے ساتھ امت کومنتقل ہوتی رہی ہے، امت محمد یہ جیسی کوئی اصطلاح نہیں پائی جاتی۔ اس کے برعکس قرآن مجید میں رسول اللہ کوایک ایسے نبی کی حیثیت سے پیش کیا گیا ہے جو دینِ ابراہیمی کے احیاء کے لئے بھیجا گیا ہو اورجو اہلِ کتاب کے دیگرگروہوں کے مقابلے میں دینِ ابراہیمی کا سب سے مستند پیرو کار ہے ۔
امت محمدی کا نوتراشیدہ تصور اس بات سے عبارت تھا کہ اب تاریخ کے آخری لمحے تک صبغۃاللہ کے حاملین کے بجائے ایک ایسی قوم اپنے غَلبہ اورسیادت کی تیاری کر رہی ہے جو محمد رسول اللہ کی باقیات میں سے ہے ۔ظاہر ہے دوسری اقوام کے لئے امت محمدی کے سیاسی غلبہ یا اس کی عالمی قیادت میں کوئی دلچسپی نہیں ہوسکتی تھی ۔پھر آنے والے دنوں میں اس قومی شناخت کی بنیاد پر اموی اورعباسی سلطنتوں کے جاہ وحشم ،اسپین اوردہلی میں امت محمدیہ کے سیاسی عروج او رعثمانی ترکوں کی قیادت میں ملک گیری کی توسیع کا جومنظر سامنے آیا اس سے بھی یہی کچھ مترشح ہوتا تھا کہ امتِ محمدیہ دوسری اقوام پر اپنے سیاسی، عسکری اور تہذیبی تفوق کیلئے کوشاں ہے ۔بظاہر مسلم ریاستوں کی سرحدیں وسیع ہوتی رہیں، عرب مسلم تہذیب وثقافت کے مرکز میں علم و فن کے چراغ کی لو مسلسل تیز ہوتی رہی ،مگر فی الواقع نظری اعتبار سے متبعینِ محمد کی یہ نسلیں مسلسل زوالِ فکر ونظر سے دوچار تھیں، جہاں منصبِ کار رسالت سے منہ موڑکر اب ان کے ارباب حل وعقد اپنی کھال میں مست تھے۔گروہی اندازِ فکر نے خود بین المسلمین خانہ جنگی کی کیفیت پیدا کر دی تھی۔ جو لوگ کبھی وحدتِ انسانیت کے علمبردار تھے اب وہی لوگ آپس میں شیعہ سنی، حنفی شافعی شناختوں کے حوالے سے خونریزتصادم میں مبتلا ہو گئے ۔ اس صورتِ حال نے اموی سلطنت کی بساط لپیٹ دی ، عباسی سلطنت کا چراغ گل کردیا ۔ نظری اعتبار سے امت اتنے مختلف گروہوں میں بٹ گئی کہ یہ پتہ لگانا مشکل ہوگیا کہ حق پر کون ہے اورکسے واقعی محمد رسول اللہ کا سچا امین کہا جاسکتا ہے۔ اہل فکر و نظر مسلسل اس خیال کا اظہار توکرتے رہے کہ ہمارے تاریخی سفر میں کہیں کوئی بنیاد ی گڑبڑی ہوگئی ہے، جس کی وجہ سے ہر اگلا قدم ہمیں اپنی منزل سے مزیددور کر دیتا ہے ۔مگر اصلاحِ احوال کے لئے جتنی بھی کوششیں ہوئیں ان کا لب لباب یہی تھا کہ امتِ محمدی کو کسی طرح غلبہ وتفوق عطا کردیا جائے ۔ اس خیال کی طرف توجہ کم ہی گئی کہ ربانی امت کا جو تصور ہمارے دل ودماغ سے محو ہو چکا ہے اورجس کی وجہ سے ہم گروہی انداز سے سوچنے اور محدود گروہی نتائج پیدا کرنے پر مجبور ہیں ،اس آفاقی نقطۂ نظر کی از سرِنو تشکیل کا کام کیسے انجام دیا جائے۔
امت مسلمہ کے وسیع آفاقی تصور سے دست کشی اورامتِ محمدی کے نئے نظری خول کی تعبیر نفسیاتی اورفکری ہر دو سطح پر پسپائی سے عبارت تھی ، جس نے بہت جلد متبعینِ محمد کی اگلی نسلوں کو منصبِ سیادت سے معزول ومعطل کرکے رکھ دیا ۔جب تک مسلمانوں کی موجودہ نسل کو کارِ نبوت کے اعلیٰ منصب کا پھر سے ادراک نہیں ہوتا اوران کے دل ودماغ اس خیالِ تقلیب انگیز سے مامو ر نہیں ہوتے کہ وہ رحمۃللعالمین کے امین، تمام انبیائی تحریکوں کے نکتہ ارتکاز اور تاریخ کے آخری لمحے تک انسانیت کی عمومی فلاح ونجات کی خاطر معبوث کئے گئے ہیں تب تک وہ امت محمد ی کے نفسیاتی گنبد میں خود کو مقید رکھنے پر مجبور پائیں گے ۔
امت مسلمہ بنام امت محمدیہ
امت مسلمہ ایک قرآنی اصطلاح ہے ،جس کی تشریح وتعبیر اس دعائے براہیمی سے ہوتی ہے (ربنا واجعلنا مسلمین لک ومن ذریتناامۃ مسلمۃلک و أرنا مناسکنا و تب علینا انک انت التواب الرحیم) (البقرۃ:۱۲۸) اس دعا کی مزید تفسیر کرتے ہوئے اگلی آیتوں میں مزید ارشاد ہے کہ جو دین براہیمی سے بے رغبتی کرے گا وہ دراصل اپنے نفس کے دھوکے میں مبتلا ہے ۔وہی ابراہیم جس کی اطاعت پر خو د قرآن نے گواہی دی کہ جب اس سے کہا گیا کہ اطاعت گزار بن تو بول اٹھا (اسلمت لرب العالمین)۔ بات یہیں ختم نہیں ہوگئی بلکہ اطاعت گزاری کی یہ روایت انہوں نے آگے بڑھائی ۔ابراہیم اور یعقوب نے اپنی اولاد کو وصیت کی (یٰبنییَّ ان اللہ اصطفی لکم الدین فلاتموتن الاوانتم مسلمون) (البقرۃ:۱۳۲)کہ تمہیں موت نہ آئے مگر اس حالت میں کہ تم اطاعت گزاروں میں سے ہو۔حضرت یعقوب جب دنیا سے رخصت ہور ہے تھے تو ان کے دل ودماغ پر بھی یہی فکر سوار تھی کہ میرے بعد ایسا نہ ہو کہ میرے بچوں کی اطاعت گزاری میں کوئی کمی واقع ہو جا ئے لہٰذا دنیا سے جاتے ہوئے انہوں نے اپنی اولاد سے اس بار ے میں اطمینان حاصل کرنا مناسب جانا ۔ بچو ں کا یہ جواب (نعبد الٰہک والہ ابائک ابراھیم واسمعیل واسحق الھا واحدا ونحن لہ مسلمون) (البقرۃ:۱۳۳) اس دعائے براہیمی کا تسلسل ہے جس میں ابراہیم نے اپنی ذرّیات میں سے امت مسلمہ اٹھا نے کی التجا کی تھی ۔
قرآنی بیان کے مطابق امت مسلمہ دراصل خانوادۂ نبوت اوران کے سچے متبعین پرمشتمل ایک ایسا گروہ ہے جس نے تاریخ کے ہر لمحے میں اوردنیا کے ہرخطے میں غیر مشروط اطاعت گزاری کی ریت کو برقرار رکھا ہے۔ اطاعت گزاروں کا یہ گروہ زمان ومکان، نسلی ،لسانی اور جغرافیائی سرحدوں سے بے نیاز ہے۔ جس نے سچی اطاعت اختیار کی اللہ نے اسے اپنے مقربین میں شامل کرلیا ۔ اطاعت گزاروں کے اس قافلے میں شامل ہو نے اور قرب الٰہی کی بشارت کا مستحق قرار پانے کیلئے کسی کا عورت یا مرد ہونا بھی اس راہ کی رکاوٹ نہ بن سکا ، (یامریم ان اللہ اصطفٰک وطھرک واصطفک علی نسآء العٰلمین) (آل عمران:۴۲) یا حضرت آسیہ کو آنے والی نسلوں کیلئے بطور نمونہ پیش کرنا اسی خیال کی تصدیق ہے کہ خدا کے نزدیک اطاعت گزاروں کے قافلے میں شمولیت کے لئے عمل کی ہی اہمیت ہے ۔دوسری تمام نسبتیں یا حوالے کچھ معنی نہیں رکھتے لہٰذا جو لوگ ’(کونوا ہوداً او نصاریٰ) پراصرار کرتے ہیں یا جوامت محمدیہ سے نسبت کونجات کے لئے کافی سمجھے بیٹھے ہیں ان کے لئے یہ تنبیہ و تحذیر ہے (قل بل ملۃ ابراہیم حنیفا) کہ وہ بلا پس وپیش ابراہیمی طریقے کو اختیار کرلیں ۔امت مسلمہ سے الگ کسی نبی کو فرقہ بندی کی عینک سے دیکھنا یا اس پر یہودی ،نصرانی یامحمدی شناخت کے علمبردار ہونے کا الزام عائد کرنا، ایک ایسی بے اصل بات ہے جس کی تنبیہ کرتے ہوئے قرآن انبیائے سابقین کے متبعین سے کہتا ہے (ء انتم اعلم أم اللہ) تم زیادہ جانتے ہویا اللہ۔ انبیاء پر اس طرح کی گروہ بندی کا الزام عائد کرنا دراصل بہت بڑا ظلم ہے حقیقت سے جان بوجھ کر چشم پوشی ہے ۔ (ومن اظلم ممن کتم شھادۃ عندہ من اللہ وما اللہ بغافل عما تعملون) (البقرۃ:۱۴۰)۔
یہ ہے امت مسلمہ کا وہ تصور جو قرآن کے صفحات سے برآمد ہوتاہے ۔ابراہیم واسمٰعیل ، اسحٰق ویعقوب اورتمام انبیائے سابقین اوران کے سچے متبعین کی ایک جگمگاتی کہکشاں ۔جس طرح (محمد رسول اللہ والذین معہ) (الفتح:۲۹) آنے والی تاریخ میں سیادت پر فائز کئے گئے ہیں اسی طرح (ابراہیم و اسماعیل، اسحاق و یعقوب والاسباط) (النساء:۱۶۳) پر مشتمل راہ یاب قدسی نفوس کے اس وسیع مجموعے کانام امت مسلمہ ہے۔جو لوگ پھربھی اس بات پر اصرار کریں کہ امت مسلمہ سے مراد صرف امت محمدیہ یا اس سے نسلی تعلق رکھنے والے لوگ ہیں کیا وہ اس بات کی جسارت کرسکتے ہیں کہ براہیمی سلسلے کے دوسرے انبیاء کے متبعین یا آسیہ ومریم جیسی سپردہ نفوس کو امت مسلمہ کے اس وسیع دائرے سے باہر کردیں ۔
صرف اطاعت گزاروں کے لئے اہل ایما ن یا اہل اسلام کے مقابلے میں ایک دوسرا گروہ اہل کفر ہے ۔یہ وہ لوگ ہیں جن کے ہاتھوں سے توحید کا دامن جاتا رہا،گو یا حبل اللہ سے ان کا تعلق ٹوٹ گیا۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی پر اگند گئی فکر و نظر کی وجہ سے اب کسی عمل صالح کے لائق نہیں رہے ۔ دائرہ توحید سے ایک بار باہر آجانا فسادِ فکر ونظر کاایک لامتناہی سلسلہ قائم کردیتاہے ۔انبیاء کی وارث قومیں بھی اگر شرک کے راستے پر چل نکلیں توان کا شمار اطاعت گزاروں میں نہیں ہوسکتا ۔(لقد کفر الذین قالواان اللہ ہوالمسیح ابن مریم)(المائدۃ:۱۷) یا (لقد کفر الذین قالوا ان اللہ ثالث ثلثۃ) (المائدۃ:۷۳) جیسی آیتیں اس بات پردال ہیں کہ خود کواہل ایمان کہلانے والے لوگ بھی اگرتوحید سے دست کش ہوجائیں تو ان کے اس صریح کفر کو خوشنما اصطلاحات یافقہی معاریض میں نہیں چھپایا جاسکتا اورنہ ہی ان کا یہ کہنا ان کی نجات کی ضمانت بن سکتا ہے کہ (نحن ابنٰاء اللّٰہ واحبآؤہ) (المائدۃ:۱۸)۔ اس کے برعکس جن لوگوں نے توحید کا دامن تھام لیا اور عمل صالح میں لگے رہے تو ان کیلئے کسی رنج و غم کی ضرورت نہیں ۔
سورہ ا بنیاء میں انبیائے سابقین کے تذکرے اور ان کی اطاعت گزاری کے بیان کے بعد صریح الفاظ میں یہ بات کہی گئی ہے کہ (ان ہٰذہ امتکم امۃ واحدۃ) (المؤمنون:۵۲) اطاعت گزاروں کا یہ طویل سلسلہ جس میں ابراہیم سے لیکر لوط وسلیمان ،ایوب واسمٰعیل ،ادریس وذوالکفل ، ذوالنون وزکریا، یحيٰ اورمریم جیسے پاکیزہ نفوس شامل ہیں، دراصل یہ ایک ہی امت ہے۔یہ اوربات ہے کہ لوگوں نے آپس میں گروہ بندی کرلی (فتقطّعوا امرہم بینہم) (المؤمنون:۵۳)البتہ ان سبھوں کو ہماری ہی طرف لوٹنا ہے سو ان میں سے جوکوئی نیک عمل کرے گا اوروہ اہل ایمان میں سے ہوگا ،تواس صریح وضاحت کے بعد اس بات کی گنجائش کہاں رہ جاتی ہے کہ ا ہل توحید پرمشتمل اس ایک امت سے انبیائے سابقین کے سچے متبعین کو خارج کردیا جائے (کان النا س امۃ واحدۃ) (البقرۃ:۲۱۳)، (ان ہذہ امتکم امۃ واحدۃ)کے تناظر میں (ان ابراہیم کا ن امۃ قانتا) (النحل:۱۲۰) کے قرآنی بیان کو ملاحظہ کیجئے ۔وہی ابراہیم جواہل توحید کے قافلے میں ایک خاص فضیلت کے حامل ہیں جن کی غیر مشروط اوربے مثال اطاعت گزاری پر خود قرآن گواہ ہے ۔ اہل ایمان سے مطالبہ ہے کہ وہ اپنے اندر ابراہیم جیسے ایمان کی شان پیدا کریں ۔ جوتمام جھو ٹی شناختوں سے ماوراء رب کائنات کی عبودیت کا سچارنگ لئے ہوئے ہے۔ دینِ ابراہیمی کے حاملین اورانبیاء سابقین کے تمام متبعین اسی راستے پر گامزن ہیں جس کی دعوت محمد رسول اللہ دے رہے ہیں۔ جن کے تذکرے سے توراۃ وانجیل کے صفحات پُرہیں ۔ (الذین یتبعون الرسول النبی الامی الذی یجدونہ مکتوباً عندہم فی التوراۃ والانجیل) (الاعراف:۱۵۷)۔ پھر بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ اطاعت گزاروں کے اس قافلے میں مختلف چھوٹی چھوٹی امتیں پیدا ہوجائیں، خدا کے یہ برگزیدہ بندے جھوٹی گروہی شناخت میں مبتلا ہوجائیں کہ ایسا کرنا شرک کا دروازہ کوکھولنا ہے ۔
امت مسلمہ کا یہی وہ ہمہ گیر تصور ہے جس نے مسلمانوں کے دلو ں میں انبیائے سابقین کی باقیات کے لئے ہمیشہ خیر سگالی کے جذبات کو برقرار رکھا ہے ۔حتیٰ کہ ان ایّام میں بھی جب اصحابِ رسول کو اہل کتاب کے بعض گروہوں کی سخت مخالفت کا سامنا تھا ،ان جنگی حالات میں جب نزول قرآن کے وقت اہل یہود کے بعض گروہ مسلسل ریشہ دوانیوں میں مبتلا تھے ،قرآن نے اہل کتاب کے ان سعید نفوس کی ستائش سے اجتناب نہیں کیا جو خوداپنے ہم قوموں کے برعکس خدا ترسی کی راہ پرگامزن رہے (لیسوا سواءً من اہل الکتٰب امۃ قائمۃ یتلون آیات اللہ) (آل عمران:۱۱۳) یا (ومن قوم موسیٰ امۃ یہدون بالحق) (المائدۃ:۱۵۹) جیسی آیات اسی بات کو ذہن نشین کراتی ہیں کہ انسانوں کو محض کسی قومی شناخت کی بنیاد پر اہل کفر یا اہل ایمان کی گروہوں میں نہیں رکھاجاسکتا۔ جو خدا (ان اکرمکم عنداللہ اتقٰکم)کی بشارت دیتاہو اورجس کا وعدہ ہو کہ (لاتزروازرۃ وزراخریٰ) وہ بھلا یہ کیسے پسند کرسکتا ہے کہ کسی شخص کی نسلی یا گروہی شناخت اس کے عمل صالح کو ساقط الاعتبار قرار دینے کا سبب بن جائے ۔ اہل ایمان خواہ وہ کسی بھی تہذیب میں پائے جاتے ہوں ان کے لئے تو قرآن میں واضح بشارت موجود ہے (ان الذین اٰمنو والذین ہادوا والنصٰریٰ والصابئین من اٰمن باللہ والیوم الآخر وعمل صالحا فلہم اجرہم عند ربہم ولا خوف علیہم ولاہم یحزنون) (البقرۃ:۶۲)۔
قرآن کی یہ آیت جس میں فلاح وکامرانی کی بشارت کا دائرہ اممِ سابقہ کے خدا ترسوں تک وسیع کردیا گیا ہے ،بعض اصحابِ علم ودانش کے لئے سخت ذہنی خلجان کاباعث بنتی رہی ہے۔ ہمارے خیال میں اس خلجان کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہمارے درمیان محمد رسول اللہ کی دعوت کو تمام انبیائے سابقین کے ارتکاز کے طورپر دیکھنے کا رواج کم ہی رہاہے ۔حالانکہ قرآن با سالیب مختلف اس مجموعی تاثر کوبا ربار ذہن نشین کراتا ہے کہ محمد ؐ دینِ براہیمی کے داعی ہیں جنہیں امت مسلمہ کے احیاء اورتاریخ کے آخری لمحے تک اس کی قیادت پر مامور کیا گیا ہے ۔دوسری بات یہ سمجھ لینے کی ہے کہ اسلام جو تمام انبیاء کے ذریعے بلند کیا گیا کلمہ حق ہے ،اس کا محور و مرکز خدائے واحد کی پرستش ہے یہ ایک God-centered دین ہے، جہاں انبیاء علیہ السلام کی جگمگاتی کہکشاں میں کسی نبی کو کسی نبی پر فوقیت نہیں دی جاتی۔ خدا کے سچے پرستار سبھوں پر بیک وقت ایمان لاتے ہیں۔ رہے وہ لوگ جو اسلام کو محمد الاصل Mohammad-centeredدین کی حیثیت سے دیکھنے کے خواہش مند ہیں تو دراصل ان کے ذہنوں پر St. Augustine جیسے عیسائی راہبوں کے عقائد کا سایہ ہے جنہوں نے اپنی تبلیغی اورفکری کاوشوں سے حضرت مسیح کو نجات کے لئے بنیاد ی پتھر باور کرارکھا ہے اور اس طرح عیسائی تصور کائنات میں نجات صرف فرقہ عیسوی کیلئے مخصوص ہوکر رہ گئی ہے۔ اس کے برعکس قرآن مجید نجات جیسے مسئلہ کو سرے سے انسانی بحث وتمحیص کے دائرے سے باہر قرار دیتا ہے۔ روزِ آخر کون جنت میں جائے گا اور کسے واصل جہنم کیا جائیگا ،یہ وہ حساس امور ہیں جن پرکوئی قولِ فیصل انسانوں کے بس کی بات نہیں۔ اہل کتاب کو توچھوڑ یے ،انہیں توقرآن دینِ محمدی کے فطری حلیف کے طورپر پیش کرتاہے حتیٰ کہ وہ لوگ بھی جن کے دامن شرک سے آلودہ ہوگئے ان کیلئے بھی خداکا ارشاد ہے کہ سزاو جزا کا یہ فیصلہ وہ بذاتِ خود روزِ حشر انجام دے گا ۔ اس بارے میں کوئی گفتگو انسانوں کے دائر�ۂ اختیار سے باہر ہے: (ان اللہ یفصل بینہم یو م القیامۃ) (الحج:۱۷)۔
جس طرح مختلف شعوب وقبائل سے انسانوں کا تعلق محض تعارف کیلئے ہے (وجعلناکم شعوبًا وقبائل لتعارفوا) (الحجرات:۱۳) اسی طرح یہ بھی خدائی اسکیم کاایک حصہ ہے کہ اس کے سچے بندے مختلف دینی شناخت کے ساتھ جانے جائیں :(ولو شاء اللہ لجعلہم امۃ واحدۃ) (الشوری:۸) اگرخدا ترسوں کے مختلف گروہ انبیائے سابقین کی باقیات وذرّیات، خود کو راہ یابی کے مختلف سلسلوں سے وابستہ پاتے ہوں توانہیں جان لینا چاہیے کہ توراۃ وانجیل بھی اسی خدا کی کتاب ہے اور وہاں بھی ہدایت اور روشنی موجودہے۔ انبیائی پیغام سے اپنا تعلق بتانے والوں کو یہ زیب نہیں دیتا ہے کہ وہ ایک دوسرے کی نجات کافیصلہ کرنے کیلئے بیٹھ جائیں یااس خیال کی وکالت کرنے لگیں کہ لوگو! یہودی اورعیسائی ہوجاؤ نجات اسی میں ہے اورجواس شناخت سے باہر رہ گیا اس کیلئے نجات کی کوئی سبیل نہیں ۔اس کے برعکس قرآن کا مطالبہ ہے کہ انبیائی ہدایت کے امین، مختلف تہذیبوں میں پائی جانے والی سعید روحیں، غیر ضروری مباحثے میں اپنی قوتوں کو ضائع کرنے کے بجائے اس بات کی کوشش کریں کہ وہ ایک دوسرے پر نیکی کے کاموں میں سبقت لے جائیں ۔خدا کے لئے یہ کچھ مشکل نہ تھا کہ وہ تمام انسانوں کو یا اہل حق کے تمام ہی گروہوں کوایک امت بنا دیتا لیکن اس کی تواسکیم یہ ہے کہ جس امت کو جو دیا گیا ہے اسی کی بنیاد پراسے آزمائے: (ولکن لیبلوکم فی ما آتاکم فاستبقوا الخیرٰ ت) (المائدۃ:۴۸)۔
مسلمانوں کی پہلی نسل جوانبیائی سلسلے میں محمد رسول اللہ کے مقام عظمت سے واقف تھی اس نے ان امور کو کبھی معرض بحث نہیں بنایا کہ روز محشر انبیائے سابقین کے متبعین کے ساتھ کیا معاملہ کیاجائے گا۔ اس کے برعکس اہل کتاب کے حوالے سے وہ اس دعوت کے امین رہے کہ اے اہل کتاب آؤ ان بنیادی باتوں کی طرف جوہمارے اورتمہارے درمیان مشترکہ ہیں: (قل یٰا اہل الکتٰب تعالوا الیٰ کلمۃ سواء بیننا وبینکم الا نعبد الا اللہ ولا نشرک بہ شےئا و لا یتخذ بعضنا بعضا اربابا من دون اللہ فان تولوا فقولوا اشہدوا بانامسلمون) (آل عمران:۶۴)۔
جو لوگ انسانیت کی سیادت پر فائز کئے گئے ہوں ان کے مقام بلند کا یہ فطری تقاضہ تھا کہ وہ اہل حق کے تمام ہی گروہ کو وسعتِ قلبی کے ساتھ قبول کریں ۔ تمام اہل حق پرنئی نبوی تحریک میں شرکت کادروازہ کھلا رکھیں تبھی یہ ممکن ہے کہ انبیائے سابقین کے سچے او رجھوٹے دعویدار الگ ہوسکیں ۔جو لوگ واقعی خدا شناس ہوں گے وہ ’’ فاستبقو الخیرا ت ‘‘ کی دعوت پر لبیک کہیں گے ۔ ربانی تحریک کی راہ میں ایسے خدا شناس لوگ مزاحم نہیں ہوسکتے۔ رہے وہ لوگ جنہوں نے یہودی یا نصرانی نسبتوں کو ہی وجہ نجات سمجھ رکھا ہے توان کیلئے صاف صاف بتادیا گیا کہ (قل یٰا ھل الکتٰب لستم علی شئی حتیٰ تقیموا التوراۃ والانجیل وما انزل الیکم من ربکم) (المائدۃ:۶۸) یہ نام نہاد اہل کتاب جو دین کے نام پر گروہی عصبیت جیسی لعنت میں مبتلا ہیں اورجن کافرقہ ہی ان کے لئے الہٰ کی حیثیت اختیار کر گیا ہے توشرک کے مارے ان نام ونہاد وارثینِ انبیاء سے تو دور رہنا ہی بہترہے ۔ ایسانہ ہوکہ گروہی عصبیت کا یہ زہر اوران کی تنگ رجعت پسندانہ ذہنیت تمہیں بھی اپنی لپٹ میں لے لے ۔ سو اہل ایمان کو تلقین ہے کہ (یٰایہاالذین اٰمنو لا تتخذ وا الیہود والنصٰریٰ اولیاء بعضہم اولیاء بعض) (المائدۃ:۵۱)۔ البتہ کسی کو یہ خیال نہ ہوکہ اس قسم کے قرآنی بیانات اہل کتاب کی طرف کسی عمومی بیان کے مظہر ہیں کہ قرآن میں جابجا باقیات انبیائے سابقین کو نہ صرف یہ کہ شرکتِ عمل کی دعوت دی گئی ہے بلکہ مسلمانوں کے ذہنوں میں اٹھنے والے ممکنہ شبہات کا بھی ا زالہ کردیا گیا ہے (لیسوا سواءً من اہل الکتٰب امۃ قائمۃ یتلون اٰیٰت اللہ اٰناء الیل وہم یسجدون) (آل عمران:۱۱۳)۔
یہ بات کہ اہل کتاب مسلمانوں کے فطری حلیف ہیں ابتدائی عہد میں ایک امر مسلمہ کی حیثیت سے تسلیم کی جاتی تھی ۔قرآن نے اہل کتاب سے موالات کی راہ کھلی رکھی تھی ۔ ان کا کھانا پینا مسلمانو ں کے لئے حلا ل قرار دیا گیا تھا حتیٰ کہ معاشرتی تعلقات کے قیام کیلئے بھی صریح قرآنی ہدایات موجود تھیں ۔ عفت مآبی کی شرط کے ساتھ اہل کتاب کی عورتیں بھی عفت مآب مسلمان عورتوں کی طرح حلال قرار دی گئی تھیں (الیوم احل لکم الطیبٰت وطعام الذین اوتوا الکتٰب حلّ لکم وطعامکم حلّ لہم والمحصنٰت من المومنٰت والمحصنٰت من الذین اوتوالکتٰب من قبلکم) (المائدۃ:۵)۔ایک ایسے ماحول میں جہاں تقویٰ اورپاکیزگی کی بنیاد پر انسانی زندگی کی تنظیم نوکی جارہی ہو، جہاں گروہی نسبتیں، نسلی تفاخر او رجھوٹی دینی شناخت کا لعدم قراردی جا رہی ہو،یہودی، عیسائی یا قومی مسلمان بنانے کے بجائے رباّنی بنانے کا غلغلہ بلند ہو ، کسی کے حاشےۂ خیال میں یہ بات نہیں آسکتی تھی کہ آنے والے دنو ں میں متبعینِ محمد کا ذہنی افق اس قدر تنگ ہوجائے گا کہ ان کی نسلیں اپنے لئے ایک قومی شناخت کو گوارہ کرلیں گی اور مسلم ہونا ان کے درمیان رویّے کے بجائے شناخت بن کر رہ جائے گا۔ بدقسمتی سے بعض سیاسی حوادث اورتاریخی عوامل نے آنے والے دنو ں میں ایک ایسے ہی تنگ نظر متعصب قومی شناخت کی راہ ہموار کردی جس کے لئے جلد ہی روایات وتاریخ کے ماخذ اور فضائل سے متعلق تراشیدہ قصوں نے ایک مستقل نظامِ فکر مرتب کرڈالا ۔ امت مسلمہ جو خود کو تاریخ کے آخری لمحے تک قیادت کے منصب پر فائزسمجھتی تھی اور جو امم سابقہ کی باقیات کو اسی قائدانہ وسعتِ نظری سے دیکھتی تھی رفتہ رفتہ انہیں رقیب تصور کرنے لگی ۔ امت محمدیہ کی نفسیات کے جنم لینے سے نہ صرف یہ کہ قائدانہ نفسیات اوروسعتِ نظری کا خاتمہ ہو گیا بلکہ مسلمانوں کے ذہنوں پر یہ بات نقش ہونے لگی کہ وہ بھی دوسری امتوں کی طرح ایک امت ہیں ۔یہودیوں اورعیسائیوں کی طرح قومی مسلمانوں نے بھی اپنی امت کو دوسری امت سے افضل باور کرانے کی خاطر خوش گمانیوں پر مشتمل روایات کی بھر مار کرڈالی۔ حتیٰ کہ ایسی روایتیں بھی وجود میں آگئیں جن میں یہ بتایا گیا تھا کہ روزِ قیامت کس طرح دوسری قوموں کے مقابلے میں مسلمان بآسانی داخل جنت کئے جائیں گے ۔ایسا اس لئے کہ بعض روایتیں محمد رسول اللہ کو شفاعت کے اس منصب پر فائز کرتی تھیں جس کا یارا ابراہیم اوردوسرے انبیاء کو نہ تھا ۔ بعض روایتیں یہ بتاتی ہیں کہ اس دن لو اء الحمد صرف محمدؐ کے ہاتھ میں ہوگا جو اپنی امت کی خاطر خصوصی شفاعت کے لئے سارا زور صرف کردیں گے ۔جیساکہ بعض روایتیں بتاتی ہیں ایسا محسوس ہوگا کہ گویاعام مسلمانوں کے ساتھ بھی انبیائے بنی اسرائیل جیسا معاملہ کیا جار ہا ہے ۔
امت مسلمہ کے منصبِ عظیم سے بہت نیچے لاکر امت محمدی کی قومی عصبیت کو فروغ دینے کے لئے جو روایتیں وضع کی گئیں اس میں اس بات کا بھی خیال نہیں رکھاگیا کہ اس کی زد رسو ل اللہ کے منصبِ عظیم پر کس طرح پڑتی ہے ۔ جونبی تمام انسانیت کے لئے بشیر و نذیر بنا کر بھیجا گیا اورجس کے رحمۃ للعالمین ہونے پر خود قرآن شاہد ہے اور جس کے بغیر آنے والی ساری انسانی تاریخ بے معنیٰ ہے، اس نبی کے بارے میں مسلمانوں میں یہ تصور عام ہواکہ وہ دنیا سے بھی امتی امتی کرتا رخصت ہوا اور روزِ حشر بھی اپنی امت کو باریاب کرانے میں ایڑی چوٹی کا زور لگا دے گا ۔جب رسولﷺ کے بارے میں یہ خیال عام ہو کہ وہ عام انسانیت کے بجائے صرف اپنی امت کی فلاح وبہبود ی کو مطلوب ومقصود جانتا ہو توبھلا اس کے متبعین کے لئے یہ کیسے ممکن ہوتا کہ وہ اپنے تراشیدہ خولِ مسلمانی سے باہر آکر عام انسانیت کی نجات کی فکر اور اسے ہانکے پکارے فلاح وکامرانی کی طرف بلا سکے ۔نتیجہ یہ ہواکہ سیادت پرفائز امت اپنی پیدا کردہ امانیات اورخوش گمانیوں کے زیر اثر خو د ساختہ معزولی اختیار کرنے پر مجبور ہوگئی ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close