editor

اس شرک سے نجات کا بھی کوئی راستہ ہے؟

راشد شاز

مسلمان مجموعی طور پر شرک کے گردابِ شر میں گرفتار ہیں۔ سیادتِ عالم کے منصبِ جلیل سے ان کی معزولی کا بنیادی سبب یہی ہے کہ توحید خالص کا دامن ان کے ہاتھوں سے چھوٹ گیا ہے۔ شرک کے نتیجے میں برگزیدہ قوموں پر جو عذاب آتا ہے اور جس طرح ان کی ہوا اُکھڑتی ہے اس کا مشاہدہ آج مسلمانوں کے حوالے سے چہار دانگِ عالم میں کیا جاسکتا ہے۔
گزشتہ چند برسوں میں مسلمانوں کے مضطرب ذہن مختلف لب و لہجے میں اپنے آپ سے پوچھتے رہے ہیں کہ کیا خدا اب ان کا ساتھ چھوڑ چکا ہے؟ آخر کیا وجہ ہے کہ ساری دنیا میں مسلمانوں کا خون ارزاں اور ان کی غیرت سستی ہوگئی ہے؟ حالیہ برسوں میں افغانستان اور عراق میں جو کچھ ہوتا رہا ہے اس نے اس سوال کی دھار اور بھی تیز کردی ہے کہ خدا نے آخری پیغام کے حاملین پر سے اپنی شفقت و نصرت کا ہاتھ کیوں اٹھالیا ہے۔ اس سوال کا کوئی تشفی بخش جواب دیا جانا ابھی باقی ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ اہل یہود کی طرح ہم مسلمان بھی اپنی معزولی کے باوجود خود کو خیرامت کے منصبِ جلیل پر فائز سمجھنے کی غلط فہمی میں مبتلا ہیں، حالانکہ آج جو لوگ دنیا کے سیاہ و سفید کا فیصلہ کررہے ہیں وہ بدقسمتی سے ہم نہیں ہیں۔ مصیبت یہ ہے کہ ہماری تمام تر گمرہی چونکہ مصنوعی مذہبیت کے جلو میں آئی ہے اس لیے حقیقتِ واقعہ کا صحیح اندازہ کرنا عام لوگوں کے لیے تو کیا خواص اور علماء کے لیے بھی دشوار ہورہا ہے۔ کہنے کو تو پوری امت دین پر عمل پیرا ہے‘ یا کم از کم دین کے حوالے سے اس کے اندرون میں مختلف مذہبی تحریکیں جاری و ساری ہیں، لیکن اگر حقیقت شناس نگاہوں سے دیکھا جائے تو یہ سب ایک سنگین دھوکے کے علاوہ اور کچھ نہیں۔
توحید انسانوں کو جوڑتا اور شرک انھیں ٹکڑوں میں بانٹ دیتا ہے۔ توحیدی طرزِ فکر انسانوں کو ایک خدا اور اس کے ربانی نظام میں پرونا چاہتی ہے، جبکہ شرک پسند ذہن انسانوں کو خانوں میں بانٹنے اور ان کی گروہ بندیوں کے لیے مختلف حیلے تلاش کرلیتا ہے۔ پچھلے انبیاء کی اُمتیں جن کی طرف بھی توحید خالص کی یہی دعوت بھیجی گئی تھی اپنی من مانی تشریح و تعبیر کے نتیجے میں گروہوں میں بٹ چکی تھیں۔ قرآن کا بیان ہے کہ رسول اللہ کی آمد سے ان گروہ بندیوں اور اختلاف کا خاتمہ ہوا اور توحید کی تجدید نے ان کے اندر پھر سے (فألف بین قلوبکم) کا ماحول پیدا کردیا۔
شرک کا یہ قالب کہ وہ مذہب کے حوالے سے اہلِ مذہب کے دل و دماغ پر اپنے ڈیرے جمائے‘ انسانی تاریخ میں نیاعمل نہیں ہے۔ درختوں کی پرستش اور سورج، چاند کی پوجا ایک ایسا کھلا شرک ہے جسے عام نگاہیں بھی دیکھ لیتیں ہیں۔ البتہ دین کے نام پر فرقہ بندی یا کسی خاص تعبیر دین کو دین قرار دینا اور اس کی پرستش میں مبتلا ہوجانا ایک ایسا عمل ہے جس کی سنگینی کا اندازہ ہر خاص و عام کو نہیں ہوتا۔ مسلمانوں کی مجموعی صورتِ حال پر نظر ڈالئے آخر کیا وجہ ہے کہ مسلمان باہم ایک دوسرے سے برسرپیکار ہیں۔ کہیں یہ جنگ زبانی ہے، کہیں اس میں الفاظ اور فتاویٰ کے گولے بارود استعمال ہورہے ہیں اور کہیں عین حالتِ نماز میں مسجدوں کے اندر ایک مسلک کا مسلمان دوسرے مسلک کے مسلمان کو بلاتکلف گولیوں کا نشانہ بنانے سے نہیں چوکتا۔ دین کے نام پر دنیا بھر میں جو مدارس قائم ہیں ان پر کسی خاص طرزِ فکر یا مسلک کا رنگ غالب ہے۔ قال اللہ و قال الرسول کے جلو میں ان کی اصل کوشش اس بات کی ہے کہ وہ اپنے فرقے کو حق اور دوسروں کو باطل ثابت کریں۔ یہ سلسلہ صرف ہندوستان تک ہی موقوف نہیں پوری مسلم دنیا بلکہ یورپ اور امریکہ میں جو مسلمانوں کے ادارے قائم ہوئے ہیں سب کے سب اسی گروہ بندی میں مبتلا ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ وہ الٰہ واحد کی بندگی کے بجائے ایک طرح کی cult-worship میں مبتلا ہیں۔ ان کے لئے ان کے فرقے یا گروہ اور مسلک نے ہی الٰہ کا مقام حاصل کر رکھا ہے اور وہ اپنے اکابرین کی تشریح و تعبیر کو پیغمبرانہ حد تک سچ سمجھنے لگے ہیں۔ اسی صورتِ حال کا بیان کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے (ا ن الذین فرقوا دینہم و کانوا شیعاً لست منہم فی شیء) یعنی جن لوگوں نے دین میں فرقہ بندی کی اور گروہوں میں بٹ گئے ان کا (اے محمد) آپ سے کوئی تعلق نہیں۔ (الانعام:۱۵۹)
ہماری موجودہ دین داری جس پر بدقسمتی سے گروہ بندی اور مسالک کا رنگ نمایاں ہے، ہماری مساجد اور مدارس جس طرح مسالک اور فرقوں میں بٹ گئے ہیں یا جس طرح ہم دین کی فقہی تعبیر کے نام پر آج خود کو حنفی اور شافعی کے خانوں میں پاتے ہیں اس کے بعد اس حقیقت کا ادراک کرنے میں کچھ زیادہ دشواری نہیں ہونی چاہیے کہ (حبل اللہ) ہمارے ہاتھوں سے پھسل چکی ہے۔ اس بھری پری کائنات میں آج کون ہے جو لوگوں کو ایک خدا کی طرف بلا رہا ہو۔ ہر مسجد کے منبر سے اور مدرسہ کے مسندِ ارشاد سے بس اسی بات کی دعوت دی جارہی ہے کہ آؤ ہمارے فرقے میں شامل ہوجاؤ، دین خالص کے علمبردار تو ہم ہی ہیں۔ کہنے والوں کو اس بات کا شعور نہیں کہ دین کے نام پر وہ کس بدترین قسم کی فرقہ پرستی میں مبتلا ہیں۔ آخر کیا وجہ ہے کہ قرآن مجید کی موجودگی کے باوجود مسلمانوں کے تمام ہی گروہ یا فکری حلقے اپنی دینی مشین کو متحرک رکھنے کے لیے اپنے اکابرین کی کتابوں پر انحصار لازم خیال کرتے ہیں۔ قرآن مجید کی موجودگی کے باوجود بھی کیا اس بات کی ضرورت باقی رہ جاتی ہے کہ کسی فقیہ و مفسر یا امام یا اہلِ دل کی کتابوں کو فہمِ دین میں سند کا مرتبہ حاصل ہو۔ ہمیں تو واضح الفاظ میں یہ بتایا گیا ہے کہ (لاتکونوا کالذین تفرقوا واختلفوا من بعد ما جآء ہم البینٰت) (آل عمران:۱۰۵) یعنی ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جو بیّنات آجانے کے بعد بھی فرقہ بندی اور اختلاف کا شکار ہوگئے، ایسے لوگوں کے لیے بڑا عذاب ہے۔
آج اُمت مسلمہ جس دردناک عذاب میں گرفتار ہے وہ تفرقہ اور اختلاف کا لازمی نتیجہ ہے۔ الٰہی پیغام کی حامل قوموں نے جب بھی دین کی تعبیر کے نام پر گروہ بندی کو جائز قرار دیا وہ دین کے حوالے سے cult-worship میں مبتلا ہوگئیں۔ قرآن کا ارشاد ہے کہ تمام انبیاء پر ایک ہی دین بھیجا گیا اور انھیں یہ تاکید کردی گئی کہ (أن أقیموا الدین ولاتتفرقوا فیہ) یعنی وہ اُسے قائم رکھیں اور اس میں پھوٹ نہ ڈالیں۔ رسول اللہ کو جن لوگوں کی طرف بھیجا گیا ان میں ایسے لوگ بھی تھے جو ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ کے نام لیوا تھے۔ ان کے یہاں رسمی دین داری کی کمی نہ تھی۔ البتہ وہ دین ہی کے نام پر بدترین قسم کے تفرقے میں مبتلا تھے۔ ان سابق اہلِ ایمان کی ذہنی معراج یہ تھی کہ جس کسی کو جنت میں اپنی جگہ محفوظ کرانی ہو اُسے چاہیے کہ وہ ان جیسا بن جائے اور بس (وقالوا کونوا ہوداً أو نصاریٰ) وہ کہتے تھے کہ یہودی اور عیسائی بن جاؤ۔ یہ حضرات جو خیر سے خود کو وقت کا مسلمان سمجھتے تھے باہم ایک دوسرے کے بارے میں کہا کرتے تھے کہ اہلِ یہود کے پاس ہے ہی کیا اور یہودی کہتے تھے کہ عیسائیوں کے پاس کچھ نہیں۔ قرآن نے ان فرقہ بندیوں کو یکسر گمرہی قرار دیا۔ محمد رسول اللہ نے فرقہ پرستی کے عذاب میں مبتلا انبیاء سابقین کی قوموں کو یہ حیات افزاء آفاقی پیغام دیا کہ لوگو !عیسائی یا یہودی بننے سے کچھ نہیں ہوتا بلکہ اصل بات تو یہ ہے کہ ربّانی بنو (کونوا ربانین)۔ اللہ کا رنگ اختیار کرو(و من احسن من اللہ صبغہ) ۔
قرآن کی ابتدائی سورتیں مختلف اسلوب سے وقت کے مسلمانوں (یہود و نصاری) یعنی انبیاء سابقین کی اُمتوں کو فرقہ بندی کے عذاب سے نکلنے کی دعوت دیتی ہیں (وماکان ابراہیم یہودیاً ولا نصرانیاً و لکن کان حنیفاً مسلماً) (آل عمران:۶۷) رسول اللہ کی دعوتِ توحید وقت کے مسلمانوں کو یہ بتارہی تھی کہ توحید خالص کے علمبردار فرقہ بندی میں مبتلا نہیں رہ سکتے۔ خواہ یہ فرقہ بندی انبیائی حوالے سے ہی کیوں نہ وجود میں آئی ہو خدا کو مطلوب عیسائی یا یہودی بنانا نہیں بلکہ ربانی بنانا ہے۔
جو کتاب کسی رسول کے نام پر بھی گروہ بندی کی اجازت نہ دیتی ہو وہ اس بات کی اجازت کیسے دے سکتی ہے کہ اس کے ماننے والے غیرنبیوں کے نام پر مختلف فرقے وجود میں لے آئیں۔ (کونوا ربّانین) کی قرآنی دعوتِ انقلاب آج ہم سے پوچھتی ہے کہ آخر یہ کیسے ممکن ہوا کہ محمد رسول اللہ کے ماننے والوں نے اپنی تاریخ کے ایک مرحلے میں حنفی شافعی، شیعہ سنی، بریلوی دیوبندی اور سلفی جیسی جماعتی شناختوں کو قبول کرلیا۔ آخر یہ کیسے ممکن ہوا کہ کبھی توحید خالص کے علمبردار دین کے حوالے سے بدترین قسم کی فرقہ پرستی میں مبتلا ہوگئے اور انھیں رفتہ رفتہ یہ سب کچھ معمول کی زندگی لگنے لگی۔ cult-worship میں مبتلا مسلمانوں کے مختلف گروہوں کو، جس میں بدقسمتی سے آج جمہور اُمت گرفتار ہے، قرآن کی یہ صریح آیت کیوں نظر نہیں آتی کہ جن لوگوں نے دین میں فرقہ بندی کی‘ گروہوں میں بٹ گئے، ان کا کوئی تعلق اب محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں رہ گیا ہے۔(ا ن الذین فرقوا دینہم و کانوا شیعاً لست منہم فی شییء) (الأنعام:۱۵۹)۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close