Book ReviewSlider Post

اسلام میں اصلاحی تحریک کی معنویت

راشد شاز

فی زمانہ مکہ سے واشنگٹن تک اسلام کی تجدید و اصلاح کا غلغلہ ہے گو کہ اسلام میں اصلاحی تحریک کا تصور کوئی اجنبی خیال نہیں ہے۔ البتہ اصلاح کے جو شدید داعیات اس وقت پائے جاتے ہیں شاید ایسی شدت اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی اور اس حقیقت کے باوجود کہ اسلام میں تجدید و اصلاح کی نظری اساس پائی جاتی ہے آج اسلام کو اندر سے بدلنے کے لئے جو خارجی عوامل کام کررہے ہیں اس نے اس کی تجدید و اصلاح کی ہر مخلصانہ کوشش کو شبہات کے دائرے میں داخل کردیا ہے۔ مزید برآں مغرب میں جو دانشور اس وقت اصلاح کے علمبردار ہیں ان کا اصل ہدف اسلام کو عصری تناظر سے ہم آہنگ کرنے کے بجائے یہ ہے کہ اسلام کو کس طرح قابو میں کیا جائے تا کہ ایک ایسے اسلام کی تشکیل ممکن ہو جو مغرب کے liberal frame work میں فٹ آسکے۔ مغرب نے اس سے پہلے عیسائیت اور یہودیت کے ساتھ اسی نہج پر کامیاب تجربات کئے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اگر اہل یہود اور اہل کلیسا کی طرح مسلمان بھی مغرب کے موجودہ سرمایہ دارانہ نظام سے خود کو ہم آہنگ کرسکیں تو مغرب کے لئے اس کے سب سے خطرناک مفروضہ دشمن اسلام سے بزور بازو نمٹنے کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہ جائے گی۔
تحریک اصلاح کے علمبرداروں میں ایک طبقہ ان مسلم دانشوروں پر مشتمل ہے جن کی تعلیم و تربیت مغربی دانش گاہوں میں ہوئی ہے۔ مسلمان مصلحین کی یہ نسل خود کو ابن حزم، داؤد ظاہری، ابن تیمیہ، ابو حامد غزالی، محمد بن عبدالوہاب، شاہ ولی اللہ اور ان جیسے دیگر مصلحین کا توسیعہ سمجھتی ہے۔ اس کا خیال ہے کہ اگر ماضی میں مسلمان تحریک تجدید و اصلاح کا والہانہ استقبال کرتے آئے ہیں اور ان دلوں میں اپنے مصلحین کے لئے تحسین کے جذبات پائے جاتے رہے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ جب آج اس تجدیدی عمل کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے ہم اصلاحی تحریک پر اعتراض وارد کریں۔ البتہ ماضی کی طرح یہ سوال ابھی تک حل طلب ہے اگر ماضی کی اصلاحی تحریکیں اسلام کو اس کے اصل قالب تک لوٹانے میں ناکام رہی ہیں اور اگر ماضی میں تجدید و اصلاح کی کوششیں امت مسلمہ پر ایک نئی صبح طلوع کرنے میں کامیاب نہ ہوسکیں توآخر یہ کیسے ممکن ہے کہ اجتہاد کی یہ سعیِ بلیغ آج بامراد ہوسکے گی۔ گزشتہ کئی صدیوں سے مسلم مصلحین کتاب و سنت کی طرف واپسی کی صدا لگاتے رہے ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ صدیوں کی ان شب و روز جدو جہد کے باوجود رجوع الی الکتاب و السنۃ کا خواب ہنوز ابھی شرمندۂ تعبیر ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ ہمیں اس بات پر اپنی توجہ مرکوز کرنا ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ ہمارے بہترین دماغ اور مخلصانہ جدوجہد رجوع الی القرآن کے ہدف کو حاصل کرنے میں ناکام رہی گویا عہد جدید کے مصلحین پر دوہری ذمہ داری آپڑی ہے۔ اولاً انہیں کمالِ ژرف نگاہی سے اس بات کا جائزہ لینا ہے کہ متقدمین کی ناکامیوں کی بنیادی وجوہات کیا تھیں۔ثانیاً انہیں ساتھ ہی اس بات کا التزام بھی کرنا ہے کہ فی زمانہ رجوع الی القرآن کی کامیاب کوششوں کے لئے کس طریقۂ کار کا اختیار کرنا مناسب ہوگا اور یہ کہ کس طرح ایک بار پھر اسلام کی حقیقی روح ہم پر منکشف ہوسکے گی۔ گویا جدید مصلحین کو ابتدا ہی سے اس بات کا التزام کرنا ہوگا کہ وہ تاریخی اسلام اور نظری اسلام میں نہ صرف یہ کہ امتیاز کریں بلکہ مطالعۂ قرآنی میں ایک ایسے منہج کی داغ بیل ڈالیں جس کے ذریعہ انسانی تعبیرات اور التباسات کے پردوں کا چاک کیا جانا ممکن ہو۔ اور یہ جب ہی ممکن ہے جب ہر مسلّمہ کو از سرنو تحقیق و تجربہ کا موضوع بنایا جائے اور ہر مسئلہ پر قرآنی دائرۂ فکر میں ازسرنو گفتگو کا آغاز ہو۔ یقین جانئے اگر ہم قرآن مجید کو حکم مانتے ہوئے اپنے تہذیبی اور علمی ورثے کا ناقدانہ جائزہ لینے کی جرأت پیدا کرنے میں کامیاب ہوگئے تو ہم خود کو فکری طور پر نزولِ وحی کے ان ایام میں پائیں گے جب وحی کی ضیاپاشیاں ہمارے قلب و نظر کو منور اور ہمارے ملی وجود کو طمانیت سے سرشار رکھتی تھیں۔
آگے بڑھنے سے پہلے اعترافِ حقیقت کے طور پر اور آزادانہ غورو فکر کی راہ ہموار کرنے کے لئے ہمیں یہ کہہ لینے دیجئے کہ ماضی میں اصلاحی تحریکیں اپنی تمام تر رفعتوں کے باوجود اگر اسلام کے اس نظری ماڈل کی بازیافت میں کامیاب نہ ہوسکیں یا اپنی تمام تر خواہشوں کے باوجود عہد رسول کے Spatial ماحو ل میں ان کی واپسی ممکن نہ ہوسکی تو ا سکی بنیادی وجہ یہ تھی کہ ہمارے مصلحین عہد رسول میں واپسی بطریقِ مسلکِ فقہی چاہتے تھے۔ ان میں سے کوئی بھی اس سدّتاریخ کو عبور کرنے کے لئے تیار نہ تھا جو حنفی، شافعی یا دوسرے فقہی فکر کے ارتقاء نے ان کے سامنے کھڑی کردی تھیں۔ اقبال جیسا صاحبِ بصیرت جو قرآنِ مجید کے گہرے مطالعے کی وجہ سے بلا شبہ منصبِ اجتہاد پر فائز تھا خود کو یہ کہنے پر مجبور پاتا ہے کہ وہ عادتاً حنفی ہے گویا بخاطر سہولت انہوں نے حنفیت کا دامن تھام رکھا ہے۔ کچھ یہی حال ان تمام مفسرین اور ائمہ اصلاح کا بھی ہے جو تمام عمر دین مبین کی شخصی تعبیر سے اپنا دامن چھڑانے کے باوجود خود کو کسی نہ کسی فقہی خیمے کا توسیعہ بتاتے رہے ہیں۔ جب یہ خیال عام ہوچکا ہو کہ چار فقہی مکاتب سے ماوراء اہل سنت و الجماعت کے ہاں دین مبین کی کوئی مستند تعبیر ممکن نہیں تو یہ کیسے ممکن تھا کہ اس فقہی سدّ تاریخ کو عبور کرتے ہوئے کوئی مصلح قرآن کے واقعی دائرۂ فکر میں واپسی کا ہدف حاصل کرپاتا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ رجوع الیٰ القرآن کی تمام تر تحریکیں قرآنی دائرۂ فکر میں واپسی کے بجائے متعلقہ فقہی خیموں کی توسیع اور اس کے استحکام پر منتج ہوئیں جس کی وجہ سے وحی ربانی کی اصل آب و تاب کے ساتھ بازیافت ممکن نہ ہوسکی۔
اس میں شبہ نہیں کہ فی زمانہ ماضی کے مقابلے میں تحریکِ اصلاح کے لئے کسی واقعی کامیابی کے امکانات کہیں زیادہ ہیں۔ اولاً امت کے علماء و دانشوروں پر یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ فکر و نظر کے قدیم فقہی زاویے جدید دنیا کا محاکمہ نہیں کرسکتے۔ ثانیاً تجدید و احیائے اسلام کی تحریکیں اپنی تمام تر والہانہ سرگرمیوں کے باوجود مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہی ہیں اور یہ کہ اس طرز عمل کو مزید طول دینا مستقبل میں بھی کسی کامیابی کی ضمانت نہیں بن سکتا۔ ثالثاً یہ بات اب ہر خاص و عام پر واضح ہوتی جارہی ہے کہ انٹرنیٹ کے عہد میں اب کوئی isolationist طریقۂ کار کامیاب نہیں ہوسکتا اور نہ ہی یہ ممکن ہے کہ اس سکڑتی دنیا میں کوئی بھی مذہبی گروپ صرف اپنی نجات کے لئے ارد گرد سے بے تعلق ہو کر کوئی قابل عمل طرز زندگی تشکیل دے سکے۔ رابعاً اہل فکر کے حلقوں میں یہ خیال اب رفتہ رفتہ عام ہوتا جارہا ہے کہ مسلم فکر جو مختلف تاریخی مراحل طے کرتے ہوئے مختلف شارحین کی مداخلت اور تعبیرات کے نتیجے میں موجود ہ مروجہ شکل میں سامنے آئی ہے اس میں وحی کی تجلیاں اب اس روایتی آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر نہیں ہیں۔ اس لئے مسلم فکر میں انسانی تعبیراتی عناصرکی نشاندہی اب ضروری ہوگئی ہے۔ تجربات نے ثابت کردیا ہے کہ وحی جیسے نتائج تعبیراتِ وحی سے حاصل نہیں کئے جاسکتے۔ خامساً ایک borderless world کے وجود میں آجانے سے پہلی بار یہ احساس عام ہوا ہے کہ اقوام عالم کی امامت پر فائز امت اور رحمۃ للعالمین کے متبعین آج ایک all-embracing وسعت کے بجائے اپنے دل و دماغ کو فرقہ وارانہ طرزِ فکر کا اسیر پاتے ہیں۔ ان کے ایجنڈے میں امت محمدیہ کی نجات اور اس کی فلاح و بہبود کی باتیں اتنی عام ہیں کہ غیر اقوام ان کی باتوں میں کوئی کشش محسوس نہیں کرتیں۔ گویا عرصے سے وہ مفروضہ دارالاسلام میں محصور فلاح امت کے منصوبوں میں اتنے مشغول رہے کہ رحمۃ للعالمینی کا عنصر ان کی شخصیت سے یکسر محو ہوگیا ہے۔ بے لوث پیمبرانہ صدا کی تلاش اور دکھے دلوں کی مسیحائی کے لئے عام انسانوں کی نگاہیں اب ان کی طرف نہیں اٹھتیں۔ یہ ایک ایسا قلق ہے جس کی چبھن اہل فکر مسلمان شدت سے محسوس کررہے ہیں۔ گویا ماضی کے مقابلے میں آج وحئ ربانی کی بازیافت کے امکانات پہلے سے کہیں زیادہ ہیں۔البتہ وحی ربانی کی بازیافت کے لئے کسی منہج کے تعین کے سلسلے میں ہنوز خوفناک سنّاٹا طاری ہے۔ خطرہ ہے مبادا ایسا نہ ہو کہ دائرۂ فکرِ قرآنی میں واپسی کا یہ زریں موقع بھی گنوا دیا جائے اور عالم انسانیت مزید چند صدیوں کے لئے آخری وحی کی تجلیوں سے محروم رہ جائے۔
تحریکِ تجدید و اصلاح کا مجوزہ منہج
تحریکِ اصلاح کا ہدف اسلام میں کوئی اساسی تبدیلی نہیں بلکہ ان انسانی تعبیرات کا محاکمہ ہے جو اپنے تاریخی اور مکانی تناظر کے غیاب کی وجہ سے اب فرسودہ معلوم ہوتی ہیں۔ جدید مصلحین کے دل و دماغ پر یہ بات واضح ہونی چاہئے کہ ان کا کام انسانی تعبیرات کے التباسات سے اپنا دامن بچانا ہے۔ وہ اس بات کے ہرگز سزاوار نہیں کہ نصِ قرآنی میں تغیر و تبدل کی سفارش کریں۔ ساتھ ہی ہمیں اس بات کا بھی خیال رکھنا ہوگا کہ قدیم تعبیرات، اس کی تراش و خراش اور اس کے حصار سے باہر آنے کی کوشش اگر سابقہ انداز سے ہی جاری رکھی گئی تو نئی تحریک اصلاح کے نتائج بھی ماضی کے ناکام تجربوں سے مختلف نہ ہوں گے۔ گویا نئی تحریکِ اصلاح ابتداء سے انتہا تک ایک نئے لب و لہجے اور منہج کی حامل ہوگی جس کے بارے میں وثوق کے ساتھ یہ کہا جاسکے کہ ماضی کی تمام جد و جہد کے مقابلے میں یہ کہیں ہمہ گیر اور اپنے منہج میں روحِ قرآنی سے قریب تر ہوگی۔ اس مرحلے میں جن امور کا خیال رکھنا ہوگا انہیں اجمالاً اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے۔

۱۔نئی تحریکِ اصلاح کو ابتداء سے ہی ان اصطلاحات کے استعمال میں محتاط رہنا چاہئے جن کے پیچھے ایک ثقافتی تاریخ ہے۔ مثلاً Reformation یا Enlightenment جیسے الفاظ نہ صرف عام ذہنوں میں ان کوششوں کے سلسلے میں کنفیوژن پیدا کرسکتے ہیں بلکہ خود تحریک اصلاح ان اصطلاحات کے تاریخی اور تہذیبی بوجھ سے متاثر ہوسکتی ہے۔ مغرب میں ریفارمیشن کے پیچھے چرچ کے جبرو ظلم کی جو تاریخ رہی ہے اور جس طرح عیسائیت نے انسانی عقل پر صدیوں تالے لگائے رکھنے کی کامیاب کوشش کی، جبر کی یہ صورتحال مسلم ثقافت کے بدترین ادوار میں بھی نہیں ملتی۔ احبار اسلام اور جابر حکمرانوں کے مقابلے میں اہل عزیمت کے فکری و عملی عروج کو بڑی حد تک مسلمہ اعتبار حاصل رہا ہے۔ لہذا جو لوگ آج اسلام میں کسی Luther یا Calvin کے ظہور کی تمنا کرتے ہیں وہ مسلم تاریخ سے ناواقفیت کا ثبوت دیتے ہیں۔ کچھ یہی حال Enlightenmentکی اصطلاح کا ہے جسے فی نفسہ ان معنوں میں تو قبول کیا جاسکتا ہے کہ انسانی عقل کسی چیز کو قبول کرنے سے پہلے اسے ہر طرح لازماً پرکھے البتہ مغرب کے Enlightenment کے تجربے کو شاید ہی کوئی سلیم الفکر شخص عہد جدید میں دہرانا چاہے گا۔ ایسا اس لئے کہ جیسا کہ جرمن فلاسفر Max Horkheimer اور Theodor Adorno کا کہنا ہے Enlightenment سے جہاں بہت سے فوائد حاصل ہوئے وہیں Holocaust بھی اسی تحریک کا ایک فال آؤٹ ہے۔ بقول ازایہ برلن Enlightenmentنے صرف Holocaust پیدا نہیں کیا بلکہ کمیونزم کا جبر، گلاگ بھی اسی کا منطقی نتیجہ ہے۔ بات کچھ یہیں ختم نہیں ہوجاتی۔ اٹھارہویں صدی میں عقل پرغیرمعمولی انحصار کا نتیجہ یہ نکلا کہ Jefferson ، Kant اور Hume جیسے اصحاب دانش بھی اس خیال کے اسیر ہوگئے کہ سفید فام اقوام کے مقابلے میں دوسری قومیں کم تر ہیں جنہیں تہذیب شناسی کی ضرورت ہے۔ اسی طرح Enlightenment جو ابتداء میں دانش انسانی کا نقیب بن کر سامنے آیا تھا فی الواقع سفید فام اقوام کے جبر و استیلاء کا اعلامیہ بن کر رہ گیا ہے۔ نئے مصلحین اسلام کے لئے لازم ہوگا کہ وہ Enlightenment یا Reformation جیسی value-loadedاصطلاحوں سے یکسر اجتناب کریں۔

۲۔اس میں شبہ نہیں کہ لوتھر کی تحریکِ اصلاح جس نے عیسائی دنیا کو ایک فجر جدید کا مژدہ سنایا تھا اس کا بنیادی ہدف یہ تھا کہ چرچ کے مقابلے میں scripture کو حکم کے طور پر تسلیم کیا جائے۔ اس طرح Mandate of Humansکے مقابلے میںMandate of Godکی بالا دستی یقیناًایک انقلاب انگیز خیال تھا جس سے عیسائیت کے علاوہ دوسرے مذاہب کی اصلاحی تحریکیں بھی اگر غذا حاصل کریں تو اسے تحسین کی نظر سے ہی دیکھا جانا چاہئے۔ البتہ مصلحین اسلام کے ذہن میں یہ فرق واضح رہے کہ عیسائیت میں scriptureکی جو حیثیت ہے، قرآن کا مقام اس سے کہیں اعلیٰ و ارفع ہے بلکہ سچ تو یہ ہے کہ قرآن دوسرے صحف سماوی کے معنوں میں scriptureہے ہی نہیں لہٰذا اس کی تشریح و تعبیر بانداز scriptureنہیں کی جاسکتی۔ یہاں ایک ایک لفظ متعین، معروف، محفوظ اور منزل من اللہ ہے جس میں مرتبین یا مترجمین کی دخل اندازی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

۳۔عرصے سے حکمائے اسلام نے عقل اور وحی کو ایک دوسرے کی ضد سمجھ رکھا ہے۔ یہ خیال عام ہے کہ علوم عقلیہ اور نقلیہ الگ الگ ماخذ سے غذا حاصل کرتے ہیں۔ ایک کی بناء مشاہدے اور دوسرے کی بناء وجدان پر ہے۔ مسلم متکلمین مشاہدے کے مقابلے میں وجدانی علوم کے تفوق کے قائل رہے ہیں۔ اس لئے ان کے یہاں مشاہداتی علوم کے سلسلے میں ایک طرح کی بے توقیری کا جذبہ پایا جاتا ہے۔ حالانکہ قرآن مجید، جو مسلمانوں میں وجدانی علوم کا بنیادی ماخذ ہے، تدبر و تفکر اور مشاہدے کی بھرپور وکالت کرتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ وجدان کی عمارت تعقل کی بنیادوں پر رکھی جائے۔ بھلا جو وجدان عقل کو قائل نہ کرسکے یا جو دانش انسانی کی پہنچ سے باہر ہو اسے انسانوں کے لئے مشعل راہ کیسے قرار دیا جاسکتا ہے؟ قرآ ن فی نفسہ ایک rational discourseہے جس کا اسلوب مفتیانہ یا dogmatic نہیں بلکہ reflectiveہے۔ وہ یہ نہیں چاہتا کہ خدا کی وحدانیت، انبیاء و رسل کی حقانیت اور دین کے طریقۂ نجات ہونے کو بغیر کسی rational discourseکے قبول کرلیا جائے۔ اگر ایسا مطلوب ہوتا تو کوئی وجہ نہیں تھی کہ توحید و رسالت کی بنیادی دعوت کو باسالیب مختلف ساڑھے چھ ہزار سے زائد آیتوں میں بار بار بیان کرنے کی ضرورت پیش آتی۔
انسانی عقل کی بھی یہ کیسی آزمائش ہے کہ اپنی تمام ترتنگ دامانی کے باوجود اس پر کائنات کی ماہئیت کے ادراک اور خالق کے عرفان کا فریضہ عائد کیا گیا ہے۔ انسان انسان جو ٹھہرا، وہ عرفان ذات اور عرفان حق کے مختلف مراحل میں یقیناًغلطیاں کرے گا پھر اپنی غلطیوں سے سیکھے گا بھی۔اندیشوں اور امکانات کے مابین اسے اختیار کی آزادی دے کر خدا خود یہ چاہتا ہے کہ انسانی عقل وحی سے اکتساب فیض کرتے ہوئے اپنی جولانیاں دکھائے۔ لہذا صرف اس اندیشے کے پیش نظر کہ عہدِ جدید کے مصلحین حساس امور پر زبان کھولنے میں غلطیوں کا ارتکاب کرسکتے ہیں انسانی عقل پر پابندیاں نہیں لگائی جاسکتیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ عقل و آگہی کو ایک دوسرے کی ضد سمجھنے کے بجائے ایک دوسرے کا رفیق و مددگار قرار دیاجائے۔ قدیم اسلامی تعبیرات کو ایسے منجمد عقائد (dogma)کی حیثیت سے نہ دیکھا جائے جسے negotiateنہ کیا جاسکتا ہو۔ یہ کام خاصا آسان ہوجائے گا اگر ہم اس حقیقت کو تسلیم کرلیں کہ ہمارے متقدمین جنہوں نے ماضی میں تشریح و تعبیر کا فریضہ انجام دیا ہے وہ بھی ہماری طرح انسان تھے جن سے لغزشوں اور التباسات کا صدور فطری ہے۔ ہم اس بات کے ہرگز سزاوار نہیں کہ دوسروں کے التباسات کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھائے پھریں۔ ہمارے لئے ہمارے اپنے التباسات کا بوجھ ہی کیا کم ہے۔

۴۔تقلید اور اصلاح ایک ساتھ نہیں چل سکتے اور نہ ہی تقلید اور تنویر (Enlightenment) کا اجتماع ممکن ہے۔ دانش انسانی کے استعمال میں سابقین کے تجربات سے ہم کسب فیض تو ضرور کرسکتے ہیں البتہ اس بات پر اصرار نہیں کرسکتے کہ اس عمل میں ہمارے اور ان کے نتائج یکساں ہوں۔ اگر نتائج کی یکسانیت کو ہدف قرار دے دیا جائے تو غور و فکر کا سارا سلسلہ لایعنی قرار پاتا ہے۔ البتہ ہمیں اس بات کا التزام کرنا ہوگا کہ غورو فکر کے نئے مراحل میں تقویٰ شعاری کا دامن ہمارے ہاتھوں سے نہ چھوٹنے پائے۔ قرآن مجید کے مطالعے میں دانش انسانی کے ساتھ ساتھ تقویٰ شعاری کی نگہبانی بھی لازم ہوگی۔ اوریہ بھی ممکن ہے جب ہم علوم عقلیہ اور نقلیہ کو ایک دوسر ے کا حریف تصور کرنے کے بجائے اس کے باہمی تعاون سے ایک ایسی روشنی کی تخلیق کرسکیں جسے reflective knowledgeکہا جاسکتا ہے، جو Enlightenmentکے بجائے Buddhist bodhiسے کہیں زیادہ قریب ہے۔ reflective knowledge میں نہ توdogmatic fixity یا مفتیانہ انجماد پایا جاسکتا ہے اور نہ ہی وہ بے سمتی جو Enlightenment کی لازمی منزل post-modernism سے عبارت ہے۔

۵۔ماضی میں مصلحین اسلام کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے بعض امور کو تحقیق و تجزیے سے بالاتر قرار دے رکھا تھا جس پر کسی گفتگو کا دروازہ کھولنا ممنوع سمجھا جاتا تھا۔ مثال کے طور پر اتحاد امت کے تمام علمبردار اپنے اپنے فقہی دائرۂ کار کے اندر ہی فکری و عملی سرگرمیوں کو روا سمجھتے تھے۔ ائمہ فقہا اور ائمہ محدثین کی عقل و دانش اور ان کے علمی کاموں کو منزل من اللہ کا درجہ حاصل تھا۔ بعض مصلحین مثلا شاہ ولی اللہ جیسے علماء تو اس خیال کی بھی پرزور وکالت کرتے تھے کہ مسالک اربعہ کا تعین من جانب اللہ فیصلہ ہے جس میں متقدمین کو تائید ایزدی حاصل رہی ہے۔ فی نفسہ یہ کچھ اسی قسم کی بات تھی جس کا اظہار عیسائی علماء مروجہ بائبل میں پال کی تحریروں کے سلسلے میں اسے Holy Spirit کا مرہون منت بتاتے اور اسے من جانب اللہ تصور کرتے ہیں۔ نئے مصلحین کے لیے لازم ہوگا کہ وہ آخری رسول پر آنے والی وحی کے علاوہ کسی عام انسان کے الہام یا اس کو حاصل ہونے والی مفروضہ تائید ایزدی کو قطعی اہمیت نہ دیں۔ جب تک انسانی تعبیرات اور اس کے تعمیر کردہ مسالک کی بنیادیں نہیں ہلتیں حقیقی اسلام کی طرف ہماری واپسی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔

۶۔آخری رسول کے متبعین کی حیثیت سے ہم سیادت عالم کے منصب پر فائز کئے گئے ہیں۔ اس عظیم فریضے کی ادائیگی کے لئے لازم ہے کہ ہم آفاقی طرز فکر کے حامل ہوں۔ افسوس کہ ہم صدیوں سے امت مسلمہ کے بجائے امت محمدیہ کی نفسیات میں محصور شب و روز قومِ مسلم کے عروج کے لئے فکر مند اور سرگرداں ہیں۔ ہمارے اس isolationist رویے نے ہماری نظری اور نفسیاتی ہیئتِ ترکیبی کو بری طرح مسخ کردیا ہے۔ رحمۃ للعالمین کے متبعین نہ جانے کن مفروضہ روایتوں کے زیر اثر آج اس خیال کے اسیر ہیں کہ جس رسول کو رحمۃ للعالمینی کے منصب پر فائز کیا گیا تھا وہ خود دنیا سے اس حالت میں رخصت ہوا کہ اس کی زبان پر صرف امتی امتی کا لفظ جاری تھا۔ کلمۃ سواء کی قرآنی بنیاد نئے مصلحین سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ سکڑتی دنیا میں مختلف ادیان کے مابین ہونے والے مکالمے اور مباحثے کو بھی پیمبرانہ رخ دینے کی جدو جہد کریں۔ دائرۂ امت سے باہر دنیا کو امن و سکون سے آشنا کرنے کے لیے جو کوششیں ہورہی ہیں ان سے ہم خود کو الگ نہیں رکھ سکتے۔
۷۔اب وقت آگیا ہے کہ ہم اسلام کی چودہ صدیوں پر محیط تہذیبی ورثے پر بلا خوف لومۃ لائم تنقیدی نگاہ ڈالیں۔ خدا کے کلام اور رسولؐ کی سنت کے علاوہ ہمارے لئے کوئی چیز تحلیل و تجزیے اور محاکمے سے بالاتر نہیں ہونی چاہئے۔ اس سرزمین پر کوئی ایسا مسئلہ نہیں جس پر زباں بندی کو غایتِ دین سمجھا جائے یا جسے سیکورٹی زون قرار دے کر وہاں کسی مناقشے کو داخل ہونے سے روکا جائے۔ وحئ ربانی کی روشنی میں جب تک ہم اپنی پوری تاریخ کا تنقیدی محاکمہ نہیں کرتے ہمیں اس بات کا واقعی اندازہ نہیں ہوسکتا کہ پانی مرتا کہاں ہے۔

۸۔نئے مصلحین کو اس بات کا التزام بھی کرنا ہوگا کہ وہ وحی ربانی کے مقابلے میں صدیوں کے متوارث عمل کو، خواہ اس پر مفروضہ اجماع کی مہر کیوں نہ لگ گئی ہو، از سر نو تحلیل و تجزیے کا موضوع بنائیں۔ اب یہ کہنے سے کام نہیں چلے گا کہ کسی مخصوص مسئلے پر فلاں فلاں فقہا اور ائمہ کی کتابوں میں یوں لکھا ہے یا یہ کہ فلاں مسئلہ پر امت کا اجماع ہوچکا ہے جسے از سرنو بحث کی میز پر نہیں لایا جاسکتا۔ خدا کے علاوہ انسانوں کے کسی گروہ کو اس بات کا اختیار نہیں دیا جاسکتا کہ وہ اجماع کا دھونس دے کر یا اہل حل و عقد کے حوالے سے ہمیں کسی مسئلہ پر تحلیل و تجزیے سے باز رکھے۔ یہ رویہ قرآن کے rational discourseکے خلاف ہے۔ جب اللہ تعالیٰ خود توحید کے بنیادی اعتقادات کو ہمیں عقلی استدلال کے ذریعہ باور کرانا چاہتا ہے اور جب قرآن اپنے ماننے والوں سے اس بات کا طالب ہے کہ وہ تحقیق و تجزیہ کے ذریعہ اشیا کی ماہیئت تک پہونچنے کی کوشش کریں تو پھر عام انسانوں کو یہ حق کیسے دیا جاسکتا ہے کہ وہ اکثریت کے حوالے سے یا وجدنا آباء نا کذلک یفعلونکے سہارے ہمیں کسی مسئلہ کو طے شدہ یا closed for discussion باور کرائیں۔ نئے مصلحین پر لازم ہوگا کہ وہ نصِ قرآنی یعنی شرع اور مدون شریعت جیسا کہ وہ فقہ میں جلوہ گر ہوئی ہے، کے مابین امتیاز قائم کریں۔ اگر قرآن کی طرح فقہاء کے دواوین کو بھی یکساں تقدس عطا کردیا گیا، جیسا کہ ماضی میں مصلحین کرتے رہے ہیں، تو پھر کسی نئی ابتدا کا امکان ختم ہوجائے گا۔ ایک ایسے معاشرے میں جہاں مکالمے اور مباحثے کی روایت دم توڑ چکی ہو اور جہاں صداقت dogmatic fixity سے عبارت ہو، نئے مصلحین کے لئے ایک نئے طرز فکر کی تعمیر یا ہمہ گیر discourse کی ابتدا کچھ آسان نہیں کہ ایسا کرنا بند معاشرے سے کھلے معاشرے میں داخل ہونے کے مترادف ہوگا۔ اتنی بڑی ابتدا یقیناًکچھ آسان نہیں لیکن اس کے علاوہ اب ہمارے پاس کوئی دوسرا متبادل ہے بھی نہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close