insight

اسلام، مستقبل اور مسلم قومی فکر

(یاسر محمود)

انسانی معاشرہ جب تہذیب و اخلاق، نظر یہ و اصول کے بجائے کسی غیر علمی،غیر شعوری، غیر انسانی او ر حیوانی بنیاد پر قائم ہو جاتا ہے توزندگی کے مقاصدمطلق مفادات کا حصول بن جاتے ہیں اورایسے معاشرہ کی اجتماعی فکر اور رویّہ ومزاج غیر فطری اور مستقبل مخالف ہو جاتا ہے۔

تبدیلی اور اصلاح: کسی معاشرہ، اجتماعیت اور قوم کے حالیہ یا ماضی کے کسی خاص وقت یا عہد کے کسی بھی پہلو پر گفتگو،جائزہ، تجزیہ، تحریرو تقریر اور محاکمہ یا اسکے لئے منعقدہ کانفرنس اور سیمنار کاواحد مقصود ”تبدیلی“ ہوتا ہے۔ ’تبدیلی‘ اپنی بنیادی عملی شناخت اور ایپلیکیشنز کے لحاظ سے مستقبل کیساتھ ہم آہنگی کا دوسرا نام ہے۔ ”مستقبل“ کا اشیاء کے تعلق سے مفہوم ہے؛ تبدیلی۔ جبکہ کسی شیء، حالت یا کیفیت کی ”اصلاح“ کا مطلب ہے ”اسکو مستقبل کے مطابق  (Futuristic) کردیا جانا“۔ چنانچہ تبدیلی،مستقبل اور اصلاح‘ تینوں اپنے نہج (Process)  کے لحاظ سے ایک دوسرے کے مترادف (Synonyms)  ہیں۔ کسی انسانی معاشرہ، اجتماعیت یا قوم میں ”تبدیلی“ کوئی خارجی یا خود کار شیء ہے اور نا ہی کوئی متعینہ اشیاء یا حدود ہیں کہ انکا آغاز کردیا جائے یا انکو لایا جائے تو اجتماعی، معاشرتی یا قومی تبدیلی آجائیگی۔ بلکہ مسلسل ارتقاء پذیر انسانی حیات میں تبدیلی ایک  "RESPOND” ہے۔ یعنی ”تبدیلی“ اُسکے خواہشمند اور اسکا داعیہ رکھنے والے زندہ معاشرہ اور اجتماعیت کے مسلسل فطری طور پر ووقوع پذیر سماجی، سیاسی، تمدنی قومی و مذہبی واقعات و سانحات  (Clashes & Events) کے تعلق سے منفی، قومی، سلبی و غیر فطری کے بجائے مثبت، اصولی، فطری اور تخلیقی و ارتقائی رویّہ و موقف اپنانے (Respond)  کا نام ہے۔ کسی بھی دَور کی انسانی تاریخ میں قوموں کے عروج و زوال اور مختلف اجتماعیتوں میں ”تبدیلی“ کا مطالعہ کیا جائے تو ایسے تبدیلی کا سبب بننے والے اور اپنے منفی، سلبی، قومی و غیر فطری افکار و رویّوں کے از سرِ نَو جائزہ اور محاکمہ کے طالب واقعات و سانحات انسانی معاشرہ میں فطری طور پر ہر وقت پیدا (Inact) ہوتے رہتے ہیں جو اس معاشرہ کو اس بات کا نہ صرف موقع فراہم کرتے ہیں بلکہ تکثیری معاشرتی ماحول میں اسکا مطالبہ کرتے ہیں کہ اس معاشرہ کے افراد اپنے منفی، غیر اصولی یاقومی، سلبی و غیر فطری افکار، رویّہ اور مزاج کا از سرِ نَو جائزہ لیں اور فطری طور پر مسلسل ہمہ دم و ہمہ جہت ارتقاء پذیر عام انسانی معاشرت میں رکاوٹ یا عارضہ (Counterproductive)   بننے کے بجائے اپنے افکار، رویّہ اور مزاج کو اس مستقبل کی جانب گامزن انسانی معاشرت کیساتھ ہم آہنگ کرکے تبدیلی کا حصہ بنیں۔ یعنی انسانی معاشرہ میں فطری طور پر تبدیلی کیلئے ہر آن اسباب اور سازگار ماحول بنتا رہتا ہے جبکہ تبدیلی اصول پسند اور اصولوں پر قائم زندہ معاشروں کے اصولی، مثبت، فطری، تخلیقی و ارتقائی موقف اختیار کرنے کے سبب فطری طور پر انکے اندر ہر وقت آتی رہتی ہے۔ چنانچہ ”تبدیلی“ نام ہے ”واقعات و سانحات کے تعلق سے مخصوص (اصولی، مثبت، فطری، تخلیقی و ارتقائی)رویہ و موقف اختیار کرنے کا“ (الرعد:۱۱)۔ لہذا تبدیلی بذات خود لائی نہیں جاتی بلکہ وہ فطری طور پر ہر وقت اور ہر زمانہ میں آتی رہتی ہے اور آرہی ہے۔ تبدیلی کے خواہشمند معاشروں و قوموں کو اسے کاؤنٹر کرنے کے بجائے خود کو اس سے ہم آہنگ  (Accommodate) کرکے اسے قبول  (Adopt) کرنا ہوتا ہے۔یعنی اگر کسی قوم و معاشرہ میں تبدیلی درکار ہے تو معاشرتی، تمدنی، قومی، سیاسی و مذہبی چھوٹے بڑے ہر قسم کے سانحات و و اقعات کے تعلق سے اس کے افراد کے رویّہ، موقف اور ذہن کو بدلنا اور انہیں قومی و غیر فطری سے مکمل اصولی و فطری بنانا ہوگا۔

مسلم قومی فکر:  کسی انسانی تمدنی معاشرہ کی موجودہ اجتماعی مثبت یا منفی،سلبی یا فطری فکر، رویّہ اور مزاج اس کے کسی مخصوص نظر یہ حیات سے روایتی وابستگی کا نتیجہ ہوتا ہے۔ چنانچہ جو لوگ بہتر انسانی مستقبل کیلئے موجودہ انسانی معاشرہ میں جاری کسی بھی بین الملل (Inter Communities)،بین تکثیری معاشرتی (Inter Religious Society) یاکسی مذہب کے قومی (Inter Sects) خوفنا ک سانحات و حادثات (Clashes) اورحیوانی نوعیت کے اجتماعی مسائل اور اسکے تسلسل سے متفکر‘ اور اس رویہ کے باقی رہتے ہوئے انسانی معاشرہ کے خوفناک غیر فطری مستقبل کے تصور سے بھی خوفزدہ ہیں اور تبدیلی کے خواہشمند ہیں‘ تو انہیں اس کے اسباب و توجیہات کی تلاش کسی قومی، علاقائی،ثقافتی، گروہی اور لسانی عصبیت یا شناخت کے بجائے انسانی اصول اور علم کی بنیاد پر کرنی چاہئے۔بصورت دیگریہ تمام کوششیں نتیجۃً مذکورہ قسم کے مسائل کے حل کے بجائے اسکی بقا کی ضامن بن جائینگی۔ہمارے اپنے اور دیگر اقوام کے یکساں وقوع پذیر سانحات کے تعلق سے دو مختلف پیمانے اور موقف اختیار کرنے کی ایسی دورخی یا قومی پالیسی دیگر اقوام میں تیزی سے جاری اصلاح کی فطری کوششوں اور اسکے لئے بر سر کار افرادبرادران وطن کو بھی منجمد کر دیگی اور عین ممکن ہے انکے داخلی منفی و غیر فطری مسائل کی ایسی خارجی قومی مخالفت انہیں انکے غیر شعوری و غیر فطری زیرِ اصلاح رویّوں کا قومی دفاع کرنے پر مجبور کردے اور انکا حامی و محافظ بنا دے ۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب اکیسویں صدی میں انسانی معاشرت فطری طور پر اجتماعی فکری، طبعی، رویہ و مزاج، جسمانی،سماجی، تہذیبی، تمدنی، قانونی، علمی و ادارہ جاتی اور سیاسی ہر اعتبار سے خود تغیّرپذیر ہے اور سرعت کیساتھ حتمی تبدیلی کیطرف بڑھرہی ہے‘تو ایسے تبدیلی کے حالات میں جہاں دیگر قوموں کا رویہ تبدیلی کے عین مناسب و موافق اور مستقبل میں تبدیل شدہ ماحول یا اسکی کی جارہی کوششوں سے کافی حد تک ہم آہنگ ہے تو مسلم قوم کا رویہ اسکے بر عکس ہے اور تبدیلی کی طرف گامزن ماحول میں متحرک ہو کر اپنی ذمہ داریاں انجام دینے کے بجائے اگر کوئی مسلمان متحرک ہے تو جیسا کہ عرض کیا گیاوہ تیزی کیساتھ فطری طور پر پیدا ہورہے ہمارے قومی اجتماعی رویہ و فکر کے از سر نَو جائزہ‘ور اس پر اصولی و آزاد غوروفکر کے طالب سانحات و و اقعات کے تعلق سے قومی یا گرو ہی بنیاد پر مخالفانہ رویہ اپنانے کے سبب  Counterproductiveہے۔ جبکہ باقی ماندہ قوم ٹکٹکی باندھے اس طرح کھڑی ہے جیسے یہ حالات اس کیلئے اجنبی ہیں اور اسکی ذہنی سطح یا مذہبی رویہ تبدیلی کی طرف گامزن کسی معاشرت سے قطعی ہم آہنگی نہیں رکھتا۔ چنانچہ اس طرح کی تبدیلی میں کوئی تعمیری لائحہ عمل متعین کر کر اس کا حصہ بننے یا متحرک ہونے اور اسے انجام تک پہنچانے کیلئے آگے بڑھانے کا تو تصور ہی کیا۔   حقیقت یہ ہے کہ اگر کوئی قوم حالات حاضرہ  (Current Affairs)اوراصلاح و تبدیلی کی عام انسانی کوششوں سے صرف نظر کر کر انفرادی وقومی تشخص کے مرض میں مبتلا ہو جاتی ہے تو اس کا پہلا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ عامل  (Active)کے بجائے معمول  (Passive) بن جاتی ہے۔ پھر منطقی طور پر قیادت کو اپنے اندر سے پیدا کرنے کے بجائے اعلی سے ادنی سطح تک خود ساختہ قیادت کی نرسری بن جاتی ہے۔ جبکہ دوسرا نتیجہ یہ ہوتا ہیکہ حقائق کا اعتراف کرنے کے بجائے وہ قوم ایک قسم کی قومی خوش فہمی کے مہلک مرض میں مبتلا ہو جاتی ہے۔ چنانچہ اگر کوئی سانحہ اس کے اندر پیش آئے تو اس کا رویہ اسکے تعلق سے کلی صرف نظر اور اغماض کا ہوتا ہے جبکہ وہی یا نوعیت کے اعتبار سے اس سے کمتر سانحہ مخالف قوم کے اندر پیش آئے تو وہ اسکوبھی اپنے قومی فخرو امتیاز کے پروپیگنڈا اور اظہار کا ذریعہ بنا کر مبینہ  ( Claimed) مخالف قوم کو بھی اسکے انسداد کے بجائے اسکی پردہ پوشی پر مجبور کر دیتی ہے۔ چنانچہ وہ حال میں رہتے ہوئے مستقبل کی طرف پیش قدم قوم کے بجائے ماضی کی باقی ماندہ حال میں ایک قوم بن جاتی ہے۔ جسکا منطقی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ مستقبل کی منصوبہ بندی یا و قوع پذیر حال کے واقعات میں کوئی تعمیری راہ عمل اور منصوبہ متعین کرنے کے بجائے مطلق ماضی پر فخر کرنے لگتی ہے اور اسی کی عادی ہو جاتی ہے۔ اور اپنے اس مہلک رویہ پراز سر نو غور کرنے کے بجائے ماضی وابستہ ہو کر اپنی مستقبل بینی کی عدم صلاحیت و حرکیت کو بھی ماضی کے قومی طور پر قابل فخر اور جار حانہ کارناموں میں چھپانے کی کوشش کرنے لگتی ہے۔ اس طرح اسکی طبیعت بیک وقت متضاد رویّوں کی شاہکار بن جاتی ہے۔ چنانچہ وہ مبینہ قومی مخالف دیگر اقوام کی ترقیات اور انسانیت کیلئے منفعت بخش کارناموں کے تار بھی تاویلات کی جسارتوں سے خود سے جوڑنے لگتی ہے۔ جبکہ حیرت انگیز طور پر اس کے بر عکس ان مبینہ مخالف اقوام پر کسی فطری، ماحولیاتی یا عسکری باہمی مسائل و مصائب کو انکے سائنٹفک اسباب و توجیہات کی موجود گی کے باوجود انکے اپنے ساتھ مخصوص قومی مخالفانہ رویہ کا نتیجہ اور عذاب قرار دیکر بڑی فنکاری کیساتھ اس کے تار بھی خود سے جو ڑ لیتی ہے۔ اس طرح پوری مسلم قوم فطری طور پر مستقبل کی طرف تیزی سے گامزن انسانی معاشرت کے اندر ایک معطل، عارضی اور تعبیری قومی معاشرتی زندگی گزارنے لگتی ہے۔ چنانچہ آج اگر مسلم کانفرنسیں، عوامی اجتماعات، جلسے، مظاہرے،مضامین اورادارے……..کسی بھی چیز کا سَروے کریں تو جو بات ہر جگہ مشترک نظر آئیگی وہ مستقبل کی کسی بھی فکر، منصوبہ بندی اور لائحہ عمل کی ترتیب کے بجائے ماضی پر فخر کیلئے لفّاظیاں، مبالغہ آرا ئیاں اوراسا طیری انداز کی افسا نہ طراز یاں ہی نظر آئینگی۔ جبکہ ماضی کی اپنی غلطیوں سے کلی صرف نظر اور اسکے برعکس دیگر قوموں کی متعینہ غلطیوں ہی کا بیان اور لفّاظیاں۔ ایسے تمام اجتماعات، کانفرنسیں اور تحریریں و تقریریں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ وہ قوم مستقبل کے تعلق سے کسی بھی تبدیلی کی جاری کوشش میں بجائے خود معطل ہے جسکے افراد کا اکثر حصہ اجنبیت کے احساس کے ساتھ خاموش اور مجر مانہ حد تک غیر متحرک ہے۔ اور اگر بہت زیادہ اعلی سطح کا مطالعہ کریں تو اس نتیجہ پر پہنچینگے کہ وہ بہتر مستقبل کیلئے تبدیلی کی جاری کو ششوں کے تعلق سے اپنی مستقبل مخالف قومی فکر کا جائزہ لینے اور مستقبل کے تعلق سے تعمیری اور ٹھوس رویہ اپنانے کے بجائے منفی اور متعدی سلبی رویہ اپنائے ہوئے ہیں اور اپنی مستقبل کی منصوبہ بندی سے لا علمی، عدم صلاحیت حتی کے اجنبیت کو قومی مخالفانہ رویہ میں چھپانے کی شتر مرغ کے ریت میں سر چھپانے کی طرح کوشش کرتے ہیں یا انکا رویہ”انگور کھٹے ہیں“ کی عملی تصویر ہوگا۔ اس کے بھی دو پہلو ہیں؛ ایک تومستقبل کے تعلق سے کسی بھی تبدیلی کی جاری کوشش میں عدم شرکت کو قومی بنیاد پر عملا حرام اور ممنوع کا رویہ اپنا یا جائیگا۔ دوسرے ایسی مستقبل کیلئے ہر انسانی کوشش کو اصولا حرام اور غیر اسلامی قرار دیدیا جائیگا۔ اور اگراپنے ہی اندر کہیں سے مستقبل کی کوئی غیر علمی یا جذباتی صدا یا اسکا مطالبہ بلند بھی ہوتا ہے تو اس کے خاکوں میں رنگ بھرنے یا رُخ دینے کے بجائے اس کو خدائی وعدہ سے جوڑ کر غیر فطری وغیر اسلامی اور غیر انسانی”قومی غلبہ“ کا خیالی و مذہبی مفروضہ تصور پیش کر دیا جائیگا۔ اپنی مستقبل مخالف فکر، کم علمی اور مستقبل بینی و مستقبل بندی کی ادارہ جاتی اور فطری و ذہنی اور نفسیاتی کوششوں میں عدم صلاحیت کا اعتراف ہرگز نہیں کیا جائیگا۔ اسطرح مسلم معاشرت  ’امت وسط‘ یعنی ایک ایسا محرّک جو فطری بنیادوں پر انسانی معاشرہ کو تغیر پذیر اور متحرک بنائے(البقرۃ: ۳۴۱) سے تبدیل ہوکر  ’متصادم قوم‘ یعنی جو عصبی و تصلّبی بنیادوں پر انسانی معاشرہ کومنجمدو معطل رکھے(البقرۃ:۱۹،  ۱۷۱۔۰۷۱، ۵۳۱، الزخرف: ۴۲۔۳۲) بنکر اپنی حیویت کے لحاظ سے عربی قوم یا ایرانی قوم یا دیگر جغرافیائی جسد کی شکل اختیار کر گئی ہے۔چنانچہ اسکی تمام انفرادی و اجتماعی حرکات و اعمال اسکی مقامی ضرورت و افادیت کے بجائے outsource ہوکر اسے معاشرہ میں مقامی ہوتے ہوے اجنبی بنائے ہوئے ہیں۔اسطرح مسلم قوم غیر مقامی مقاصد کیلئے غیر محسوس طویل مدتی آلہ کار بنکر مقامی معاشرہ میں اپنی شناخت اور وجود کھوکرناقابل برداشت اور  ہوگئی ہے جبکہ تمدنی طور پر غیر ضروری بلکہ مضر۔    Non Adjustable

                                 مسلم قومی فکر، قیادت اور مستقبل:  مسلم قوم کیمذکورہ فکر اور رویّہ طویل عرصہ تک غیر فطری قیادت کے زیرِ سایہ رہنے کی وجہ سے کسی ایک عہد میں ناقابلِ اصلاح بن گیا ہے جبکہ تبدیلی و اصلاح کا آخری راستہ صرف یہی باقی رہگیا ہے کہ مسلم قوم کے اندر تبدیلی کیلئے  outsourcing کی جائے یا ’تبدیلی‘ کو  import کیا جائے……چنانچہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر کسی قوم کی قیادت کیا ہے؟ دنیا میں کسی اجتماعیت کی دو طرح کی قیادت ہوتی ہے:                   1. Physical, Timed or Periodic Leadership                    2. Natural, Principled & Timeless or Period-Independent Leadership الف: پہلی قسم    [Physical Timed…]کی قیادت فطری و منطقی طور پر ہمیشہ انفرادی لحاظ سے ’انسانی ذہنی ارتقاء مخالف‘     (Anti-Human Mind)  ہوتی ہے۔ اور انفرادی لحاظ سے فطری ذہنی ارتقاء مخالف ہونے کی وجہ سے اجتماعی یا معاشرتی لحاظ سے’’ماضی وابستہ، آباء پرست اور مستقبل مخالف“    (Past Attached) ہوتی ہے۔اب چونکہ اصلاح کا تعلق نہ صرف یہ کہ مستقبل سے ہے بلکہ ’اصلاح‘ اور ’مستقبل‘ ایک دوسرے کے مترادف ہیں اسلئے قیادت کی یہ پہلی قسم کسی اجتماعیت اور قوم کیلئے اصلاح مخالف  (Anti-Reformation)، اجتماعی ارتقاء مخالف  (Anti-Future)، تبدیلی مخالف   (Anti-Updation) ہوتی ہے۔(الزخرف: ۴۲۔۳۲،البقرۃ:۱۷۱۔۰۷۱)ب: جبکہ دوسری قسم       Natural, Principled & Timeless or Period-Independent Leadershipکی قیادت فطری و منطقی طور پر ہمیشہ انفرادی لحاظ سے انسانی ذہنی ارتقاء کا ”خود کار ضامن“ ہوتی ہے۔ اور فطری ذہنی ارتقاء کیلئے خود کار ضامن ہونے کی وجہ سے اجتماعی یا معاشرتی لحاظ سے ”مستقبل وابستہ“ (Futuristic/Growing Towards the Future) ہوتی ہے۔ اب چونکہ ”اصلاح“ کا تعلق نہ صرف یہ کہ مستقبل سے ہے بلکہ ’اصلاح‘او’ر مستقبل‘ایک دوسرے کے مترادف ہیں اسلئے قیادت کی یہ دوسری قسم کسی اجتماعیت و قوم کیلئے ”اصلاح لازمی“  (Reformation Producer) و ”اصلاح منتَج“ (Reformation-Oriented)، ”اجتماعی ارتقاء لازمی“   (Futuristic/Towards the Future) و ”اجتماعی ارتقاء منتَج“ (Future-Orinted) ، ”تبدیلی لازمی“(Updating Producer) ،”تبدیلی منتَج“(Updating-Oriented)   ہوتی ہے۔ چنانچہ قیادت کی پہلی قسم      Physical Timed or Periodic Leadership  واقعاتی و بنیادی طور پر اور کسی اجتماعیت پر اپنے طویل المدت اثرات کے لحاظ سے ”سلبی“ (Entirely Passive)  ہے۔ یعنی ایسی قیادت کے زیرِاثر کوئی بھی اجتماعیت انفرادی،فکری، علمی، نفسیاتی، ذہنی، رویہ جاتی اور معاشرتی، سیاسی، عالمی…… ہر لحاظ سے ”سلبی“     (Passive Individuality,Passive Mind, Passive Psych, Passive Behaviour, Passive Knowledge, Passivity of Scientific Knowledges…..)  ہوگی۔(الزخرف: ۴۲۔۳۲،البقرۃ:۱۷۱۔۰۷۱) جبکہ قیادت کی دوسری قسم        Natural, Principled & Timeless or Period-Independent Leadership  واقعاتی و بنیادی طور پر اور کسی اجتماعیت پر اپنے طویل المدت اثرات کے لحاظ سے ”محرِّک“  (Active/Creative) ہے۔ یعنی ایسی قیادت کے زیرِ اثر کوئی بھی اجتماعیت انفرادی،فکری، علمی، نفسیاتی، ذہنی، رویہ جاتی، اور معاشرتی، سیاسی، عالمی…… ہر لحاظ سے ”محرّک“ یا کم از کم ”متحرّک“    (Active/Creative Individuality, Active/Creative Mind, Active/Creative Psych, Active/Creative Behaviour, Active/Creative Society, Active/Creative Knowledge, Creativity of Scientific Knowledges…)  ہوگی۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ”اسلام__ ایک نظریہ‘ نا کہ کسی’شخص‘ کی برپا کردہ کوئی قوم“ نے مستقبل میں اپنی نظریاتی بقاء کیلئے قیادت کا پہلی قسم کا شاکلہ (Diagram)  مقرّر  (Design) کیا ہے یا دوسری قسم کا؟ ظاہر ہے اگر اسلام ”ایک اصولی نظریہ“ کے بجائے ”کسی شخص اور اسکی برپا کردہ قوم“ کا نام ہے تو یقینََا اسلام نے ”مستقبل میں قومی بقا“(Communal Survival)  کیلئے پہلی قسم   Physical, Timed or Periodic Leadership کو ہی قیادت کا شاکلہ (Diagram)  مقرّر(Design)  کیا ہوگا۔ اور اگراسلام ”ایک نظریہ و اصول“ کا نام ہے تو اس نے فطری و منطقی طور پر یقینََا ”مستقبل میں نظریاتی و اصولی بقا“ کیلئے دوسری قسم    Natural, Principled & Timeless or Period-Independent Leadership   کو ہی قیادت کا شاکلہ مقرّر اور  Design  کا ہوگا۔ موجودہ اسلام ”کسی شخص اور اسکی برپا کردہ ایک قوم“ یا ”کوئی جغرافیائی و علاقائی ثقافت“ ہوسکتا ہے جیسا کہ آج مسلم قوم میں اسی طرح کی قومی و علاقائی یا ثقافتی قیادت اور اسکا شاکلہ پوری طرح پہلی قسم[Physical Timed…]   کا قائم، مسلّط اور رائج ہے اور مسلمان دنیا کے مختلف علاقوں میں ”کسی نظریاتی و اصولی اجتماعیت“ کے بجائے ایک ”جغرافیائی عربی/ ایرانی ثقافتی قوم“ ہیں۔جبکہ حقیقی قرآنی اسلام ”نظریہ و اصول“ کا نام ہے جیسا کہ خود قرآن کسی ”قومی یا جغرافیائی عربی/ ایرانی ثقافتی ترجمان“ کے بجائے”اصولی، اصولوں پر مبنی اور اصول عطا کرنے والی کتاب“ ہے۔ لہذا حقیقی و قرآنی اسلام نے ”مستقبل میں نظریاتی و اصولی بقا“ کیلئے قیادت کا جو شاکلہ مقرّر کیا ہے وہ دوسری قسم   [Natural, Principled…]  کا شاکلہ ہی ہے۔اور اسکا شاکلہ پوری طرح پہلی قسم[Physical Timed…]   کا قائم، مسلّط اور رائج ہے اور مسلمان دنیا کے مختلف علاقوں میں ”کسی نظریاتی و اصولی اجتماعیت“ کے بجائے ایک ”جغرافیائی عربی/ ایرانی ثقافتی قوم“ ہیں۔جبکہ حقیقی قرآنی اسلام ”نظریہ و اصول“ کا نام ہے جیسا کہ خود قرآن کسی ”قومی یا جغرافیائی عربی/ ایرانی ثقافتی ترجمان“ کے بجائے”اصولی، اصولوں پر مبنی اور اصول عطا کرنے والی کتاب“ ہے۔ لہذا حقیقی و قرآنی اسلام نے ”مستقبل میں نظریاتی و اصولی بقا“ کیلئے قیادت کا جو شاکلہ مقرّر کیا ہے وہ دوسری قسم   [Natural, Principled…]  کا شاکلہ ہی ہے۔ چنانچہ اسلام (ایک نظریہ و اصول) کے پیغمبر نے اس دارِ فانی و مادّہ کے مسکن سے تشریف لے جاتے وقت اپنی آخری وصیت کی شکل میں ”مستقبل میں نظریاتی و اصولی بقا_ یا _ نظریہ و اصول کی بقا“کیلئے آخری قانون جاری کرتے ہوئے جو ”قیادت کا شاکلہ“ Design  کیا وہ دوسری قسم Natural, Principled & Timeless or Period-Independent Leadership  کا ہی شاکلہ تھا: ”ترکت فیکم امرین‘ لن  تضلو ا ما تمسکتم بھما؛ کتاب اللہ(Act) و سنت نبیہ(Procedure)“  (موطأ امام مالک) اسطرح سے اسلام (ایک نظریہ و اصول) کی ”مستقبل میں نظریاتی و اصولی بقا“ کیلئے قیادت کے تعلق سے اسکو: (۱) ادارتی قیادت   (Institutional Leadership) نہ بناکر بلکہ ساتھ ہی ساتھ اسکا سدِّ باب کرتے ہوئے (۲) قیادت کیلئے اصولی و نظریاتی شاکلہ design کیا گیا اور کسی بھی ادارتی قیادت   (Institutional Leadership) مذہبی شخصیات، مذہبی ادارے، فرقہ و مسلک، گروہ و جماعت، علاقہ، ملک، ثقافت اور قوم‘ یعنی قیادت کی پہلی قسم Physical, Timed or Periodic Leadership  کو ہرگز  Final Authority نہیں قرار دیا گیا بلکہ قیادت کی دوسری قسم: (۱) ”کتاب اللہ“ (اصولی، اصولوں پر مبنی و اصول عطا کرنے والی کتاب)(۲) ”والسنّۃ“ (پہلے   Act کتاب اللہ کا Procedure )  یعنی Natural, Principled & Timeless or Period-Independent Leadershipکو ہی اصلی ”مرئی قیادت“   (Visible Leadership)   قرار دیکر پہلی قسم کی قیادت  [Physical, Timed…] کو دوسری قسم  [Natural, Principled…]  یعنی ”کتاب اللہ والسنّۃ“ کا ضدِّ مخالف (Anti-Quran and Sunnah/Anti-Act and Procedure)  قرار دیا گیا اور اُسکو اسطرح قائم و مستحکم کیا گیا:Natural, Principled & Timeless or Period-Independent Leadershipv/sPhysical, Timed or Periodic Leadership سوال پیدا ہوتا ہے کہ مسلم امّہ کی موجودہ صورتحال پر نظر ثانی اور اپنے وسیع تر مفہوم میں اسکی اصلاح کیلئے روایتی طرز فکر کا محاکمہ اور حتمی حل  (Rethinking and Traditional Solutions) کیلئے ضروری مذکورہ دوسری قسم کی قیادت کے شاکلہ کی عملی شکل کیا ہوگی؟ اور اسکی  applications کے واقعاتی امکانات کیاہیں؟ یقینََاقیادت کی دوسری قسم   [Natural, Principled…] کو عملی شکل انسان ہی(بحیثیت جنس) دیگا۔ مگر اسطور پر کہ قیادت کا شاکلہ (Diagram) جو دوسری قسم کا مقرّر ہے‘ غیر محسوس طریقہ سے کسی بھی جغرافیائی ثقافت، ثقافتی کشمکش، علاقائی و معاشی تحفظات، خارجی ضرورت، وقتی تدبیر، عہد کے سانحات اور علاقائی پالیسی(Geostrategy)کی وجہ سے پہلی قسم   [Physical, Timed…] کی شکل نہ اختیار کرجائے یعنی ”مؤقّتیت“ کے نہج (Process) پر نہیں۔ ورنہ اسکے نتائج یہی ہونگے کہ قیادت اور قیادت کا شاکلہ غیر محسوس طریقہ سے دھیرے دھیرے پہلی قسم   [Physical, Timed…] ہی جاری و ساری ہوجائیگا (جیسا کہ تاریخ میں مذکورہ وجوہات کے تحت ہوا) جسکے نتیجہ میں  اسلام کی برپا کردہ ”امّہ“ (ایک نظریاتی و اصولی ترقی پذیر/ اصلاح پذیر‘ پوری طرح مستقبل وابستہ اور فطری بنیادوں پر قائم اجتماعیت) سے انتہائی سرعت کیساتھ تبدیل ہوکر محض ایک ”قوم“ (کسی بھی طرح کے اصولوں سے آزاد، آباء پرستی پر قائم اور فِرق و احزاب پر مشتمل ایک غیر فطری گروہ)بن جائیگی، اور پوری طرح اصول مخالف، فطرت مخالف   (inflexibility) اور نظریہ و شعور مخالف   (Anti-Rationalism) یعنی قرآن کے الفاظ میں ”صم بکم عمی“ہوکر ایک ایسی صورتحال میں پہنچ جائیگی کہ جہاں سے واپسی ممکن نہیں ”فھم لا یرجعون“ (البقرۃ: ۸۱) اور تاریخ میں ناممکن ہی رہی ہے۔ بلکہ قرآن میں قیادت کی پہلی قسم[Physical, Timed…] کے زیرِ سایہ پروردہ قوم کو اسکے پوری طرح عقل، شعور، اصول و نظریہ مخالف  (Anti-Rationalism) ہونے کی وجہ سے انہیں ”انعام“ (چوپائے) تک کہاگیا (الفرقان: ۴۴)۔ یہی کیفیت قرآن کی نگاہ میں آج مسلم قوم کی ہے۔درخت اپنے ثمر سے متعارف ہوتا ہے یا عربی کا مقولہ ”الناس علی دین ملوکہم“ کے تحت آج مسلم قوم پوری طرح پہلی قسم   [Physical, Timed…] کی قیادت کا شاکلہ میں بدل گئی ہے۔ جسکو قرآن نے اسطرح بیان کیا ہے:”وان ھذہ امتکم امۃ واحدۃ……کل حزب بما لدیھم فرحون“  (المؤمنون: ۳۵) یعنی ”یہ نظریاتی بنیادوں پر قائم یکتا اجتماعیت ہے(تھی) ……پھر انہوں نے اپنے اَمر پر قائم و مستحکم رہنے کے بجائے اسے ٹکڑے ٹکڑے‘فرقے کاٹ لیا اور اب ہر فرقہ، ہر گروہ، ہرپارٹی جو اُسکے پاس ہے، جو اُسکا رویہ ہے،جو اُسکے فرقہ و گروہ میں چلا آرہا ہے، جس پر اسکے اکابرین و سابقین ماضی سے چلے آرہے ہیں ……وہ اُسی پر مگن ہے،فخر کررہا ہے، اِترا رہا ہے کہ بس میں، میرا چلا آرہا فرقہ، میرے چلے آرہے اکابر اور انکا طریق، میرا چلا آرہاگروہ، میرے ہی فرقہ و گروہ اور جماعت کے بانی اور اُنکے تیار کردہ اور چلے آرہے افکار و نظریات ہی صحیح، برحق  اور جنّتی ہیں باقی سب گمراہ، کفرو الحاد اور جہنمی ہیں“۔ یہ ساری صورتحال اتنی آسان نہیں ہے جتنا اسے سمجھ لیا گیا ہے اور نا ہی اتنی کم اہم۔ یہ سب آخر ہے کیا؟ اور کیوں ہے؟ کیسے شروع ہوا؟ اور صدیوں سے کیوں ختم نہیں ہوتا؟ کونسے ایسے عناصر (Factors) ہیں جنکے رہتے ختم نہیں ہوسکتا؟ حقیقت یہ ہے جیسا کہ بیان کیا گیا کہ یہ صرف اور صرف قیادت اور اسکے شاکلہ کی پہلی قسم Physical Timed or Periodic Leadership  کے رائج ہوجانے اور ضرورت بن جانے کی وجہ سے ہے اور اسی کا نتیجہ ہے۔ جسکے اجزائے ترکیبی کچھ اسطرح ہیں:   (۱) آباء پرستی     Passivity and Passive Process)  (۳) مستقبل مخالف  (Inflexible/Unnatural)   (۶) مؤقّتیت      (Periodic/Timed) (الزخرف: ۴۲۔۳۲، البقرۃ: ۱۷۱۔۰۷۱،البقرۃ: ۱۹، المؤمنون: ۳۵، الفرقان: ۴۴، البقرۃ:۸۱، ۵۳۱)    یہی آج مسلم قومی فکر، رویہ اور نفسیات کی مواصفات (Specifications) ہیں اوریہی قیادت کی پہلی قسم کے اوصاف و محمولات ہیں۔ لہذا مسلم فکر ی بحران، اسکا جائزہ، تجزیہ اور روایتی طرز فکر کا محاکمہ  (Intellectual Crises of Muslim Ummah; Rethinking Traditional Solutions)‘ قیادت کی دونوں اقسام پر مختلف الابعاد   (Multi Dimensional)بحث اور دوسری قسم کی قیادت کے شاکلہ کے از سرِ نَو احیا کے بغیر ممکن نہیں۔یہاں پر چونکہ اس بحث کو خالص اصولی انداز سے پیش کیاگیا ہے اسلئے یہ اہلِ علم کی خدمت میں تحقیق کی غرض سے پیش کردیا گیا جبکہ اسکا انظباق ماضی اور حال پر اسطور پر کرناکہ ہر دور کا علمی و اصولی تقابلی جائزہ ”قیادت کی بدلتی صورتحال: اسباب و علل“ کے عنوان سے واقعاتی طور پر سامنے آجائے اور حال کی مسلم قوم کی اصولی، علمی، ذہنی، نفسیاتی، رویہ جاتی، انفرادی اور اجتماعی مواصفات (Specifications) اور ان میں اہلیت و مہارت کو متعین (Specified)کرنا اور انسانی مستقبل کاتعین کرنا کہ وہ ذہنی، علمی، نفسیاتی، رویہ جاتی،ادارہ جاتی، تخصصاتی ……اعتبار سے انفرادی و اجتماعی ہر دوسطح پر کیسا ہوگا اور اسکی الگ الگ مواصفات   (Specifications) تیار کرنااور پھر اُن سے مسلم قوم کی مذکورہ سطحوں کی مواصفات کا مستقبل کو پیمانہ بناکرتقابلی جائزہ لینا اور پھر جوبھی نتائج برآمد ہوں انکو زمینی حقائق تسلیم کرتے ہوئے پوری جرأت و حوصلہ کیساتھ انکو قبول کرنا، حقائق کا اعتراف کرنا اور ہر طرح کی خوش فہمی کو نکال باہر کرنا____مستقبل کی طرف ایک بنیادی، فطری، منطقی، نتیجہ خیز   (Result Oriented)  یعنی FUTURISTIC اقدامی کارروائی ہوگی۔یہی مسلم قوم کی حقیقی ”توبہ“ ہوگی

۔ماضی اور توبہ

توبہ: آپ ایک سڑک پر جارہے ہیں، راستہ میں ایک دوراہا آیااور وہاں سے آپ ایک سمت مڑ گئے، لیکن چند قدم آگے جاکر آپکو احساس ہوا کہ آپ غلط سِمت میں چل پڑے ہیں، تو ایسے وقت میں آپکو صحیح راستہ پر جانے کیلئے واپس مڑکر اسی مقام پر آنا ہوگاجہاں سے آپ غلط راستہ کی طرف مڑ گئے تھے اور پھر اسی مقام سے اپناسفر درست سمت کی طرف شروع کرنا پڑیگا۔ واپسی کے اسی عمل کو توبہ کہا جاتا ہے۔ لیکن اگر غلطی کا احساس ہونے پر بھی وہیں کھڑے استغفر اللہ‘ پڑھنا شروع کردیں یا پوری جرأت و حوصلہ کیساتھ زمینی حقائق کا اعتراف کرنے کے بجائے اپنی مفروضہ ساکھ کی خاطر تاویلات کے سہارے اپنی موجودہ سمت کو ہی درست ثابت کرکے خوش فہمی کو راستہ دیں‘ تو آپکی ”توبہ“ قبول نہیں ہوسکتی یعنی آپ اپنی منزل پر نہیں پہنچ سکتے۔ بحیثیت قوم ہمارے قدم کس مقام پر بالکل ہی غلط سمت میں اٹھے تھے؟ یہ سوال انتہائی قابل غور اور تفصیل طلب ہے جس نے ہمیں ایک اصولی بنیادوں پر قائم ایک یکتا نظریاتی امّت سے علاقائی ثقافتی قوم میں‘ اور مستقبل بندی(Futuristic)   سے آباء پرستی یا ماضی وابستگی(Past-Attachment) کے کفر میں تبدیل کردیا(الزخرف: ۴۲۔۳۲، ۱۷۱۔۰۷۱، المؤمنون: ۳۵۔۲۵)۔ اس کے جواب کی تلاش کی جزوی ابتدا ء سیدمودودی کی ”خلافت و ملوکیت“ کتاب تھی۔ صحیح راستہ کی شناخت کیلئے اُس Diversion and Turning Point  کی شناخت اور درست تفہیم ضروری ہے تاکہ مستقبل کے صحیح راستہ کی تعیین ممکن ہو۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے سابقہ اقوام کے  Diversions and Turning Points  کو مستقبل کی تبدیلی کیلئے قرآن نے وقت کے مصلحین کو بالتفصیل بتایا۔ اسکی ابتدائی کوشش ”خلافت و ملوکیت“ کو آگے بڑھاکر دوسرے ادوار تک توسیع دینا اور انکا اصولی قرآنی محاکمہ کرنا‘ مستقبل کے صحیح راستہ کی تعیین ہے۔ اِس Futuristic کوشش کو اُسوقت بھی”آباء پرست“ (Past-Attached/Anti-Future) معاشروں نے ”زبردست جارحانہ کفر“ قرار دیا تھااور مسلم قوم کا آج‘ اور آج کے مطابق مستقبل میں بھی یہی قومی رویہ ہوگا (الفرقان: ۴۴، الزخرف: ۴۲۔۳۲، البقرۃ: ۱۹، ۱۷۱۔۰۷۱)۔ کیونکہ اپنی آج کی روش کو قومی ذہن اور اسکی سماجی نفسیات ہمیشہ درست اور ہر عہد سے اعلی مانتی ہے (کل حزب بما لدیہم فرحون۔المؤمنون:۳۵) اسلئے سمجھے جارہے تقاضے کیا واقعی تقاضے ہیں؟ یہ آباء پرست قوم کیلئے سمجھنا اور تاریخی  Diversions and Turning Points کی اصولی و آزاد تفہیم کے بنا ممکن ہی نہیں۔ اسی کی جزوی کوشش ”خلافت و ملوکیت“ کتاب تھی جو ایک سلسلہ وار بحث کا مجموعہ ہے۔ وہ ماضی کی محض تحقیق نہیں بلکہ ’کفر و آباء پرستی(الزخرف:۴۲۔۳۲، البقرۃ: ۱۹)سے ایمان (اعتراف ِ حقائق، اصول پسندی)کی طرف رجوع کی دعوت تھی۔مستقبل میں بقا کیلئے ایک دور تک محدود اس جزوی کوشش کو آگے بڑھاکر دوسرے ادوار تک توسیع دینا اسلئے بھی ضروری ہے تاکہ حال کے قومی و معاشرتی،انفرادی و اجتماعی تمام امراض؛ غیر فطری عوامل، مستقبل مخالف مزاج، فکر اور رویہ کی درست تعیین و تشخیص ممکن ہو۔ شاید یہی قرآن کی اصطلاح ”اصلاح“ ہے۔ یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے قرآن نے یہودیوں کے تاریخی مذہبی فساد کا اصولی تفصیلی جائزہ پیش کیا۔ مسلم قوم کے اندر ماضی اور حال کے لا تعداد سانحات و واقعات کا سلسلہ وار بنیادی محاکمہ نہ کئے جانے کی وجہ سے ہی آج مسلم فکر اور نفسیاتی رویہ    (Psycho Behaviour) کی یہ صورتحال ہیکہ اُسکے ایسے سارے قومی مسائل، اختلافات اور تنازعات جنکے لئے مسلم تاریخ میں خونی جنگیں ہوئیں، صدیوں بعد جن سے مسلم قوم آج بھی نبرد آزما ہے اور مسلم قوم پندرہ سو سالوں میں ایسے تمام متعدی مہلک اختلافات، تنازعات اور تاریخی مسائل کا کوئی جزوی حل تک پیدا نہیں کرسکی‘ جنکے باقی رہتے فطری طور پر تیزی سے ارتقاء پذیر انسانی مستقبل کیساتھ مسلم قومی کی ہم آہنگی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ___ایسے تمام بڑے مسائل و اختلافات دیگر اقوام میں محض باہمی مذاکرات   (Table Discussions) کے ذریعہ ایک مختصر مدت میں حل کرلئے جاتے ہیں۔کیلئے اُس Diversion and Turning Point  کی شناخت اور درست تفہیم ضروری ہے تاکہ مستقبل کے صحیح راستہ کی تعیین ممکن ہو۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے سابقہ اقوام کے  Diversions and Turning Points  کو مستقبل کی تبدیلی کیلئے قرآن نے وقت کے مصلحین کو بالتفصیل بتایا۔ اسکی ابتدائی کوشش ”خلافت و ملوکیت“ کو آگے بڑھاکر دوسرے ادوار تک توسیع دینا اور انکا اصولی قرآنی محاکمہ کرنا‘ مستقبل کے صحیح راستہ کی تعیین ہے۔ اِس Futuristic کوشش کو اُسوقت بھی”آباء پرست“ (Past-Attached/Anti-Future) معاشروں نے ”زبردست جارحانہ کفر“ قرار دیا تھااور مسلم قوم کا آج‘ اور آج کے مطابق مستقبل میں بھی یہی قومی رویہ ہوگا (الفرقان: ۴۴، الزخرف: ۴۲۔۳۲، البقرۃ: ۱۹، ۱۷۱۔۰۷۱)۔ کیونکہ اپنی آج کی روش کو قومی ذہن اور اسکی سماجی نفسیات ہمیشہ درست اور ہر عہد سے اعلی مانتی ہے (کل حزب بما لدیہم فرحون۔المؤمنون:۳۵) اسلئے سمجھے جارہے تقاضے کیا واقعی تقاضے ہیں؟ یہ آباء پرست قوم کیلئے سمجھنا اور تاریخی  Diversions and Turning Points کی اصولی و آزاد تفہیم کے بنا ممکن ہی نہیں۔ اسی کی جزوی کوشش ”خلافت و ملوکیت“ کتاب تھی جو ایک سلسلہ وار بحث کا مجموعہ ہے۔ وہ ماضی کی محض تحقیق نہیں بلکہ ’کفر و آباء پرستی(الزخرف:۴۲۔۳۲، البقرۃ: ۱۹)سے ایمان (اعتراف ِ حقائق، اصول پسندی)کی طرف رجوع کی دعوت تھی۔مستقبل میں بقا کیلئے ایک دور تک محدود اس جزوی کوشش کو آگے بڑھاکر دوسرے ادوار تک توسیع دینا اسلئے بھی ضروری ہے تاکہ حال کے قومی و معاشرتی،انفرادی و اجتماعی تمام امراض؛ غیر فطری عوامل، مستقبل مخالف مزاج، فکر اور رویہ کی درست تعیین و تشخیص ممکن ہو۔ شاید یہی قرآن کی اصطلاح ”اصلاح“ ہے۔ یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے قرآن نے یہودیوں کے تاریخی مذہبی فساد کا اصولی تفصیلی جائزہ پیش کیا۔ مسلم قوم کے اندر ماضی اور حال کے لا تعداد سانحات و واقعات کا سلسلہ وار بنیادی محاکمہ نہ کئے جانے کی وجہ سے ہی آج مسلم فکر اور نفسیاتی رویہ    (Psycho Behaviour) کی یہ صورتحال ہیکہ اُسکے ایسے سارے قومی مسائل، اختلافات اور تنازعات جنکے لئے مسلم تاریخ میں خونی جنگیں ہوئیں، صدیوں بعد جن سے مسلم قوم آج بھی نبرد آزما ہے اور مسلم قوم پندرہ سو سالوں میں ایسے تمام متعدی مہلک اختلافات، تنازعات اور تاریخی مسائل کا کوئی جزوی حل تک پیدا نہیں کرسکی‘ جنکے باقی رہتے فطری طور پر تیزی سے ارتقاء پذیر انسانی مستقبل کیساتھ مسلم قومی کی ہم آہنگی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ___ایسے تمام بڑے مسائل و اختلافات دیگر اقوام میں محض باہمی مذاکرات   (Table Discussions) کے ذریعہ ایک مختصر مدت میں حل کرلئے جاتے ہیں۔ مسلم قوم کے اندر ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ وہ پوری طرح مستقبل وابستہ ہونے کیلئے ماضی اور حال کے تمام مستقبل کیلئے متعدی اور مہلک واقعات و سانحات کو قومی توارثی طور پر نقل کرنے کے بجائے انکا اصولی محاکمہ کرتی اور جو نتائج برآمد ہوتے انکو پوری جرأت و حوصلہ کیساتھ اعتراف کرتی‘بلکہ بَینَ الاقوام انکو از خود پیش کرنے کے جرأت و حوصلہ کا مظاہرہ کرتی۔ لیکن طویل عرصہ تک ”آباء پرستی“ یعنی مستقبل میں بقا کیلئے ماضی کے واقعات و سانحات کے تاریخی اصولی محاکمہ کے بجائے انکے تعلق سے مکمل سکوت اور ان سے متعدی وابستگی  ) (Anti-Future/Past Attachmentکا رویہ اپنانے کی وجہ سے آج مسلم قومی فکر ایک ایسے مخمصہ میں مبتلا ہوگئی ہے کہ وہ ماضی قریب، ماضی بعید اور حال کے اپنے اندرونی کسی بھی سانحہ، واقعہ یا دیگر اقوام کیساتھ منفی تعامل کے تعلق سے حق بولنے، حق ماننے اور حق کہنے (تواصی بالحق و تواصی بالصبر۔العصر) کا حوصلہ وجرأت ہی کھو چکی ہے(البقرۃ: ۱۹، ۱۷۱۔۰۷۱) جبکہ اسلام‘نبی، صحابہ اور مسلمانوں کے شخصی،علاقائی و اسٹراٹجک اور قومی مفادات و تحفظات کی بھی کوئی پرواہ نہیں کرتا۔ خود نبی پر اسلام نے اپنی اصولی بقا کیلئے اسطرح تبصرہ کیا؛ ”ولو تقول علینا بعض الاقاویل، لأخذنا منہ بالیمین، ثم لقطعنا منہ الوتین، فما منکم من احدِِ عنہ حاجزین“ (الحاقۃ: ۷۴۔۴۴)۔ ماضی کیساتھ تقدیسی وابستگی منطقی طور پرعام انسانی مستقبل کے تعلق سے   Counter Production  ہے۔  چنانچہ مستقبل کا عام انسانی سطح پر اصولی جائزہ لیا جائے تو ماضی کیساتھ تقدیسی وابستگی اور اسکا اصولی محاکمہ نہ کئے جانے وجہ سے مسلم قوم کی ’بَینَ الاقوام منفی فکر‘ (Communal Violence, Communal Attitude or Anti- Future Behaviour in a Futuristic Human World)ایک تیزی سے خود کار اور فطری طور پر ارتقاء پذیر مستقبل میں ایسی بیماری   (Factor) ہے جس نے پوری قوم کو مستقبل مخالف   (Anti-Future) بناکر عام انسانی دنیا میں نتائج کے لحاظ سے  Counterproductive بنادیا ہے۔ جبکہ مستقبل میں وہی افکار اور اقوام باقی رہتی ہیں جو ہر سطح پر   Futuristic/Towards the Future ہوں۔ چنانچہ انبیاء کی دعوت بنیادی طور پر مستقبل کی طرف دعوت ہوتی ہی کہ ’اپنے افکار، رویہ، نفسیات، طبع، مزاج اور اعمال کو  Futuristic بنائیں۔ جبکہ مخالفینِ انبیاء بنیادی طور پر مستقبل مخالف ہوکر انبیاء کی  Towards the Future دعوت میں پوری طرح  Counterproductive ہوتے ہیں‘ (الزخرف: ۴۲۔۳۲، البقرۃ: ۱۷۱۔۰۷۱، ۱۹)۔ اسلئے دین اسلام بجائے خود ”دینِ آخرۃ“ [DEEN-E-FUTURE]    ہے۔مستقبل_وقت _حقیقت: وقت جسکی بنیادی اہمیت اور امتیازی ضرورت و شناخت عمل کی دنیا میں صرف اور صرف مستقبل سے ہے۔ ماضی وقت نہیں بلکہ وقت کے نشانات اور وہ راستہ ہے جس سے وقت گزر گیا۔ وقت بنیادی طور پر ایک متحرک اور فعال شئی ہے بلکہ حرکیت اور فعالیت کی بنیاد اور مرکز ہے۔چنانچہ وقت اور مستقبل عالم رنگ و بو میں ایک ہی شئی ہے چنانچہ مستقبل کی طرف بدلتا ہوا، جھکتا ہوا، بڑھتا ہوا ہر لمحہ ایک تبدّل اور تغیّر پذیر حقیقت وقت ہی ہے جو اپنے ساتھ لا تعداد مخلوقات، حرکات و سکنات، ماحولیات، احوال و کوائف کے ساتھ مستقبل کی جانب تیزی سے گامزن بدلتا جا رہا ہے، جھکتا جا رہا ہے، بڑھتا جا رہا ہے۔ یہی وہ پیمانہ ہے جو اس تغیّر پذیر اور تبدّل پذیر ہمہ جہت کیفیت میں طے کرتا ہے کہ کون سی وہ افرادی قوتیں ہیں، وہ اعمال ہیں وہ حرکات ہیں جو مستقبل کا حصہ ہیں،اور مستقبل کو اپنا مرکب بنائے ہوئے ہیں اور اس کے برعکس وہ کونسی افرادی قوتیں،اعمال وحرکات ہیں جو خاتمہ کے قریب یا ختم ہیں جو پو یلین واپس ہو گئی ہیں، ٹھہر گئی ہیں، منجمد ہو گئی ہیں یہاں تک کہ  Counterproductiveہیں۔ ظاہر ہے وہ وقت یعنی حقیقت کے پیمانہ پر نہ اعمال ہیں نہ حرکات۔ چنانچہ انکی افرادی قوّت کا عدم یا وجود در حقیقت عدم ہی ٹھہرا۔ سے وقت گزر گیا۔ وقت بنیادی طور پر ایک متحرک اور فعال شئی ہے بلکہ حرکیت اور فعالیت کی بنیاد اور مرکز ہے۔چنانچہ وقت اور مستقبل عالم رنگ و بو میں ایک ہی شئی ہے چنانچہ مستقبل کی طرف بدلتا ہوا، جھکتا ہوا، بڑھتا ہوا ہر لمحہ ایک تبدّل اور تغیّر پذیر حقیقت وقت ہی ہے جو اپنے ساتھ لا تعداد مخلوقات، حرکات و سکنات، ماحولیات، احوال و کوائف کے ساتھ مستقبل کی جانب تیزی سے گامزن بدلتا جا رہا ہے، جھکتا جا رہا ہے، بڑھتا جا رہا ہے۔ یہی وہ پیمانہ ہے جو اس تغیّر پذیر اور تبدّل پذیر ہمہ جہت کیفیت میں طے کرتا ہے کہ کون سی وہ افرادی قوتیں ہیں، وہ اعمال ہیں وہ حرکات ہیں جو مستقبل کا حصہ ہیں،اور مستقبل کو اپنا مرکب بنائے ہوئے ہیں اور اس کے برعکس وہ کونسی افرادی قوتیں،اعمال وحرکات ہیں جو خاتمہ کے قریب یا ختم ہیں جو پو یلین واپس ہو گئی ہیں، ٹھہر گئی ہیں، منجمد ہو گئی ہیں یہاں تک کہ  Counterproductiveہیں۔ ظاہر ہے وہ وقت یعنی حقیقت کے پیمانہ پر نہ اعمال ہیں نہ حرکات۔ چنانچہ انکی افرادی قوّت کا عدم یا وجود در حقیقت عدم ہی ٹھہرا۔  چنانچہ اس مذکور واقعی اور حقیقی پیمانہ سے مسلم قوم کی جو صورتحال سابقہ سطور میں مذکور اسکی مستقبل بینی، مستقبل بندی اور مستقبل میں بقا کی کوشش اور انسانی معاشرہ میں مستقبل کے تعلق سے جاری بنیادی تبدیلی کی کوششوں اور سانحات و واقعات اورحادثات کی اس دنیا میں ہمہ دم و قوع پذیر کسی بھی نئے سانحہ میں اسکے تدارک، انسداد اور تعمیری انداز سے ذیلی مقاصد کے حصول کی کوششوں یا عبوری کوششوں میں جیسا کہ تفصیل کے ساتھ عرض کیا گیا معطّل، منجمد اور اجنبی حتی کہ نتیجۃً مخالفانہ رویہ ____اس حقیقت کو بیان کر رہا ہے کہ وقت کے پیمانہ پر یہ قوم اور اسکی تمام حرکات و اعمال کشمکش و مسابقت کی اس دنیا میں ایک ”خواب“ہیں۔ جو آنکھ کھلتے ہی ابدی طور پر ایک معدوم شئی ہے۔ چونکہ اس سے وقت کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ ایک شخص پانچ منٹ کے خواب میں ایک دن، ہفتہ یا مہینہ گزار دیتا ہے یا میلوں مسافت طے کر کر دوسرے ملک میں پہنچ جاتا ہے اور آنکھ کھلتے ہی سب عدم ہے۔ چونکہ اس کا اسکی زندگی سے نا تعلق ہوتا ہے نا اس پر اسکے کوئی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ بلکہ جو افراد اسکو اہمیت دیتے ہوئے خوابوں سے متاثر ہو کر اپنی زندگی بدلنے لگتے ہیں ان سے وابستہ ہوکربے عملی کا شکار ہو جاتے ہیں اور زندگی کی منصوبہ بندی اور کوششوں کا رخ خوابوں کی بنیاد پر بدل ڈالتے ہیں وہ سابقہ کوششوں سے بھی بدتر حالت میں پہنچ کر ناکام و نا مراد ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ انکی زندگی بجائے خود ایک خواب بن جاتی ہے اور انکی ہر کوشش و حرکت ایک ناکام آرزو کی عملی تصویر بن کر ایک خواب ہو جاتی ہے۔ چنانچہ مسلم قومی فکر اور اسکا ہر رویہ، اعمال و مشاغل ”

مستقبل ___وقت___ حقیقت“جو ہر آن جاری ہے کی نگاہ میں معطل، منجمد، اجنبی یعنی غیر مؤثر ہونے کے سبب ایک خواب ہے۔ اور اگر اس خواب کے اثرات اسکی انسانی زندگی پر مرتب ہوں جیسا کہ قوم کی اجتماعی حیویت پر مرتب ہو رہے ہیں بلکہ اسے بدل چکے ہیں تو اب اُس خواب کو اپنی زندگی پر مؤثر بنانے والے شخص کی زندگی کی طرح اس قوم کے اعمال ہر سابقہ یا موجودہ عمل، رویہ،فکر،مستقبل بینی اور بقاکی کوششیں سابقہ حالت سے بد سے بدتر حالت میں بدل کر مستقبل میں بقا مخالف یا جاری تبدیلی کی کوششوں میں قومی مخالف ہونے کے سبب مستقبل مخالف   Anti Futureہیں۔ اور جیسے جیسے ماضی کا حجم بڑھتا جا رہا ہے ویسے ویسے رؤیائی طبیعت روز بروز تعطل اور انجماد کے غیر متحرک رویہ سے انسانی تغیّر پذیر معاشرہ میں مخالفانہ رویہ اور کردار میں بدلکر متعدّی ناسور بنتی جا رہی ہے۔ اور انسانی بحالی کی کوششوں میں ایک بڑی رکاوٹ بنتی جا رہی ہے۔ اور ایک وقت وہ آئیگا جب پوری قوم انسانی بحالی کی کوششوں میں ساتویں صدی عیسوی میں سابقہ منتخبہ اقوام کی طرح سب سے بڑی رکاوٹ بن کر کھڑی ہو جائیگی۔ جسکے بھیانک تصور ہی سے ہول آتا ہے۔چنانچہ بحالی انسانیت کے منصب پرفائز ہو چکے یا ہونے جا رہے دیگر انسانی گروہ  اور ان کے سابقہ منصب پر فائز ہو چکی یا ہونے جا رہی مسلم قوم ایک زبردست کا ؤنٹر تصادم کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ اس کا سبب متضاد فکری تشخص سے دو چار اصول و نظریات سے دور قومی بنیاد پر متصادم رویہ ہے۔  یہ تبدیلی حرف ایکس (X)کے عین مطابق ہے۔ ایکس کی مساویانہ افقی تقسیم کر دی جائے تو یہ دو مثلثی تقسیم ایک نچلے حصہ کو ایکس وَن(x1) جبکہ اوپری دوسرے حصہ ایکس ٹو (x2)بنا دیگی۔ واضح رہے کہ ایک اور دو نیو مرک ہیں اور ناہی ایکس الفا بیٹیکل ہے۔ بلکہ یہ ایک حقیقت ’منصبی تبدیلی کے مکمل ادوار و کیفیات کے فکری، ذہنی، نفسیاتی و اجتماعی منہج‘ (Process)کی مکمل تاریخی نشاندہی ہے۔ چنانچہ مسلم قوم ایکس ٹو کو جو ایک واقعاتی سائنٹفک حقیقت ہے کبھی قبول نہیں کریگی۔ چنانچہ صورتحال ایکس وَن کی طرحتبدیلیِ گروہ کے ساتھ جوں کی توں ہے۔ بھلے ہی ڈیڑھ ہزار سال گزر جائیں۔ یہ وہ ہی صورتحال ہے جو ساتویں صدی عیسویں میں برپا تھی۔ (المؤمنون: ۳۴۔۲۴، الاعراف: ۴۳،  یونس: ۹۴، المؤمنون: ۱۳، محمد: ۸۳، المائدۃ؛ ۴۵) مستقبل میں بقا: آبائئ پرستی، ماضی وابستگی، جہالت اور تعطّل سے نکل کر حیات، بحالی، علم و اصول…… یعنی مستقبل وابستگی   (Towards the Future)کو اپنا نے اور اپنا رویہ، مزاج، فکر اور اجتماعی نفسیات کو فطرت سے ہم آہنگ کرکے مستقبل کا حصہ بننے اور مستقبل کی بحالی و بقا کی کی جا رہی تبدیلی کی موجودہ قابلِ عمل سائنٹفک عام انسانی کو ششوں سے خوف، اجنبیت اور قومی مخالفانہ رویہ اپنانے کے بجائے تعمیری انداز سے اس کا حصہ بننے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ موجودہ ’قومی خوش فہمی اور قومی فضیلت یا آباء پرستی‘ کا تصور ہے۔ جو مذکورہ قومی منفی سلبی فکر، رویہ، مزاج اور اجتماعی نفسیات کی بنیاد ہے۔ علم و اصول سے دور،جہالت و قومیت اور عصبیت کے دلدل کی گہرائیوں میں دبانے والے مسلمانوں کے سب سے بڑے نفسیاتی مہلک مرض   ’قومی خوش فہمی اور قومی فضیلت یا آباء پرستی‘ کی مسلمانوں کے اندر دیگر اقوام کی طرح عوامی تفہیم ضروری ہے۔ جسکے ذریعے رجوع کے قلیل مدتی امکانات پیدا ہوں اور راستے واہوں۔ہمارا قومیت وعصبیت سے رجوع در حقیقت منطقی طور پر جمود و تعطل یعنی ماضی کی قوم سے حرکت و عمل یعنی مستقبل میں بقا کی طرف رجوع ہے۔ چنانچہ یہ موت سے حیات کی طرف واپسی ہے۔ اور جہالت یعنی ماضی میں جینے کے بجائے علم یعنی مستقبل بینی اور مستقبل کی ضروریات کے حصول کی طرف رجوع ہے۔ چنانچہ یہ رجوع مستقبل میں انسانی بحالی کیلئے فطری سائنٹفک کوششوں سے اجنبیت و خوف کے بجائے مانوسیت اور اسکی طرف رجوع ہے۔مسلمانوں کے سب سے بڑے نفسیاتی مہلک مرض   ’قومی خوش فہمی اور قومی فضیلت یا آباء پرستی‘ کی مسلمانوں کے اندر دیگر اقوام کی طرح عوامی تفہیم ضروری ہے۔ جسکے ذریعے رجوع کے قلیل مدتی امکانات پیدا ہوں اور راستے واہوں۔ہمارا قومیت وعصبیت سے رجوع در حقیقت منطقی طور پر جمود و تعطل یعنی ماضی کی قوم سے حرکت و عمل یعنی مستقبل میں بقا کی طرف رجوع ہے۔ چنانچہ یہ موت سے حیات کی طرف واپسی ہے۔ اور جہالت یعنی ماضی میں جینے کے بجائے علم یعنی مستقبل بینی اور مستقبل کی ضروریات کے حصول کی طرف رجوع ہے۔ چنانچہ یہ رجوع مستقبل میں انسانی بحالی کیلئے فطری سائنٹفک کوششوں سے اجنبیت و خوف کے بجائے مانوسیت اور اسکی طرف رجوع ہے۔  لیکن تاریخ میں وہی اقوام باقی رہتی ہیں جو فطری طور پر تغیرپذیر اور تبدیل شدہ احوال کے ساتھ ہم آہنگ رہتی ہیں اور پیش آمد ضروریات و وسائل کو فراہم کرتی ہیں۔ تبدیل شدہ احوال سے گھبرا کر خوف واجنبیت کے سائے میں فرار کی روش کے بجائے اسکے حساب سے علمی استعداد اور ضروریات پوری کرتی ہیں۔جسکے لئے اندرونی ”اصلاح“ ضروری ہے یعنی تمام مہلک امراض،قومی اور عصبیت پر مبنی رویہ، مزاج اور فکرکی اصلاح اوران تمام ماضی کے واقعات و سانحات جن کی بنیاد اصول و علم کے بجائے قومیت اور نسلی، گروہی و علاقائی یا مذہبی عصبیت پر ہو کی تائید یا اس پرفخر کے بجائے اسے اپنی تاریخ کا ایک  Fatalتسلیم کرتے ہوئے مستقبل میں اسکے تدارک اور حفظ ما تقدم کے طور پر انسداد کی ہمہ گیراجتماعی کوششیں کرتی ہیں۔ ظاہر ہے یہ اسی وقت ممکن ہے جب ’اعتراف حقیقت(ایمان)‘ انسانی رویہ میں پایا جائے۔ چنانچہ جو قوم     اعتراف حقائق(ایمان) کے بجائے ’قومی و آبائی فخر و تائید(کفر)‘ کار رویہ اپناتی ہے وہ کبھی تاریخ میں باقی نہیں رہتی چہ جائے کہ اسکے کسی تبدیلی یا مستقبل میں رول کا تصور کیا جائے۔ چنانچہ ہمیں برادران وطن اور دیگر اقوام کی جانب سے کی جا رہی یا ماضی میں کی جا چکی خود ساختہ، خود پسند،خود پرست، مفاد پرست، عصبیت پرست، آباء پرست پہلی قسم کی قیادت   [Physical, Timed…] سے آزادی حاصل کرنے کی ٹھوس، بنیادی، نفسیاتی اور خالص سائنٹیفک قسم کی کوششوں اور اسی قبیل کی دیگر سیاسی، سماجی، تمدنی، تدریجی اورادارہ جاتی کوششوں کا درست شعور اور اعتراف کرتے ہوئے خود کو اس سے ہم آہنگ کرنا، اسکو اپنانا اور اس کا حصہ بنناہوگا۔یہی وقت کا فیصلہ، مستقبل کاآئینہ اور حقیقت کی صدا ہے۔

مقالہ نگار:  یاسر محمودتاریخ: ۶/اپریل ۵۱۰۲    کانفرنس:”امّت مسلمہ کا فکری بحران: روایتی طرز فکر کا محاکمہ“ علی گڑھ)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close